دنیا

صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو اور بنی گینٹز آپس میں لڑ پڑے

شیعت نیوز : اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ مغربی کنارے یا غرب اردن کے کچھ علاقوں کے اسرائیل میں الحاق کے منصوبے پر صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر جنگ بنی گینٹز کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

اسرائیل ہیوم اخبار نے رپورٹ دی ہے کہ صیہونی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے وزیر جنگ بنی گینٹز سے کہا کہ اگر ان کی پارٹی نے غرب اردن کے منصوبے پر عمل درآمد کی مخالفت کی تو وہ کابینہ کو تحلیل کرنے اور دوبارہ انتخابات کرانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

اخبار نے لکھا کہ نیتن یاہو نے گینٹز کے ساتھ اپنے حالیہ اجلاس میں اس بات پر بارہا تاکید کی ہے، خاص طور پر اس لئے بھی کہ سینچری ڈیل نامی ٹرمپ کے منصوبے پر عمل در آمد کے لئے امریکہ کو صیہونیوں سے اتحاد کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عراق: دارالحکومت بغداد میں امریکی اتحاد کے فوجی اڈے پر کاتیوشا میزائل حملہ

نیتن یاہو نے غرب اردن کے اسرائیل میں الحاق کے منصوبے پر عمل در آمد کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر عمل در آمد کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گینٹز اس حوالے سے اپنے رخ پر قائم رہے تو پھر وسط مدتی انتخابات کرانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔

گینٹز کا کہنا ہے کہ غرب اردن کے کچھ علاقے کے اسرائیل میں الحاق کے منصوبے پر تبھی عمل در آمد کیا جائے جب اسرائیل کا دو سال کا بجٹ منظور ہو جائے۔

نیتن یاہو صرف ایک سال کا بجٹ منظور کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے پاس پارلیمنٹ کی تحلیل کا موقع رہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 299 ہوگئی ہے۔

عبرانی اخبارات کے مطابق کورونا کا شکار ہونے والے 233 فوجی صحت یاب ہوگئے ہیں۔ 66 اسرائیلی فوجی بدستور مریض ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ کورونا کے شبے میں 2500 اسرائیلی فوجیوں کو قرنطینہ منتقل کیا گیا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close