مقالہ جات

عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے اپنے اقتدار کہ خلاف سازش کیسے کی ؟

یہ سارے اقدامات نہ تو کرپٹ سیاستدانوں کے لئے قابل قبول تھے اور نہ ہی عراق کے فیصلوں پر مسلط بین الاقوامی طاقتوں کے لئے قابل قبول تھے

شیعت نیوز: (مقدمہ)جب عادل عبد المہدی نے عراق کی وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالا اس وقت یہ ملک غیر ملکی قرضوں ، کرپشن اور بےروزگاری کی دلدل میں غرق ہو چکا تھا. داعش اور دیگر تکفیری دہشتگردی کے گروہوں نے اس کی تباہی وبربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی. اجتماعی طور پر ملک کی عوام کے مابین کرد ، سنی اور شیعہ کی بلند دیواریں کھڑی کی جا چکی تھیں. ایسے حالات میں اس نے ملک کی تعمیر وترقی ، عوام کی فلاح وبہبود اور روشن مستقبل کے لئے”عراق اولا” کے عزم کے تحت اپنی سیاسی واقتصادی پالیسی بنائی. اور ملک کے زخمی جسم اور نظام کے لاغر بدن میں کینسر کی طرح پھیلے ہوئے اور راسخ شدہ جراثیم پریشان ہوئے. تمام تر خود غرض ملکی لٹیروں اور بیرونی استعماری طاقتوں کے لئے اسکی یہ روش ناقابل قبول تھی. اور انکے مفادات کا خطرہ لاحق ہو چکا تھا. اس لئے اب اس حکومت کا چلنا اور سیاسی استحکام اور اقتصادی پالیسیوں کا روکنا اندرونی مافیا اور بیرونی لٹیروں کے لئے ضروری ہو گیا تھا. اس لئے سب نے ملکر ایسے حالات بنائے کہ اسکو مجبورا استعفیٰ دینا پڑا. اور ملک وعوام کے مستقبل کو مجہول کی طرف دھکیل دیا گیا. اور دوسرے الفاظ میں عراق کے استقلال اور روشن مستقبل کی خاطر عادل عبدالمہدی نے ناتوان وزیراعظم کی حیثیت سے اپنی سیاسی خود کشی کو قبول کیا لیکن مسلط کرپٹ نظام اور طاقتور طاقتوں کو ایک مرتبہ جھنجوڑ کر رکھ دیا.

عراقی وزیراعظم کے اھم اقدامات

1- عراق کی زیر بناء کو مضبوط کرنے اور اقتصادی طور پر استقلالیت کے لئے متعدد آپشنز کی طرف توجہ دی اور عراقی تیل کی فروخت کے لئے نئی منڈیوں کی طرف رخ کیا منصب سنبھالنے کے چند ماہ بعد ہی عراق نے اردن اور مصر سے اس سلسلے میں اقتصادی معاھدے کئے. اور عراق جو کہ افریقی منڈی سے بہت دور تھا ان معاہدوں کے بعد اسے وہاں تک رسائی حاصل ہوئی. اس اقدام کی اس لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ اگر ابنائے ھرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ بھی پیدا ہو جائے تو عراق کے پاس تیل کی ترسیل کے لئے ایک متبادل راستہ ہو گا.

2- اسی سیاست کو آگے بڑھاتے ہوئے عراق نے بجلی کی پیدوار کے منصوبے کو ترقی دینے کے لئے جرمنی کی سیمنس کمپنی کے ساتھ ایک سنہری معاہدہ کیا. اور اسی بجلی پیداوار بڑھانے کے لئے الزبیدیۃ بجلی گھر اور صلاح الدین میں ایک بجلی گھر کے منصوبے کو وسعت دی.

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کا استعفیٰ کیا عراق کا مسئلہ حل ہوگیا۔۔۔۔۔؟

3- زراعت کی پیداوار کو بڑھانے اور غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بھی اہم اقدامات کئے. ملک کی غذائی امنیت کے استحکام کے لئے گندم کے ذخیرے کے لئے پائیدار کنکریٹ کے بڑے بڑے اسٹور تعمیر کئے. کہ جن میں چار ملین ٹن گندم اسٹور ہو سکتی ہے جس سے تین سال تک عراق کی غذائی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے. کسانوں سے گندم کی خریداری کا آسان میکانیزم بنایا کہ جس میں بیوروکریسی کی پیچیدگیوں سے دور اور 6 لاکھ دینار فی ٹن کے ریٹ پر بے سابقہ اور بروقت فقط 72 گھنٹوں میں کسانوں کو مالیاتی ادائگیاں کی گئیں.

4- سب سے اھم اقدام 19 سے 23 ستمبر 2019 کا پانچ روزہ چین کا دورہ تھا کہ جس کے نتیجے میں ” النفط مقابل الاعمار ” یعنی تیل بالمقابل تعمیر عراق کا معاھدہ طے پایا. اور جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے مابین دس سال کے دوران 500 بلین ڈالرز ٹریڈ کی سطح جا پہنچی. اور طے پایا کی چینی کمپنیاں فوری طور پر کام شروع کریں گی. اور عملی طور پر 40 چائنی کمپنیوں نے پراجیکٹ کی منصوبہ بندی کا کام شروع بھی کردیا.

یہ سارے اقدامات نہ تو کرپٹ سیاستدانوں کے لئے قابل قبول تھے اور نہ ہی عراق کے فیصلوں پر مسلط بین الاقوامی طاقتوں کے لئے قابل قبول تھے. چین کے ساتھ ان ھونے والے معاہدوں کے بعد عادل عبدالمہدی کے خلاف کرپشن کی عادی بااثر شخصیات اور بھاری بھاری کمیشن لینے والے گروہ اور استکباری طاقتیں سب ملکر سامنے آ گئے . امریکی صدر ڈونلڈ ٹرامپ نے ٹویٹ کیا. ” کہ بالکل معقول نہیں کہ ہم عراق کو آزاد کرائیں اور معاملات غیروں سے ہوں ” اور پھر تو ملکی وبین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا الیکٹرانک فورسسز نے عادل عبدالمہدی پر چڑھائی کر دی. اور عراق میں گذشتہ 16 سال سے ہونے والی ساری کرپشن ، بے روزگاری اور عوام کی محرومیوں کا زمہ دار فقط اور فقط عادل عبدالمہدی اور اسکی حکومت کو قرار دیا.

ملاحظہ: کالم کے اختتام پر رائٹر لکھتا ہے کہ عادل عبدالمہدی صحافیوں ، میڈیا اینکرز، بوٹ چاٹنے والوں اور مکھیوں کے چہرے صاف اور خوبصورت بنانے والوں کے حق میں بہت کنجوس تھا.

(عراقی رائٹر عبدالکاظم حسن الجابری کے کالم سے ماخوذ ، بتاریخ 12/11/2019 )

ترجمہ وتحریر: علامہ ڈاکٹرسید شفقت حسین شیرازی

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close