سعودی عرب

سعودی عرب: عسیر میں احتجاجی مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ ، 9 ہلاک و زخمی

شیعت نیوز: سعودی عرب کے جنوبی مغربی علاقے عسیر کی الامواہ نامی کمشنری میں کورونا وائرس سے متعلق سعودی حکومت کی ناکام پالیسز پر احتجاج کرنے والوں پر سعودی پولیس نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے 6 شہری ہلاک جبکہ 3 زخمی ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کو قابو کرنے میں ناکام ہو گئی اور صرف امرا کو اس حوالے سے سہولتیں دی جا رہی ہے غریب طبقہ نہ صرف کورونا سے متاثر ہو رہا ہے بلکہ معاشی مشکلات کا شکار ہے جس پر سعودی عوام احتجاج کر رہے تھے تاہم بے رحم پولیس نے احتجاج کرنے والوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہمارے 6 لوگ ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں ۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس نے نہ صرف ہمارے لوگوں کو ہلاک کر دیا بلکہ لاشوں کی بے توقیری اور بے حرمتی کرتے ہوئے کئی گھنٹے لاشوں کو سٹرکوں پر پڑی رہنے دی اور کسی کو لاشوں کے قریب بھی آنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سعودی عرب کے معصوم لوگوں کے قتل عام کو رکوائے۔

یہ بھی پڑھیں : آل سعود حکام اپنے کئے کی سزا ضرور بھکتیں گے۔ حزب اللہ عراق

دوسری جانب عسیر ریجن پولیس کے ترجمان لیفٹیننٹ زید محمد الدباش نے کہا ہے کہ ’واقعہ منگل کو پیش آیا تھا انھوں نے کہا ہے’واقعہ سے متعلق تفتیش شروع کردی ہے۔ تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم زخمیوں سے ابتدائی تفتیش ہوئی ہے۔ ان کی صحت میں بہتری کا انتظار ہے‘۔ ’فائرنگ کے عوامل اور تفتیش مکمل ہوتے ہی تمام تفصیلات سے آگاہ کردیا جائے گا‘۔

یاد رہے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سرکار کی سرپرستی میں کی جاتی ہےاس کی واضح مثال ماضی قریب میں بے دردی سے قتل کیے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی ہے جنہیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اسلحہ درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ سعودی عرب میں اسلحوں پر حکومت کا کنٹرول ہونے کے باوجود سعودی شہریوں کے پاس میں بھاری مقدار میں اسلحہ موجود ہے اور وہ مختلف مواقع پر ان اسلحوں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close