یمن

سعودی عرب کے فوجی ٹھکانوں پر یمنی رضاکار فورس کے شدید حملے

شیعت نیوز: یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جنوبی سعودی عرب کے شہروں جیزان اور نجران میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر شدید حملے کرکے سعودی اتحاد کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورس نے سعودی عرب کے جنوبی شہرجیزان کےالملاحیظ علاقے میں سعودی فوج کے ٹھکانوں پر شدید حملے کئے جن کے دوران جارح سعودی فوجیوں کو بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔

نجران میں بھی یمنی فوج نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران السدیس فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔

اس درمیان یمن کے قائم مقام وزیراطلاعات و نشریات نصرالدین عامر نے کہا ہے کہ اگر متحدہ عرب امارات یمن میں دہشت گرد گروہوں کے لئے اپنی حمایت جاری رکھے گا تو پھر یمنی فوج متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر میزائلی اور ڈرون حملے کرے گی ۔

یمن کے قائم مقام وزیراطلاعات ونشریات نے کہا کہ یمن کی استقامتی فورسز نے کہ جن کے پاس جارح ملکوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سبھی آپشن موجود ہیں جارح ملکوں کے اندازوں کو غلط ثابت کرکے جنگ کا نقشہ تبدیل کردیا ہے۔

یمنی فورسز نے گذشتہ ہفتوں کے دوران جارح سعودی اتحاد کے مقابلے میں میدان جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔

دوسری جانب یمن کے جزیرہ سقطری کی بندرگاہ پر متحدہ عرب امارات اور یمن کے مفرور صدر منصورہادی سے وابستہ فوجیوں کے درمیان لڑائی کی خبریں ہیں۔

خبروں میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے وابستہ فوجیوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات یمن کے جزیرہ سقطری پر اپنا کنٹرول کرنے کی کوشش جس کے جواب میں یمن کی مستعفی حکومت سے وابستہ فورسز نے جوابی کارروائی کی اور دونوں فریقوں کے درمیان شدید جنگ ہوئی۔

متحدہ عرب امارات کی فوج نے جنوب کی علیحدگی پسند تحریک کے ساتھ جو مستعفی و مفرور صدر منصورہادی اوران کی حکومت کے خلاف ہے اتحاد کرلیا ہے ۔

یہ خبر بھی لازمی پڑھیں :جیزان میں یمنی فورسز نے سعودی عرب کے فوجی حملے کو ناکام بنا دیا

اس اتحاد نے یمن میں فوجی مراکز بھی قائم کرلئے ہیں اور جنوبی علاقوں میں ایک نام نہاد متوازی حکومت تشکیل دے دی ہے۔

یمن کا جزیرہ سقطری خلیج عدن اور بحر ھند کے درمیان واقع ہے اور یہ صومالیہ کے ساحلوں سے قریب ہے ۔ اس جزیرے پر یمن کی مستعفی حکومت کے فوجیوں کا کنٹرول تھا لیکن کچھ عرصے قبل متحدہ عرب امارات کی فوج نے اس کے بعض حصوں پر قبضہ کرلیا ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close