اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

امام حسنؑ اور معاویہ بن ابوسفیان کے مابین صلح کا معاہدہ

امام حسنؑ اور معاویہ بن ابوسفیان کے مابین صلح کا معاہدہ

امام حسنؑ اور معاویہ بن ابوسفیان کے مابین صلح کا معاہدہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بسا اوقات بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر برصغیر پاکستان و بھارت میں بھی صلح امام حسن ؑ موضوع سخن قرار پاتا رہا ہے۔ اس معاہدے کا پس منظر، شرائط اور معاہدے کے بعد کیاہوا، اس تحریر میں اہل سنت کتب تاریخ میں درج معلومات کی بنیاد پر وہ تفصیلات پیش کی جارہی ہیں۔

تاریخ اسلام کی پرانی کتب

تاریخ اسلام کی پرانی کتب میں سیرت ابن اسحاق و سیرت ابن ہشام، طبقات الکبریٰ (ابن سعد)، تاریخ طبری، تاریخ یعقوبی، تاریخ ابن خلدون، الاستیعاب (ابن عبدالبر)، تاریخ الخلفاء (جلال الدین سیوطی)، البدایۃ و النہایۃ (ابن کثیر)، اسد الغابہ اور الکامل فی التاریخ (ابن اثیر) زیادہ مشہور و معروف کتب ہیں۔ اسکے علاوہ مروج الذھب (مسعودی) اور دیگر کتب بھی ہیں۔

حضرت عثمان یعنی تیسرے خلیفہ کے قتل میں ملوث افراد

طبقات ابن سعد، طبری، ابن خلدون، سیوطی، ابن کثیر، ابن اثیر سبھی نے جوتاریخی واقعات لکھے ہیں، انکی روشنی میں سب سے پہلے حضرت عثمان بن عفان یعنی تیسرے خلیفہ کے قتل میں ملوث افراد سے متعلق یہ نکتہ ذہن میں رہے کہ انکا تعلق بنیادی طور پر تین شہروں سے تھا یعنی مصر، کوفہ اور بصرہ۔ ان تینوں شہروں پر حضرت عثمان کے اپنے مقرر کردہ گورنر مقرر تھے۔ فوج اور بیت المال دونوں پر خود حضرت عثمان کے تعینات کردہ افراد ہی کا کنٹرول تھا۔ امیر المومنین حضرت علی ؑ کے طرفداروں کی تعداد ان شہروں میں اگر زیادہ ہوتی تو ان کے خلاف بغاوت کرنے والے ان شہروں کارخ نہ کرتے۔

حضرت محمد بن ابوبکر

یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ امیر المومنین حضرت علی ؑ کو جب حاکم منتخب کیا گیا تو ان سے جنگ لڑنے والوں نے کوفہ و بصرہ ہی کی طرف حرکت کی تھی۔ یہ بھی یاد رہے کہ مصر پر حضرت محمد بن ابوبکر کو گورنر مقرر کرنے کا حکم نامہ حضرت عثمان اپنی شہادت سے قبل جاری کرچکے تھے اور حضرت علی ؑ نے بھی انہیں یعنی حضرت محمد بن ابوبکر ہی کو مصر کا گورنر مقرر کیا تھا۔

حضرت عثمان کی شدید مخالفت کرنے والوں میں

یادرکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ حضرت عثمان کے مخالفین میں سے نام ور افراد کے ناموں کو عوام الناس سے چھپایا جاتاہے۔ اہل سنت عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ حضرت عثمان کی شدید مخالفت کرنے والوں میں ام المومنین بی بی عائشہ بھی تھیں، حضرت طلحہ بھی تھے اور حضرت زبیر بھی۔ بی بی عائشہ اور حضرت طلحہ کو مروان بن الحکم داماد حضرت عثمان نے قتل کیا تھا۔ جب حضرت عثمان کے مخالفین نے مدینہ کا محاصرہ کرلیا تھا تب بی بی عائشہ مدینہ میں تھیں۔ اسی دوران وہ مکہ روانہ ہوئیں۔ روانگی کی اطلاع ملنے پر حضرت عثمان کا داماد مروان چند دیگر افراد کے ساتھ انہیں روکنے آیا لیکن انہوں نے جواب میں ایک ایسا شعر پڑھا کہ جو تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ وہ مدینہ سے مکہ روانہ ہوئیں۔

 

امام حسن ؑ اور معاویہ بن ابوسفیان کے مابین صلح کا معاہدہ؟

تاریخ الخلفاء میں بنو امیہ کے ذیل میں معاویہ بن ابوسفیان کے حالات تحریر ہیں۔ اسے پڑھ کر آج کا مسلمان بھی انکی اصلیت جان سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی نے قدیمی کتب تاریخ اسلام میں تحریر معلومات کی روشنی میں ایک کتاب بعنوان خلافت و ملوکیت تحریر کی تھی۔ اسکے باب پنجم میں خلافت اور ملوکیت کا فرق بیان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ معاویہ نے لڑکر خلافت حاصل کی۔ لوگوں نے انہیں خلیفہ نہیں بنایا۔ بزرگ ترین صحابہ کرام کو قتل کرکے سر کاٹ کر شہروں میں پھرانا، رسول اکرم ﷺ کے صحابی کی بیوی کو قیدی بنانا، مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنانا، یہ سب کچھ معاویہ کے دور میں شروع ہوا۔

روضہ نبویﷺ کے سامنے خاتم الانبیاءﷺ کے محبوب ترین عزیزکو گالیاں

معاویہ خود اور اس کے حکم سے اسکے تمام گورنر خطبوں میں برسرمنبر حضرت علی ؑ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے۔ حتیٰ کہ مسجد نبوی میں منبر رسول ص پر عین روضہ نبویﷺ کے سامنے خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے محبوب ترین عزیز (امیر المومنین حضرت علی ؑ) کو گالیاں دیں جاتیں تھیں۔

معاہدے کا پس منظر

یہ سلسلہ پہلے سے چل رہا تھا۔ اور طاقت اور لالچ کے ذریعے مسلمان بزرگان کو خاموش رہنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ تاریخ ابن خلدون میں معاہدے کا پس منظر خلافت حسن ؑابن علی ؑ کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا۔ امام حسن ؑ نے شرائط پر مشتمل خط بھیجا جو معاویہ کے پاس ابھی پہنچا ہی نہ تھا کہ معاویہ نے سادہ کاغذ پر دستخط و مہر کرکے امام حسن ع کو عبداللہ بن عامر اور عبداللہ بن سمرہ کے ذریعے بھیج دیا تھا۔ جبکہ تاریخ الخلفاء میں ہے کہ معاویہ خود امام حسن ع کے پاس حاضرہوئے اور شرائط طے کیں۔

یزید کے باپ دادا پر لعنت خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺنے کی
معاویہ بن ابوسفیان پر شرعاً اور اخلاقاً فرض تھا

مورخین نے اس ضمن میں جزوی تفصیل الگ الگ تحریر کیں۔ البتہ سادہ کاغذ پر دستخظ اور مہر والی روایت تاریخ طبری میں بھی ہے اور تاریخ ابن خلدون میں بھی ہے۔ جب سادہ کاغذ پر لکھ کر دے دیا اور یہ کہہ دیا جو شرط چاہے لکھ دو منظور ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ امام حسن علیہ السلام نے اس پر جو کچھ لکھا ہو، معاویہ بن ابوسفیان پر شرعاً اور اخلاقاً فرض تھا، واجب تھا کہ ان شرائط پر عمل کرتا۔

امام حسن ؑ کی شرائط میں سے ایک شرط

ابن خلدون کے مطابق امام حسن ؑ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ انکے سامنے انکے والد یعنی امیرالمومنین حضرت علی ؑ کے خلاف سخت و ناملائم کلمات نہ کہے جائیں۔ (یعنی وہی بات جو دیگر نے لکھی سب وشتم نہ کیا جائے یعنی گالیاں نہ دیں جائیں)۔ یہ ایک شرط ہی مخالف فریق کے حامیوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ گالیاں دینے والے کا دفاع کرتے ہیں۔

امام حسنؑ اور معاویہ بن ابوسفیان کے مابین صلح کا معاہدہ

دوسرا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ اب خلدون کے مطابق امام حسن ؑ نے یہ شرط اس پہلے خط میں لکھی تھی جو معاویہ کے دستخط شدہ مہر شدہ بغیر متن والے غیر مشروط پیشگی قبولیت والے خط یا سادہ کاغذ کے پہنچنے سے پہلے ہی لکھ ڈالا تھا۔ اور جس سے متعلق تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ معاویہ نے اس پہلے خط کو ملتے ہی اس میں درج شرائط کو قبول کرلیا تھا لیکن اسی تاریخ طبری میں سال اکتالیس ہجری قمری کے واقعات میں لکھا ہے کہ پھر معاویہ نے امام حسن ع کی کسی بھی شرط کو پورا نہ کیا۔

تاریخ الخلفاء میں علامہ سیوطی نے حدیثیں نقل کیں ہیں۔ خلافت سے متعلق بنو امیہ کے دعویٰ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ بلکہ، وہ بادشاہ اور سخت ترین بادشاہ ہیں اور سب سے پہلا بادشاہ معاویہ بن ابوسفیان ہے۔

حافظ عماد الدین ابوالفداء اسماعیل المعروف ابن کثیر نے البدایۃ و النہایۃ میں حضرت حسن ؑبن علی ؑ کی خلافت کے عنوان کے تحت امام حسن علیہ السلام کو خلیفہ راشد قرار دیا ہے۔ خلفائے راشدین میں انہوں نے امام حسن علیہ السلام کو آخری خلیفہ راشد لکھا قرار دیا۔

بنوامیہ کا دفاع کرنے والے جمعراتی شاہ اور مولوی
عمروبن العاص نے معاویہ سے کہا

تاریخ طبری کے مطابق کوفہ میں مجمع ہوا تو عمروبن العاص نے معاویہ سے کہا کہ حسن ؑ سے کہو کہ اٹھیں تقریر کریں۔ معاویہ کو یہ بات گوارا نہ ہوئی، پوچھا آخر تم کیا چاہتے ہو۔ عمرو ابن العاص نے کہا میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ تقریر میں عاجز ہیں۔ اس باب میں عمرو بن العاص نے ایسا اصرار کیا کہ معاویہ کو ماننا پڑا۔ معاویہ نے مجلس میں آکر تقریر کی اور پھر ایک شخص کو حکم دیا جس نے امام حسن ع کو پکار کر کہا اٹھیے اس مجلس میں تقریر کیجیے۔

سورہ انبیاء کی آیت نمبر 111

امام حسن ع نے بلاتامل تشہد پڑھا۔ اسکے بعد کہا ایہا الناس! اللہ نے ہم میں سے پہلے شخص (یعنی خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ) کے ذریعے تمہاری ہدایت کی اور ہم میں سے آخری شخص کے ذریعے تمہیں کشت و خون سے بچالیا۔ اور سنو اس حکومت کی ایک مفت و میعاد ہے۔ اور دنیا دست بدست (پھرا کرتی) ہے۔ اور حق تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرما چکا ہے: و ان ادری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الی حین۔ اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لیے فتنہ ہواور ایک مدت تک تم اس سے فائدہ اٹھاتے رہو۔ (یہ سورہ انبیاء کی آیت نمبر 111ہے)۔

معاویہ غضبناک ہوگئے

امام حسن علیہ السلام نے جوں ہی اس جملے کا اضافہ کیا اور چند دن کی آسائش تومعاویہ غضبناک ہوگئے اور بیٹھنے کا حکم دیا۔ ابن خلدون کے مطابق کیونکہ امام حسن ؑ نے معاویہ کے خلاف اظہار خیال فرمایا تھا۔ ابن کثیر کے مطابق عمرو ابن العاص کو اشارہ کرنے پر ڈانٹا، اسکی وجہ سے ہمیشہ ان کے دل میں ناراضگی رہی۔ سورہ انبیاء کی آیت 111کے متن میں لفظ فتنہ کو تاریخ طبری کے ارد و ترجمہ میں آزمائش تحریر ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی تحریر ہے کہ عمرو ابن العاص پر معاویہ کو غصہ ہی رہا کہ تمہاری رائے پر چلنے کا یہ انجام ہوا۔

صلح امام حسن ع دوطرفہ معاہدے کا نام تھا

صلح امام حسن علیہ السلام کی اصطلاح استعمال کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایک دوطرفہ معاہدے کا نام تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے صلح حدیبیہ کی تھی۔ اس نوعیت کے دوطرفہ معاہدے کسی ایک فریق کی خلاف ورزی پر دوسرے فریق کے لیے نافذالعمل نہیں رہا کرتے۔ امام حسن ع کے مخالف فریق نے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مولاامیر المومنین حضرت علی ؑ پر سب و شتم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ نامزد کرکے اسکے لیے بیعت لی۔

خاندان رسالت و نبوۃ ﷺ کی مظلومیت کا ثبوت

معاویہ نے دیگر شرائط پر بھی عمل نہیں کیا۔ اسی کی وجہ سے حضرت امام حسن ع کو زہر کے ذریعے جبکہ امام حسین ع کو کربلا میں شہید کیا گیا۔ مولاامیر المومنین حضرت علی ؑ پر سب و شتم کا آل مروان کی حکومت تک جاری رہنا، خاندان رسالت و نبوۃ ﷺ کی مظلومیت کا ثبوت ہے۔ یہ اسلام اور خالص مومنین کی مظلومیت کا ثبوت تھا۔

 بی بی عائشہ کی طرح مصلیٰ بچھاکر ہر نماز کے بعد لعنت

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بد بخت شقی اسلام دشمن ملوکیت کے بانی جس کے حکم پر یہ ہوا اس پر ام المومنین بی بی عائشہ کی طرح مصلیٰ بچھاکر ہر نماز کے بعد لعنت کی جاتی جیسا کہ مورخین نے اسکا ذکر کیا ہے۔ لیکن جس زیارت عاشورا میں اس پر لعنت ہے، اس کی مخالفت کا سیدھا سیدھا مطلب ام المومنین بی بی عائشہ کی مخالف اور بی بی عائشہ پر اعتراض ہے۔

لعنت کو گالی کہنا اللہ اور رسول ص کی توہین ہے
بنوامیہ کے ظالم و جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق

امام حسن ؑ نے تو سورہ انبیاء کی آیت نمبر 111پڑھ کر اسی وقت بنوامیہ کے ظالم و جابر سلطان معاویہ بن ابوسفیان کے سامنے کلمہ حق کہہ کر جہاد اکبر کردیا تھا۔ کام تو اسی وقت تمام ہوچکا تھا۔ باقی تو سب تاریخ کا رزق ہوا۔

السلام علیک ایھا الحق الحقیق۔ السلام علیک ایھا الشھید الصدیق۔ السلام علیک یا ابا محمدالحسن بن علی و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

مالک بن نویرہ پاکستانی  شیعیت نیوزاسپیشل
امام حسنؑ اور معاویہ بن ابوسفیان کے مابین صلح کا معاہدہ
Sunnis reject Mufti Muneeb and Mufti Taqi Usmani’s ludicrous sectarian narrative
پاکستان میں حسینیت کا ریفرنڈم اربعین حسینی

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close