مشرق وسطی

یمن کے بحران کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے

شیعت نیوز:سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے کہا ہے کہ سوڈان نے یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ میں شریک سوڈانی فوجیوں کو یمن سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوڈانی وزیر اعظم نے کہا کہ یمن پر مسلط کردہ جنگ میں شرکت کا فیصلہ گذشتہ حکومت کا تھا اور سوڈان کی موجودہ حکومت نے یمن سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سوڈان کے وزیراعظم نے کہا کہ یمن کے بحران کا راہ حل فوجی اور عسکری نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات کے ذریعہ ممکن ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔

سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close