سعودی عرب

سعودی عرب کے خفیہ قید خانوں میں خواتین پر ’’جنسی تشدد ‘‘ کا انکشاف

شیعت نیوز : انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سعودی عرب میں خفیہ قید خانوں کا انکشاف کیا گیا ہے جن میں قید خواتین پر ’’ جنسی تشدد ‘‘ کیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں خواتین قیدیوں پر جنسی تشدد کیا جاتا ہے اور انہیں اتنا مارا پیٹا جاتا ہے کہ وہ کھڑی ہونے کے قابل نہیں رہتیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق دس انسانی حقوق کی کارکنان پر سعودی عرب کے خفیہ قید خانوں میں جنسیتشدد کیا گیا جس میں انہیں تحقیقات کاروں کے سامنے بوسہ لینے پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔

تنظیم کے مطابق اسیری میں دیگر خواتین کو بجلی کے جھٹکے اور کوڑے اتنے زور سے مارے گئے کہ وہ کھڑی بھی نہیں ہوسکتی تھیں۔

ایک خاتون کو تحقیقات کاروں نےذہنی اذیت دینے کیلیے بتایا کہ ان کے اہل خانہ مرچکے ہیں اور انہیں اس جھوٹ کے ساتھ ایک ماہ تک ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔

جن عورتوں کو مئی ۲۰۱۹ میں حراست میں لیا گیا ان میں لوجیان الحتلل اور عذیذہ الیوسف شامل ہیں جنہوں نے ملک میں خواتین کی گاڑی چلانے کی مہم چلائی تھی۔ ان میں سے کسی پر باضابطہ طور پر نہ فرد جرم عائد کی گئی ہے اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ انہیں کوئی قانونی نمائندگی بھی حاصل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی سیکیورٹی فورسز اغوا کر لیتی ہیں جن میںکمسن بچے اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے اور انہیں جنسی تشدد سمیت دیگر اذیتیں دی جاتی ہیں۔ ان قیدیوں کو قانونی چارہ جوئی کیلیے وکیل کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی جبکہ ان قیدیوں پر کسی قسم کی فرد جرم بھی عائد نہیں کی جاتی اور برسوں تک انہیں قید کی اذیتیں سہنا پرتی ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close