مشرق وسطی

شام و عراق کے حوالے سے امریکہ نے اپنی قدیمی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ محمود جوخدار

شیعت نیوز: شامی پارلیمنٹ کے رکن محمود جوخدار نے امریکہ کی طرف سے شام و عراق کے اندر داعش کو دوبارہ زندہ کرنے کی ناکام کوششوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن قتل و غارت اور تخریب کاری کے ذریعے شام و عراق میں امن و امان کو خراب کر کے خطے کو ابدی تناؤ میں دھکیلنا چاہتا ہے تاکہ اس دوران وہ بھرپور انداز میں خطے کا سرمایہ (تیل و معدنیات) چوری کرتا رہے۔

انہوں نے المعلومہ نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے دشمنوں کی کوششیں مسلسل جاری ہیں تاکہ وہ کسی بھی طرح خطے کے سرمائے کو لوٹ سکیں۔

شامی رکن پارلیمنٹ محمود جوخدار نے المعلومہ نیوز چینل کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے چیلوں کو جیسے ہی احساس ہوتا ہے کہ خطے، خصوصا شام و عراق میں حالات بہتر ہو رہے ہیں، تو وہ اپنے گھناؤنے آلۂ کار تکفیری گروہوں کو فعال کر دیتے ہیں تاکہ وہ قتل و غارتگری اور تخریب کاری کے ذریعے خطے کو مسلسل تناؤ میں جھونکے رکھیں اور اس دوران امریکی سکون کے ساتھ دونوں ممالک کا سرمایہ لوٹتے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی برادری کوبھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی اورکشمیر میں مظالم کانوٹس لیناہوگا، علامہ محمد عون نقوی

محمود جوخدار نے کہا کہ واشنگٹن نے داعش کو دوبارہ زندہ کر کے اور دہشت گردانہ حملوں میں شدت بخش کر اپنی قدیمی پالیسی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وہ امریکی اقدامات ہیں جن کا آجکل ہم عراق کے مختلف علاقوں میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔

دوسری طرف شام میں موجود قابض امریکی فورسز نے تیل سے مالامال مرکزی صوبوں رقہ اور دیرالزور کے درمیان ایک نیا فوجی اڈہ قائم کر لیا ہے۔

عرب ای مجلے العہد کے مطابق عینی شاہدین نے اسلحے اور لاجسٹک سامان سے بھرے دسیوں ٹرالے اس فوجی اڈے میں داخل ہوتے دیکھے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے اس اڈے میں اپنی فورسز کو پہنچانے کے لئے تیل سے مالامال علاقوں العمر اور کونیکو تک ہیلی کاپٹرز جبکہ وہاں سے آگے فوجی گاڑیاں استعمال کی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے اسٹریٹیجک محل وقوع کے حامل اپنے نئے فوجی اڈے پر اس وقت تک اپنا جھنڈا نصب نہیں کیا جب تک کہ اپنے اسلحے اور فورسز کو وہاں منتقل نہیں کر لیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شام کے تیل سے مالامال مرکزی صوبوں الرقہ اور دیرالزور کی سرحدی حدود پر واقع اس فوجی اڈے کی اسٹریٹیجک اہمیت اس لئے زیادہ ہے، کیونکہ یہاں سے شامی فوج اور عوامی مزاحمتی فورسز کے زیرکنٹرول، دریائے فرات کے مغربی علاقے بھی دسترس میں آجاتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close