اہم ترین خبریںسعودی عرب

صیہونی منصوبوں کی تکمیل کے لئے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان خفیہ رابطے

شیعت نیوز: صیہونی اخبار ’’اسرائیل ھیوم‘‘ نے امریکی اسرائیلی سازش ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے حوالے سے مسجد الاقصی کا کنٹرول اردن یا ترکی کے بجائے سعودی عرب کے سپرد کرنے کے معاملے پر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان موجود خفیہ رابطے سے پردہ اٹھایا ہے۔

صیہونی اخبار کا لکھنا ہے کہ گذشتہ سال دسمبر کے بعد سے امریکی مدد کے ذریعے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک خصوصی ٹیلیفونک چینل قائم کر لیا گیا ہے جبکہ اس ٹیلیفونک چینل کے انتہائی خفیہ ہونے کی بناء پر سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے صرف اعلی درجے کے سفارتی اہلکار ہی اسے استعمال کر سکتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک اعلی سطحی سعودی سفارت کار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب شروع سے ہی اوسلو معاہدے کی بناء پر مسجد الاقصی کی تولیت کے اردن کے ہاتھ میں ہونے کا مخالف رہا ہے جبکہ اب مشرقی قدس کی فلسطینی آبادی کے درمیان ترکی کا اثرونفوذ بھی کئی گنا بڑھ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : جنوبی ایشیاکے عدم استحکام کی کوششوں کے نتیجے میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا سنگین تنائج کا عندیہ

صیہونی اخبار کا لکھنا ہے کہ مسجد الاقصی کے ’’باب الرحمہ‘‘ نامی دروازے پر فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد سے اردن نے نہ صرف بیت المقدس کی تولیتی کمیٹی کے اراکین میں تیزی کے ساتھ اضافہ کر لیا ہے بلکہ اوسلو معاہدے کے برخلاف اس کمیٹی میں فلسطینیوں کو بھی شامل کر لیا ہے جس کے باعث بیت المقدس کی انتظامی کمیٹی میں ترک تنظیموں کا اثرونفوذ اب کئی گنا بڑھ چکا ہے۔

صیہونی اخبار کا لکھنا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان کے خصوصی حکم پر ان ترک تنظیمیں کو انکرہ سے دسیوں لاکھ ڈالرز کی امداد بھی دی جاتی ہے۔

اسرائیل ہیوم کا لکھنا ہے کہ دوسری جانب سعودی عرب بیت المقدس کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے سالوں قبل سے کوششیں کر رہا تھا جبکہ متفقہ منصوبے کے تحت شہر (مقبوضہ) قدس کے مقدس مقامات کا کنٹرول حسب سابق اردن کے پاس ہی جبکہ اس پر سعودی عرب کی طرف سے بھیجے گئے ماہرین کی نگرانی ہو گی۔

اسرائیلی اخبار کا لکھنا ہے کہ فلسطین کے مقدس مقامات پر سعودی شاہی حکومت کی نگرانی (غاصب) صیہونی حکومت کے فائدے میں ہے کیونکہ فلسطین میں سعودیوں کی موجودگی کے باعث اسرائیل کی جانب سے ’’صدی کی ڈیل‘‘ اور ’’مزید فلسطینی سرزمین کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے کے منصوبوں‘‘ پر عملدرآمد انتہائی آسان ہو جائے گا۔

صیہونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سعودی عرب نے نہ صرف خود مکمل تیاری کر رکھی ہے بلکہ وہ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کی بھی مکمل رضایت حاصل کر چکا ہے۔

دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں سرگرم ’’تحریک اسلامی‘‘ کے نائب سربراہ کمال الخطیب نے بھی فلسطینی مقدس مقامات پر سعودی شاہی حکومت کے قبضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت فلسطین کے مقدس مقامات کو ہر طریقے سے اردن کے ہاتھوں سے چھین لینا چاہتی ہے جبکہ سعودی عرب کو اس حوالے سے (امریکی) ٹرمپ حکومت کی پوری مدد حاصل ہے۔

واضح رہے کہ سعودی شاہی حکومت کی جانب سے فلسطینی مقدس مقامات پر قبضے کے بارے نشر ہونے والی یہ خبریں نئی نہیں بلکہ قبل ازیں سعودی تجزیہ نگار عبدالحمید الغبین بھی اس حوالے سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے اپنے بیان میں لکھ چکے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک میرا خیال تھا کہ شہر قدس کا صرف مغربی حصہ ہی اسرائیل کے دارالحکومت میں بدلے گا لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے پورے قدس کو ہی صیہونی دارالحکومت میں بدل کر مسجد الاقصی کو سعودی شاہی حکومت کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close