مقبوضہ فلسطین

صیہونی فوج نے بیت المقدس میں فلسطینی نوجوان کو فائرنگ کر کے شہید کردیا

شیعت نیوز: آج بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس میں صیہونی فوج نے ایک فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کردیا۔دوسری طرف فلسطینی نوجوان جیل حکام کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں دم توڑ گیا۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی نوجوان پر اسرائیلی فوج کی طرف سے الزام عائد کیا گیا کہ اس نے القدس شہر میں ایک اسرائیلی فوجی افسر کو چاقو سے حملہ کرنے کے ساتھ اپنی گاڑی تلے کچلنے کی کوشش کی تھی۔

عبرانی ویب سائیٹ’’ 0404′ ‘‘ کیے مطابق مشرقی بیت المقدس میں’’معالیہ ادومیم‘‘ یہودی کالونی میں ایک فلسطینی شہری نے ایک اسرائیلی فوجی پرپر چاقو سے حملہ کیا اور ساتھ ہی اسے گاڑی تلے روندنے کی کوشش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : زلفی بخاری سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کی آواز بن گئے، سعودی وزیر سے ویڈیو لنک رابطہ

عبرانی اخبار’’ہارٹز‘‘ کے مطابق فلسطینی حملہ آور کو جوابی کارروائی میں گولیاں مار کر شہید کردیا گیا ہے۔

عبرانی ویب سائٹ کے مطابق ایک کار سوار فلسطینی نے سڑک پرکھڑے اسرائیلی فوجی پر چاقو سے حملہ کیا۔ اس کے بعد اسےگاڑی تلے کچلنے کی کوشش کی۔ کچھ فاصلے پرکھڑے دوسرے فوجیوں نے فلسطینی نوجوان پراندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فلسطینی نوجوان کے قبضے سے ایک پائپ بم برآمد یا گیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے کو سیل کردیا گیا ہے۔ فلسطینی حکام کی طرف سے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی شہید کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل نے غربِ اردن کو ضم کیا تو آزاد فلسطین کا قیام معدوم ہوجائے گا۔ ماریہ زخروفا

اسرائیل کی بدنام زمانہ صحرائےالنقب کی جیل میں قید ایک 23 سالہ فلسطینی نوجوان جیل حکام کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں دم توڑ گیا۔

تفصیلات کے مطابق تئیس سالہ نور رشاد البرغرثی گذشتہ شام جزیرہ النقب کی صحرائی میں طبیعت خراب ہونے کے بعد بےہوش کرگر پڑا۔ اسرائیلی جیل حکام نے اسے بروقت کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی اور نہ ہی اسے اسپتال لے جانے کے لیے ایمبولینس فراہم کی گئی۔

جیل ذرائع کے مطابق صحرائی قید خانے کے وارڈ 25 میں پابند سلاسل فلسطینی نوجوان کی موت پردوسرے فلسطینی قیدی مشتعل ہوگئے۔

صیہونی جیل حکام کی مجرمانہ غفلت کے باعث فلسطینی اسیران نے احتجاج کیا جس پر صیہونی حکام نے قیدیوں کو ہراساں کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ البرغوثی کی جیل میں شہادت کے بعد جیل میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ نور رشاد البرغوثی گذشتہ چار سال سے جزیرہ نما النقب کی جیل میں قید تھا جہاں اسے 8 سال قید کی سزا کا سامنا تھا۔

اسرائیلی قید میں صیہونی حکام کی دانستہ اور مجرمانہ غفلت سے کسی فلسطینی کی شہادت کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ 1967ء کے بعد اسرائیلی جیلوں میں 223 فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ ان میں سے پانچ شہداء کے جسد خاکی ان کے ورثاء کے حوالے نہیں کیے گئے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close