اہم ترین خبریںمقالہ جات

شام میں عمر بن عبدالعزیز کی قبر کی بے حرمتی اور اصل حقائق

تحریر: سید تفویض الحسن نقوی

’’آہ… کہ شیعوں نے شام میں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کی مرقد مبارک سے ان کی باقیات نکال کر جلا ڈالیں اور مزار کو آگ لگا دی۔‘‘

یہ الفاظ ہی اتنے سخت و تلخ ہیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، بھنویں غصہ سے تن جاتی ہیں اور خون میں جنونِ جنگ و جدل کے سے جذبات کی روانی بڑھ جاتی ہے۔ اور بس۔۔۔ بس یہی تو کچھ لوگوں کا مقصد ہوتا ہے کہ ایسے جذبات کو بھڑکا کر شیعہ سنی مسلمانوں کو آپس میں لڑوایا جائے۔لیکن صد شکر کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور اس خبر کی حقیقت، بس مذہبی انتشار پھیلانے والوں کی، شیعہ سنی فسادات کو ہوا دینے کی ایک کوشش کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میں نے آج دن میں، ایک سو کالڈ صحافی کی وال پہ یہ پوسٹ دیکھی تھی لیکن نظر انداز کر دیا کیونکہ مجھے تبھی مشکوک لگی تھی کہ ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ اتنا بڑا اور گھناؤنا واقعہ پیش آ چکا ہوتا اور اطلاع بس اس ایک وال سے مل رہی تھی؟

لیکن اس کے بعد رات ڈھلتے ہی ایک انسانیت دشمن ناصبی دہشت گرد کی ٹویٹ اسکرین شاٹ کی صورت موصول ہوا کہ وہ جناب بھی ہوبہو مذکورہ بالا الفاظ اس واقعہ کو ہوا دے رہے ہیں تو مجھے لگا نہیں اس بات کی تصدیق ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی دوستوں کی وال پر احتجاجی پوسٹس دکھائی دینے لگیں کہ جن میں بہت سی دیگر ’’جذباتی للکاریں‘‘ بھی شامل تھیں۔ (ان جذباتی للکاروں کو نظر انداز کرتا ہوں۔)

اور جب رائی کے پہاڑ کو کھودنے نکلا تو اندر سے چوہا برآمد ہوا اور وہ بھی بہت عرصے پہلے کا مرا ہوا کہ یہ خبر اول تو اس سے قبل 2019 میں بھی پھیلائی جا چکی ہے اور اس کے بعد یہی خبر ایک بار پھر سے اوائل 2020 یعنی جنوری 2020 کو بھی ایک اینٹی شیعہ ویب سائٹ سے رپورٹ کی گئی۔ اور یہی وہ اینٹی شیعہ ویب سائٹ ہے کہ جس نے اب ایک بار پھر سے یہ انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رح کے مزار کی اور باقیات کی توہین کی گئی ہے۔

میں اس پوسٹ سے سب کر متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا۔۔۔خدارا۔۔۔ خدارا۔۔۔ ان جیسی جھوٹی خبروں پر جلدی کان نہ دھرا کیجیے کیونکہ ہم سب کا واحد و احد خدا ہماری مشترکہ کتاب قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ۔۔۔’اور ان کے پاس جب کوئی خبر آتی ہے یا پہنچتی ہے تو وہ پہلے اس کی تحقیق کرتے ہیں۔‘‘
"مقافسوس مقام افسوس ہے کہ کچھ لوگ بس ایسے مواقع کی تاک میں دکھائی دیتے ہیں کہ کب شیعہ سنی فسادات برپا کرنے کا کوئی موقعہ ان کے ہاتھ لگے یا کب کسی بات کا کوئی ایسا سرا پکڑائی دے کہ شیعہ سنی تنازعات کو ہوا دی جا سکے۔

پیارے دوستو۔۔۔ ہمارا دین قبروں کی حرمت سکھاتا ہے. مسلمان کوئی بھی ہو وہ قبروں کی توہین نہیں کر سکتا۔

شیعوں نے اگر قبر کھودنی ہوتی تو سب سے پہلے وہ یزید پلید کی باقیات کو اس کی قبر سے نکال کر جلاتے کہ جس پر کسی سنی مسلمان کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا تھا۔ اور جب انہوں نے یزید کے ساتھ بھی یہ سلوک نہیں کیا تو اطمینان رکھیے کہ شیعہ قوم کسی کے مقدسات کو ایسا نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

ایسے انتشار پسند عناصر کو یقیناً یہ علم نہیں ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز شیعوں میں شاید سنیوں سے بھی زیادہ متبرک و مقبول ہستی ہیں۔ شیعہ لوگ ان کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

اللہ پاک آپ سب کو اور مجھے بھی۔۔۔ حق کہنے، سننے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close