مقبوضہ فلسطین

صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات ، ناقابل معافی جرم ہے۔ اسماعیل ہنیہ

شیعت نیوز: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ایک بڑا اور ناقابل معافی جرم ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کرنے والے عرب حکمراں، فلسطینیوں کے خلاف جرائم جاری رکھنے پر صیہونیوں کو ترغیب دلا رہے ہیں تاہم ان کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔

فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ نے کہا کہ فلسطینی قوم نے جارحیت کے مقابلے میں ہمیشہ استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کی بنیاد کبھی متزلزل نہیں ہو گی۔

واضح رہے کہ علاقے کے بعض عرب ملکوں منجملہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی حکومتوں نے غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونی حکومت کا فلسطین کو یہودی رنگ دینے کی کوششوں پر حماس کا انتباہ

ایسے حالات میں یہ عرب حکام غاصب صیہونی ٹولے کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صیہونی ٹولے نے فلسطینیوں پر وحشیانہ جرائم، ان کی سرکوبی اور فلسطینی علاقوں پر غاصبانہ قبضے کا عمل تیز کر دیا ہے۔

دوسری جانب غزہ کے محاصرے کے خلاف مہم کی عوامی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ و اسرائیل دنیا میں جاری انسداد کورونا مہم کی آڑ میں سینچری ڈیل سازشی منصوبے کے نفاذ کی کوشش کر رہے ہیں۔

غزہ محاصرے کے خلاف مہم کی عوامی کمیٹی کے سربراہ جمال الخضری نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکہ نے غرب اردن کے علاقوں کو مقبوضہ علاقوں میں شامل کرنے کے لئے صیہونی حکومت کو ہری جھنڈی دے دی ہے اور غاصب صیہونیوں نے بھی اس سازشی منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین میںنیتن یاہو کی کابینہ تشکیل پانے کے بعد غرب اردن کے علاقوں کو اسرائیل میں شامل اور فلسطینیوں کے حقوق پامال کرنے والے منصوبے پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

الخضری نے کہا کہ سازشی منصوبے پر عمل درآمد کے لئے غاصب صیہونی ٹولے کی کوششوں کے باوجود فلسطینی قوم کے عزائم کبھی متزلزل نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی غیر قانونی تعمیر پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن غرب اردن میں اسرائیل کے تعمیراتی منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں سمجھتا۔

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تئیس دسمبر دو ہزار سولہ کو قرارداد تئیس چونتیس پاس کر کے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کو فوری طور پر بند کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close