اہم ترین خبریںپاکستان

مذہبی ومسلکی ہم آہنگی کیلئےمروجہ قوانین پر نیک نیتی سے عملدرآمد کرایا جائے،ترجمان علامہ ساجد نقوی

ترجمان کا کہنا ہے کہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے ہمیشہ قومی اور ملی پلیٹ فارمز پر یہ بات باور کرائی کہ نئی قانون سازی کی قطعاً ضرورت نہیں بلکہ مسلکی ہم آہنگی کے ساتھ فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے پہلے سے مروجہ قوانین پر نیک نیتی سے عملدرآمد کرایا جائے، جو فرقہ واریت کے خاتمے کا اصل حل ہے۔

شیعیت نیوز: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے ترجمان زاہد علی آخونزادہ نے کہا ہے کہ ملک میں مذہبی و مسلکی ہم آہنگی کیلئے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں بلکہ ان مسائل کا حل مروجہ قوانین پر عملدرآمد میں مضمر ہے جبکہ مروجہ قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی سے نئے شاخسانے جنم لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مسائل کے بڑھنے کی وجہ قانون پر عملدرآمد نہ ہونا ہے، اسی لیے سنجیدہ فکر کی حامل شخصیات بھی نئے نئے قوانین کی بجائے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی قائل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اس بیان پر جس میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے نئی قانون سازی کا عندیہ دیا گیا تھا، پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے ہمیشہ قومی اور ملی پلیٹ فارمز پر یہ بات باور کرائی کہ نئی قانون سازی کی قطعاً ضرورت نہیں بلکہ مسلکی ہم آہنگی کے ساتھ فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے پہلے سے مروجہ قوانین پر نیک نیتی سے عملدرآمد کرایا جائے، جو فرقہ واریت کے خاتمے کا اصل حل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مفتی منیب الرحمان مخصوص ایجنڈے کے تحت ملک میں فرقہ واریت پھیلا رہا ہے، علماءومشائخ اہل سنت

انہوں مزید کہا کہ علامہ ساجد نقوی واضح کرچکے ہیں کہ اگر ملک میں صحیح معنوں میں قانون کی حکمرانی قائم کی جاتی تو آئے روز انتہاء پسندی، فرقہ واریت، شہری حقوق کی پامالیوں اور اجتماعی زیادتیوں سمیت کھلی نا انصافیوں جیسے واقعات منظر عام پر نہ آتے، کیونکہ مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں ایسے کیسسز کی صحیح سمت میں تحقیقات ہوئیں نہ ہی استغاثہ کا عمل صحیح انداز میں انجام پایا، جس کے باعث مجرم عدالتوں سے چند لمحوں میں رہا ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: اب کوئی کسی کو کافرقرارنہیں دےسکتا، شیعہ سنی علماءکے 20نکاتی ضابطہ اخلاق پر دستخط

ترجمان کا کہنا تھا کہ ملکی اسکالرز اور سنجیدہ فکر شخصیات کی رائے بھی نئی قانون سازی کے حق میں نہیں اور قانون دان طبقہ بھی مروجہ قوانین پر عملدرآمد پر زور دے رہا ہے، اس ضمن میں انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک سابق جج کے حالیہ ایک بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسائل کا حل صرف نئے نئے قوانین بنانے میں نہیں بلکہ مروجہ قوانین پر عملدرآمد میں ہے، کیونکہ بقول ان کے کہ اگر صرف نئے قوانین سے مسائل حل ہوتے تو آج مقدمات کے انبار نہ لگے ہوتے، جس کے باعث مختلف مسائل نے جنم لیا، اس لئے قانون کی حکمرانی کے لئے میرٹ پر ججز اور پولیس افسران کے تقرر سمیت عدالت کو ہر معاملے پر مقدم رکھا جائے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close