اہم ترین خبریںمشرق وسطی

شام میں امریکی و مغربی سیاست مکمل طور پر شکست کھا چکی ہے۔ ڈوئیچے ویلے

شیعت نیوز : جرمنی کے سرکاری ای مجلے ڈوئیچے ویلے نے اپنی ایک رپورٹ میں شامی سرزمین پر یورپ و امریکہ کی جانب سے بنائے جانے والے بحران میں امریکہ و یورپ کی مکمل شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد اپنی طاقت کے 20 سال مکمل ہونے پر فخر کر سکتے ہیں کیونکہ وہ عرب سپرنگ کی تحریکوں سے سلامتی کے ساتھ باہر نکلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو سال 2011ء سے شروع ہوئی تھیں۔

جرمن ای مجلے ڈوئیچے ویلے نے لکھا کہ اس سلسلے میں شام کو ایران و روس کا شکرگزار ہونا چاہئے جبکہ بشار الاسد کے مخالف مسلح جنگجوؤں کا قبضہ اس وقت شام کے ایک چھوٹے سے علاقے پر ہی باقی بچا ہے۔

جرمن میڈیا کی جانب سے پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ مغرب نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اب یہ سمجھ لیا ہے کہ شدت پسند اسلامی گروہوں کے مقابلے میں بشار الاسد کا ضرر کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت کو بڑا دھچکا، ایران نے چاہ بہار کے بعد گیس فیلڈ منصوبے سے بھی بھارت کو فارغ کردیا

ای مجلے ڈوئیچے ویلے کا لکھنا ہے کہ اب مغربی حکومتیں اور ان کے سیاسی ناظر بھی بشار الاسد کے استعفی کا مطالبہ نہیں کرتے گرچہ شروع میں امریکہ و یورپ کے اندر بشار الاسد کے مخالفین کو بے انتہاء اختیارات حاصل تھے تاہم اس وقت انہیں دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے اور اب انہیں کوئی طرفدار نہیں ملتا۔ اس مجلے نے لکھا کہ شامی صدر بشار الاسد اس چیز کو بھی اپنی ایک کامیابی قلمداد کر سکتے ہیں۔

جرمن ای مجلے نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ مغربی حکومتوں نے اب شام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے، امریکہ کی غلط سیاست کے بارے میں لکھا کہ مغربی ایشیائی خطے سے بتدریج فوجی انخلاء پر مبنی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی قبل ازیں بھی اس بات کا باعث بنی تھی کہ یورپ کے اندر امریکی سیاست کا کھلے بندوں مذاق بنایا جائے۔

اس مجلے نے لکھا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما بھی قبل ازیں اس بات کا باعث بن چکے ہیں کہ شام کے حوالے سے مغرب کی پالیسی مضحکہ خیز ثابت ہو خاص طور پر تب جب واشنگٹن نے وہاں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو اپنے لئے ریڈ لائن قرار دیا تھا اور پھر بشار الاسد مخالف مسلح گروہوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر ان کے خلاف فوجی کارروائی سے بھی ہاتھ کھینچ لیا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close