اہم ترین خبریںیمن

سعودیہ اور امارات امت مسلمہ کے خلاف امریکی و اسرائیلی سازش میں برابر کے شریک ہیں

شیعیت نیوز : یمنی عوامی مزاحمتی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے میلاد رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مناسبت سے پورے یمن میں منعقد ہونے والی عظیم ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو درپیش حالیہ چیلنجز اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر روشنی ڈالی ہے۔

عرب نیوز چینل المسیرہ کے مطابق سید عبدالملک الحوثی نے آج امتِ مسلمہ کو درپیش مشکلات اور خطرات سے چشم پوشی اور ان کے مقابلے میں غیر ذمہ دارانہ رویے کو ایک ایسی "حماقت” قرار دیا کہ جو انتہائی بھیانک نتائج کی حامل ہے۔ سربراہ انصاراللہ نے اپنے خطاب کے دوران عالم اسلام سمیت پوری انسانیت کو لاحق تمام مشکلات کی اصلی وجہ "الہی پیغام و تعلیمات سے انحراف” قرار دیا اور کہا کہ اس حوالے سے ہونے والی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی ناقابل مداوا برے اثرات کی حامل ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں یمن میں عید میلاد النبی ﷺ کا سب سے بڑا اجتماع

انصاراللہ یمن کے سربراہ نے اپنی گفتگو میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمن طاقتوں کے جواب میں مضبوطی اور دوٹوک موقف نہ صرف ضروری بلکہ واجب ہے اور جب تک طاغوت کے پاس وسیع وسائل موجود رہیں گے یہ مسئلہ جہاد، پائیداری اور جانثاری کی شکل میں ظاہر ہوتا رہے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر تاکید کی کہ نبوت کے دشمنوںکے سامنے یا مضبوطی و طاقت پر مبنی عمل کیا جاتا ہے جبکہ مضبوطی و طاقت پر مبنی عمل سے مراد کوئی مجرمانہ کام نہیں بلکہ اس سے مراد وہ دوٹوک موقف ہے جس کی بنیادیں ایمانی اصول پر قائم ہوں۔

یمنی رہبر انقلاب نے اپنے خطاب میں فرانس کی جانب سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے حضور کی جانے والی گستاخی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امانوئل میکرون صیہونی کٹھ پتلیوں میں سے ایک ہے جبکہ صیہونیوں نے اُسے اسلام و رسول اسلام (ص) کی توہین کی جانب موڑ رکھا ہے۔

سید عبدالملک الحوثی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مغربی حکومتیں و میڈیا جو خداوند متعال اور انبیائے الہی کی توہین کو جائز سمجھتا ہے؛ صیہونی یہودیوں کی عالمگیر سازش سے پردہ اٹھانے کے شدید مخالف ہیں کیونکہ وہ غاصب و کافر صیہونی لابی کے زیر تسلط ہیں۔ انہوں نے بعض عرب ممالک کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ کئے جانے والے دوستی معاہدوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس اقدام کو امتِ مسلمہ سے خیانت اور تمام میدانوں میں امتِ مسلمہ کے دشمنوں کے ساتھ شراکت داری سے تعبیر کیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی شاہی رژیم نے نہ صرف حرمین شریفین کے دروازے صیہونیوں پر کھول رکھے ہیں اور یمن کی مسلم عوام کو شدید ترین محاصرے میں رکھ کر دن رات ان پر حملے کر رہی ہے بلکہ اُسنے غاصب صیہونی دشمن کیخلاف دوٹوک موقف اپنانیکے جرم میں بیگناہ فلسطینیوں کو بھی اپنی جیلوں میں قید کر رکھا ہے

سید عبدالملک الحوثی نے اسرائیل کو امتِ مسملہ سمیت خطے کے امن و امان کے لئے شدید خطرہ قرار دیا اور کہا کہ سعودی، اماراتی، بحرینی اور سوڈانی حکومتیں امتِ مسلمہ کے خلاف ہونے والی امریکی و اسرائیلی سازش میں برابر کی شریک ہیں۔ انصاراللہ کے سربراہ نے آخری فتح تک جارح سعودی و اماراتی فوجی اتحاد کے سامنے بھرپور مزاحمت دکھانے کو ایک دینی و قومی فریضہ قرار دیا اور ملک کی تمام سکیورٹی فورسز کو دشمن کی نفسیاتی جنگ اور گمراہ کن پراپیگنڈے کا بھرپور مقابلہ کرنے کی نصیحت کی۔

سید عبدالملک الحوثی نے اپنے خطاب کے آخر میں یمنی وزیر کھیل "حسن زید” کی ٹارگٹ کلنگ کو ایک "وحشیانہ جرم” اور حسن زید کو وطنی آزادی کے رَستے کا شہید قرار دیا اور ملکی سکیورٹی و انٹیلیجنس فورسز کو حکم دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے مقابلے پر مبنی اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close