اہم ترین خبریںپاکستان

عراق پاکستان کامشکور ہے جسکی حمایت کی بدولت داعش کوشکست فاش ہوئی، الشیخ عمارالہلالی

ا س کے علاوہ اگرقم اور نجف کے درمیان ہم آہنگی نہ ہوتی تو عراقیوں کو یہ کامیابی حاصل نہ ہوتی

شیعت نیوز: اسلام آباد میں منعقدہ سیرت النبیؐ کانفرنس میں شرکت کیلئےعراق سے تشریف لائے ہوئےمرجع عالی قدر آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کے نمائندہ خصوصی علامہ الشیخ عمارالہلالی نے ایک انٹرویو میں کہاکہ حضور اکرم (ص) نے اپنی ابتدائی زندگی میں ایک جاہلیت بھرے معاشرے میں اپنی تبلیغ کا آغاز کیا۔ آپ نے تبلیغ کے ذریعے ایک محبت بھرے معاشرے کی بنیاد رکھی جو آپس میں اتفاق اور اتحاد سے رہتے تھے۔ آج ہم مذہب پرستی اور قوم پرستی جیسے نعروں میں بٹ چکے ہیں، اگر ہم حضور اکرم (ص) کے بتایے راستے پر چلنا چاہتے ہیں تو ہمیں ریاست مدینہ میں وضع کیے گیے راستے پر چلنا ہوگا۔ اس ریاست کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس معاشرے میں تمام ادیان کے لوگ مل جل کر رہا کرتے تھے۔ یہ ایام مبارکہ ہمارے لیے بڑا موقع ہیں کہ اس مدنی معاشرے کو ہم دوبارہ اجاگر کریں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دہشت گرد تنظیم داعش کو فروغ دینے میں عالمی میڈیا نے بڑا کردار ادا کیا، اور اس کرایے کے میڈیا نے عراقی عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی اور اہم ایسا پیغام پہنچایا کہ اس دہشت گرد تنظیم کو آسانی سے شکست نہیں دی سکتی، تاہم اللہ کی قدر ت اور مرجعیت نے اس خطرے کا مقا بلہ کیا اور اللہ کا شکر ہے کہ اس شکست فاش سے دوچار کیا گیا، حالانکہ امریکہ نے کا کہنا تھا کہ اس تنظیم کو پچاس سال تک شکست نہیں دی سکتی۔ تاہم اب صورتحال کو کنٹرول کیا جا چکا ہے، یہ سب اللہ کی مہربانی اور مرجعیت کے ٹھوس اقدامات کے بدولت ممکن ہو اہے۔ اس فتح میں جمہوری اسلامی ایران نے اہم کردار ادا کیا ہے، اس فتح میں ایران ہمارا پارٹنر ہےاور یہ سب کچھ اڑھائی سال میں کرکے دکھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عراق میں فسادات کا ماسٹر مائنڈ ، خودساختہ مجتہدگرفتار،نام پتہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے!!!!

الشیخ عمارالہلالی نے کہاکہ اسلامی جہوری ایران کے عراقیوں کابڑے پیمانے پر ساتھ دیا اور ان کی مدد کی، جب عراقی فورسز اور حشد الشعبی کو اسلحہ درکار تھا تو ایران نے بھرپور مدد کی۔ اس دور میں عراق کے دوست ممالک نے بھی عراق کو اسلحہ دینے سے انکار کیا۔ اس مشکل گھڑی میں ایران ہمارا ساتھ کھڑا رہا، اس موقع پر ایرانیوں نے حیدری غیرت دکھائی، علاوہ ازیں انہوں نے ہماری افرادی اور لاجسٹک مدد بھی کی اور بہت سارے ایرانیوں نے عراق اور تشیع کے مذہب کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا دشمانان اسلام کو شکست فاش کاسامنا کرنا پڑا، ہم تہ دل سے اسلامی جمہوری ایران کا شکریہ ادار کرتے ہیں۔ اللہ انہیں اس کا اجر عظیم دے۔ ا س کے علاوہ اگرقم اور نجف کے درمیان ہم آہنگی نہ ہوتی تو عراقیوں کو یہ کامیابی حاصل نہ ہوتی۔ جس کی بدولت عراق بھی باقی ہے اور عراق میں اسلام بھی باقی ہے۔

علامہ الشیخ عمارالہلالی نے کہاکہ بلاشبہ پاکستان اور عراق برادر اسلامی ممالک ہیں اور ایک دوسرے کے ان کے خوشگوار تعلقات پایے جاتے ہیں۔ تاہم یہ تعلقات اس سطح پر نہیں ہیں جس سطح پر انہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ ان تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط ہونا چاہیے۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اربعین کے دوران ایک لاکھ پاکستان زایرین عراق آے، یہ اس بات کو ثبوت ہے کہ وہ عراق کو محفوظ سمجھتے ہیں یہ سوچ اگر نہ ہوتی تو وہ کبھی زیارت کے یے نہ آتے، شیعہ کے ساتھ ساتھ لاتعداد سنی بھاییوں نے بھی زیارت کا شرف حاصل کیا اور امید ہے کہ آیندہ عراق اور پاکستان کے درمیان پیار محبت اور بھایی چارہ کو فروغ ملے گا۔ چونکہ ہم سب حضور (ص) اہل بیت (ع) کی محبت میں جڑے ہویے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں، جن کی حمایت کے بدولت عراق اور عراقی قوم نے داعش کو شکست فاش سے دوچار کیا، یہ فتح صرف عراقی قوم نہیں بلکہ عالم اسلام کی فتح ہے۔ اسی طرح پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف جو جنگ لڑ رہی ہے یہ عالم اسلام کی جنگ ہے، اگر پاک فوج ان دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کرگے گی تو کل یہ عراق تک پہنچ سکتے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close