مشرق وسطی

شام کے شہر ادلب میں ترکی کے فوجی کانوائے کے راستے میں دھماکہ

شیعت نیوز: ترک خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ شام کے شہر ادلب میں ترکی کے فوجی کانوائے کے گزرنے کے موقع پر سڑک کے کنارے نصب بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔

ترک خبر رساں ایجنسی دیمیرورین کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ ترکی کے فوجی کانوائے کے گزرنے کے وقت سڑک کے کنارے نصب بم کے زوردار دھماکے سے پھٹ جانے سے ہوا جس میں ترکی کے متعدد فوجی زخمی ہوئے۔

ترک خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ دھماکے کا مقصد ترکی کے فوجیوں اور فوجی ساز و سامان کو نقصان پہنچانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : شام میں امریکی کانوائے پر حملہ، 3 دہشت گرد فوجی زخمی

ترکی شام میں دہشت گرد گروہوں کا اصلی حامی شمار ہوتا ہے۔ ترکی کی فوج نے ادلب میں دہشت گردوں کی حمایت میں شامی فوج کے ٹھکانوں اور اس کی تنصیبات پر کئی بار حملے کئے ۔ اس وقت بھی صوبہ ادلب کے بعض علاقوں پر ترک فوج نے قبضہ کر رکھا ہے۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران ترکی نے بارہا شام میں جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔اس درمیان شام کے اندر ترک فوج کی کارروائیوں کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ شامی فوج گزشتہ نو سال سے امریکہ ، یورپ اور چند علاقائی حکومتوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔

دوسری جانب امریکی دہشت گردوں کا ایک کانوائے عراق سے نکل کر شام کے الحسکہ اور دیرالزور صوبوں میں تعینات ہو گیا ہے۔

شام کی نیوز ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق امریکی دہشت گردوں کا ایک کارواں غیر قانونی طور پر الولید گذرگاہ کو عبور کرتے ہوئے عراق سے شام میں داخل ہو گیا ہے۔

صوبہ الحسکہ کے شمال مشرق میں موجود خبری ذرائع نے بتایا ہے کہ الولید گذرگاہ کے جنوب میں واقع المحمودیہ دیہات سے چھے امریکی بکتر بند گاڑیاں شام کی کرتشوک آئل فیلڈ کی جانب روانہ ہوئی ہیں۔ شام کی کرتشوک آئل فیلڈ پر امریکہ کا قبضہ ہے۔

شام سے امریکی دہشت گردوں کے انخلا کے پروگرام کے باوجود واشنگٹن شام و عراق کی سرحد کے قریب واقع التنف فوجی اڈے پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور شام کی آئل فیلڈز پر دہشت گردوں کے دوبارہ قبضے کو روکنے کے بہانے اپنی دہشت گرد کمپنیوں کے ٹھیکیداروں کو دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں تیل کے کنؤوں اور گیس کے ذخائر کے پاس ہی تعینات کئے ہوئے ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close