کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
سعودی عرب

سعودی عرب نے ایران کے آگے گھٹنے ٹیکے، صیہونی ویب سائٹ کا نیا انکشاف

شیعت نیوز؛صیہونی ویب سائٹ دبکا نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ اپنے خفیہ رابطے بڑھا دیئے ہیں اور سعودی ولیعہد پوری سنجیدگی کے ساتھ تہران سے مذاکرات کے موضوع کا جائزہ لے رہے ہیں ۔

دبکا نے صیہونی حکومت کے خفیہ شعبے کے نزدیکی ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے خلیج فارس میں جہازوں کی آمد و رفت کی سیکورٹی کے بارے میں ایران سے خفیہ رابطے بڑھا دیئے ہیں ۔

ویب سائٹ اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھتی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اب اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے اہداف، ریاض اور ابوظہبی کے اہداف کے مطابق نہیں ہیں ۔

کچھ خفیہ ذرائع نے متحدہ عرب امارات کے وفود کے حالیہ تہران دورے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے ایرانی حکام سے ملاقات میں خلیج فارس، آبنائے ہمرمز اور باب المندب میں سمندری جہازوں کی سیکورٹی کے مسئلے پر گفتگو کی ۔

متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر دبکا کو بتایا کہ اگر واشنگٹن، ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں کر رہا ہے تو ہمیں خلیج فارس میں سمندری جہازوں کی سیکورٹی کے لئے امریکی اتحاد میں شامل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ان حالات میں دفاعی طاقت بہت ہی محدود ہو جائے گی ۔

دبکا مزید لکھتی ہے کہ ان حالات کی وجہ سے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان پوری سنجیدگی کے ساتھ ایران سے مذاکرات کے موضوع کا جائزہ لے رہے ہیں ۔

گزشتہ منگل کو متحدہ عرب امارات کے ساحلوں کی سیکورٹی کے عہدیداروں پر مبنی وفود اور ایران کے سیکورٹی حکام کے درمیان اہم اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک سمندری سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لئے آپسی تعاون پر متفق ہوئے۔ یہ اجلاس 2003 کے بعد سے اس طرح کا پہلا اجلاس تھا۔

متحدہ عرب امارات کے اس وفود کے دورہ تہران کے بعد ابو ظہبی کے ولیعہد بن زائد کے سابق مشیر عبد الخالق نے کہا کہ جنگ یمن اب امارات کے لئے ختم ہو گئی ہے۔ ان کے اس بیان سے سعودی ایوانوں میں زلزلہ آ گیا اور اس کی سمجھ میں آ گیا کہ وہ یمن کے دلدل میں تنہا بری طرح پھنس چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب ایران سے مذاکرات کے موضوع کا جائزہ لے رہا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close