مشرق وسطی

شامی فورسز کی کارروائی، ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی پسپائی

شیعت نیوز: شام کی فوج نے ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملوں پر سخت رد عمل دکھاتے ہوئے صوبہ حماہ کے شمال مغربی علاقے پر حملے شروع کئے۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے حماہ کے دیہی علاقے طنجرہ پرقبضہ کر لیا تھا لیکن پیرکو شام کی فوج نے اس علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

شام میں انسانی حقوق کے مرکز کا کہنا ہے کہ حماہ کا دیہی علاقہ طنجرہ صرف 24 گھنٹے تک ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے قبضے میں رہاجس کے بعد شامی فوج نے ایک آپریشن کے دوران اسے آزاد کرا لیا۔

واضح رہے کہ ترکی کی فوج دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے بہانے شام کے کچھ علاقوں پر قابض ہو گئی جس کے بعد ترکی کی فوج ان علاقوں میں تعینات ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شام کی آئل فیلڈ کے قریب امریکی فوجیوں کی مشکوک سرگرمیاں

دوسری جانب شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میںشامی فورسز اور ترکی کے حمایت یافتہ تکفیری دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں میں 22 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق تکفیری دہشت گردوں کے زیر قبضہ صوبہ ادلب میں گذشتہ دو ماہ سے جاری جنگ بندی کے دوران میں یہ خونریز لڑائی ہے اور اس میں تکفیری دہشت گردوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔

رصدگاہ نے اطلاع دی ہے کہ پیر کی علی الصباح تکفیری دہشت گردوں نے ادلب کے مغرب میں واقع علاقے سہل الغاب میں شامی فورسز کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔اس کے بعد جھڑپوں میں22 تکفیری دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ان میں القاعدہ سے وابستہ حراس الدین گروپ کے بعض جنگجو بھی شامل ہیں۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ تکفیری دہشت گردوں کا جنگ بندی کے بعد کسی جھڑپ میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔ اس سے پہلے شامی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور وہ ایک دوسرے پر بمباری بھی کرتے رہے ہیں لیکن یہ سب سے بڑا متشدد حملہ تھا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close