اہم ترین خبریںپاکستان

ملک کی 70فیصد سے زائد آبادی ذہنی انتشار میں مبتلا ہے، علامہ سید ساجدعلی نقوی

آج اشیائے خورونوش سے لے کر بنیادی سہولیات و حقوق تک عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، کہنے کو ملک کے مالک و مختار عوام کی حالت نانِ شبینہ سے بھی آگے جاپہنچی ہے

شیعت نیوز: شیعہ علماءکونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، کہنے کو عوام ملک کی تقدیر کے مالک اور اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں مگر ایسا محسوس ہورہاہے جیسے ان مالکوں کے پاس اختیار تو دور کی بات، حال نانِ شبینہ سے بھی آگے ، یہ ملک صحیح معنوں میں فلاحی جمہوری ریاست کےلئے معرض وجود میں آیا تھا، افسوس یہاں دلکش نعروں کے سوا عوام کو کچھ حاصل نہ ہوسکا بلکہ بنیادی آزادیاں تک سلب کرلی گئیں، کہنے کی حد تک آئین وقانون موجود مگر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا، جنہیں عوام نے امیدوں کے ساتھ منتخب کیا وہ بھی بے بسی میں ٹام ٹوئیاںمارنے کے سوا کچھ نہ کرسکے ۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ کی شیعہ وائس چانسلر کےخلاف نفرت انگیز مہم ، ریاست تماشائی

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ کہنے کو عوام اس ملک کے مالک و مختار ،حق حکمرانی سے طرز زندگانی تک سب کچھ انہی کے اختیار میں ہے مگر افسوس جس عزم کے ساتھ تحریک آزادی اور پھر 47ءکے وقت آگے بڑھاگیا تھا وہ 50ءکی دہائی میں ہی کہیں دبادیاگیااورگھٹن زدہ ماحول پیدا کرتے ہوئے شہری آزادیاں تک سلب کرلی گئیں، آج اشیائے خورونوش سے لے کر بنیادی سہولیات و حقوق تک عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، کہنے کو ملک کے مالک و مختار عوام کی حالت نانِ شبینہ سے بھی آگے جاپہنچی ہے، ایسی حالت میں ملک کی 70فیصد سے زائد آبادی ذہنی انتشار میں مبتلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قتل و غارت، ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتیں قانون کی عمل داری پر سوالیہ نشان ہیں،علامہ باقر زیدی

انہوں نے کہاکہ جس ملک کو فلاحی ریاست کی تجربہ گاہ بنانا تھا اسے فلاحی قوانین کی بجائے جبر، آمریت، سرمایہ داریت اور افسوس کے ساتھ سامراجیت کی تجربہ گاہ بنادیاگیا ، اقتدار کو طول دینے کےلئے کبھی اسلامی نظام کانعرہ لگادیاگیا اور کبھی عوامی حقوق کی بات دہرائی گئی لیکن عوام کو دلکش نعروں کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا، کہنے کی حد تک آئین و قانون موجود مگر عملدرآمد کا شدید فقدان، عوام مقننہ و منتظمہ و عدلیہ کی طرف دیکھتے رہے مگر ان کی حالت بدلنے پر کوئی توجہ نہ دی گئی، یہا ں تک کہ جنہیں عوام نے بڑی امیدوں کے ساتھ منتخب کیا، وہ بھی بے بسی میں ٹامک ٹوئیاں ہی مارتے رہے، جب صورتحال اس نہج پر پہنچ جائے تویہ تشویشناک امرکی نشاندہی کرتی ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close