مشرق وسطی

شام پر اسرائیل کے حملوں میں تیزی ، جوابی کارروائی نہ کرنے کی وجہ؟

شیعت نیوز: حالیہ دنوں میں شام پر اسرائیل کے حملوں میں تیزی آ گئی ہے۔ جمعے کو بھی اسرائيلی طیاروں نے حمص میں شامی فوج کے ٹھکانے پر راکٹ فائر کیے جبکہ جمعرات کو جولان کے علاقے میں اسرائيلی ہیلی کاپٹروں نے شام کے ایک فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا تھا۔

معروف عرب تجزیہ نگار اور روزنامہ رای الیوم کے مدیر اعلی عبد الباری عطوان کا کہنا ہے کہ شام پر اسرائیل کے حملوں میں تیزی کے کئی اسباب ہیں۔

اسرائیل کی کوشش ہے کہ ایران، شام اور حزب اللہ کو اشتعال دلایا جائے تاکہ وہ اسرائيل کے اندر حملے کریں۔ اس طرح امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جنگ شروع کرنے کا بہانہ مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی داعشی دہشت گردوں کو شام سے عراق منتقل کرنے کی کوشش

نیتن یاہو ان حملوں کی مدد سے خود کو قانونی کارروائی سے بچا رہے ہیں اور وہ اسرائيل میں پھیلے ہوئے سیاسی بحران کی جانب سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔

اسرائيل چاہتا ہے کہ ایران اور حزب اللہ پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ شام میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط بنانا بند کر دیں، خاص طور اس وقت جب ایران، کورونا وائرس کی وبا سے لڑ رہا اور لبنان میں امریکہ کی سازش کی وجہ سے خانہ جنگی کا اندیشہ پیدا ہو گيا ہے۔

ان حملوں سے شام کو الجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ شامی فوج، ادلب کے علاقے اور تیل و گيس سے مالا مال مشرقی فرات کے علاقے کو واپس لینے کے لیے مہم شروع نہ کر سکے۔ ان حالات میں شام کی تعمیر نو کے عمل کو بھی ٹالنے میں مدد ملے گي۔

اسرائيل کی یہ بچکانا سوچ ہے کہ ایران، شام یا حزب اللہ اس کے اشتعال انگیز اقدامات کے جھانسے میں آ کر اس جال میں پھنس جائيں گے اور اس جنگ میں کود پڑیں گے جسے اسرائیل اور امریکہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائيل نے شام میں ایران اور حزب اللہ کی موجودگی کو کمزور کرنے کے لیے تین سو سے زائد حملے کیے لیکن وہ حالات کو اپنے حق میں نہیں کر سکا۔

یہ بھی طے ہے کہ ایران، شام اور حزب اللہ کا اتحاد، اسرائيل کے حملوں کا جواب ضرور دے گا لیکن اس کے لیے وہ مناسب وقت اور جگہ کا تعین کرے گا۔ اگر جوابی حملہ شروع ہو گيا تو اسرائيل کو روزانہ کم از کم دو ہزار میزائلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران اور حزب اللہ کے اتحاد کا پیغام بڑا واضح ہے اور وہ یہ کہ جب جنگ ہوگی تو صرف جوابی میزائل حملے نہیں ہوں گے بلکہ ایران اور حزب اللہ کے جوان اسرائيل کے غاصبانہ قبضے والے علاقوں میں داخل ہو جائيں گے اور ان علاقوں کو آزاد بھی کرائيں گے۔

شام پر اسرائيل کے حملے اس لیے بھی ہو رہے ہیں کہ اس نے بہت بڑی سازش کو ناکام بناتے ہوئے اپنے اسّی فیصد سے زیادہ علاقوں کو غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close