کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
سعودی عرب

سعودی حکومت پر تنقید کی سزا، عید الفطر کے بعد 3 مذہبی شخصیات کا سر قلم کر دیا جائیگا

قید افراد کے ایک قریبی رشتہ دار کے مطابق جلد ہی دہشتگردی کے الزام میں قید ان تینوں شخصیات کی موت کے پروانے جاری کر دیئے جائیں گے

شیعت نیوز : سعودی عرب کی ظالم و جابر حکومت کی جانب سے سعودی حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرنے والی 3 مزید مذہبی شخصیات کا عید الفطر کے بعد سر قلم کردیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق نیوز ویب سائٹ "مڈل ایسٹ آئی” کے مطابق سعودی حکام نے فیصلہ کر لیا ہے کہ سعودی عرب میں حکومت کے خلاف سیاسی بیان دینے پر سعودی جیلوں میں قید سعودی عرب کی 3 مشہور و معروف مذہبی شخصیات "سلمان العودہ”، "عوض القرنی” اور "علی العمری” کو جلد ہی بے گناہ قتل کردیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق دو حکومتی ذرائع اور قید افراد کے ایک قریبی رشتہ دار کے مطابق جلد ہی دہشتگردی کے الزام میں قید ان تینوں شخصیات کی موت کے پروانے جاری کر دیئے جائیں گے اور رمضان کے فوراً بعد ہی ان کے سر تن سے جدا کردیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ "سلمان العودہ” سعودی عرب کے مشہور علماء میں سے ایک ہیں، جنہیں 2017ء میں ٹوئٹر پر سعودی عرب کے قطر کے ساتھ مصالحہ کر لینے کا مطالبہ کرنے کے جرم میں قید کر لیا گیا تھا۔

اسی طرح "عوض القرنی” بھی اہلسنت مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک واعظ، مصنف اور یونیورسٹی کے استاد ہیں جبکہ "علی العمری” ایک معروف اینکر پرسن ہیں، جو مختلف طریقوں سے سعودی بادشاہت کی ظالمانہ پالیسیوں کی مخالفت کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان دونوں کو بھی ستمبر 2017ء میں ہی قید کیا گیا تھا۔ سعودی حکومت سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے نام منتشر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی قتل کئے گئے 37 قیدیوں جن میں سے زیادہ تر حجاز کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شیعہ مسلمان تھے، سعودی بادشاہت کی طرف سے عالمی برادری کے لئے ایک چیک تھا، جس کا مقصد عالمی برادری کی اس مسئلے کی طرف توجہ اور سیاسی قتل و غارت کی مذمت کی شدت کا اندازہ لگانا تھا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close