دنیا

سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف امریکہ کا نیا پروپیگنڈہ

شیعت نیوز: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی مندوب نے ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ایک بار پھر تہران کے خلاف اپنے بے بنیاد دعوؤں کو دہرایا ہے۔

یمن کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نمائندے کیلی کرافٹ نےدعوی کیا کہ سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات پر ہوئے حملے میں ایران ملوث تھا۔

یہ بھی پڑھیں : آل سعود حکومت فلسطین کی بربادی میں امریکہ و اسرائیل کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔

کیلی کرافٹ نے ایران کے خلاف اپنے بےبنیاد عوؤں کو دہراتے ہوئے ایران پر محصور یمن میں ہتھیار بھیجنے کا الزام لگایا۔

حالیہ چند مہینوں میں سعودی عرب نے امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر آرامکو آئل تنصیبات پر یمن کے ڈرون حملے میں ایران کو ملوث ٹھہرانے کی کوشش کرتا رہا ہے جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف سعودی عرب کے اس قسم کے الزامات کا مقصد یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ہاتھوں اپنی ناکامیوں پردہ ڈالنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران کا ہاتھ نہیں: اقوام متحدہ

یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے فضائی یونٹ نےگذشتہ کئی سال سے جاری سعودی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے خود اپنے بنائے ہوئے دس ڈرون طیاروں سے چودہ ستمبر دوہزار انیس کو سعودی عرب کی آرامکو آئل کمپنی کی دو رفائنریوں بقیق اور خریص پر بم برسائے تھے۔

یمنی فوج کی اس کارروائی کے بعد سعودی عرب اور امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے بےبنیاد الزامات کو دہراتے ہوئے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات کے خلاف یمنی فوج کی ڈرون کارروائیوں میں تہران ملوث رہا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کے دعوے ایسے عالم میں سامنے آرہے ہیں کہ یمن کی مسلح افواج نے ایک بیان جاری کر کے اس حملے کی ذمہ داری خود قبول کی تھی ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close