اہم ترین خبریںپاکستان

دوسری بار جبری لاپتہ شیعہ عزادار کامران حیدر زیدی کی اہلیہ اور معصوم بچے ریاست سے انصاف کے طلبگار

تفصیلات کے مطابق اٹھارہ ماہ کی جبری طور پر گمشدگی سے نجات پا کر آزاد ہونے والے کراچی کے رہائشی کامران حیدرزیدی کو آٹھ ماہ آزاد فضاء میں سانس لینے کے بعد 16اکتوبر کو دوبارہ چادر اور چار دیواری پامال کرتے ہوئے دوبارہ ان کے گھرسے اغواء کرکے لاپتہ کردیا گیا۔

شیعیت نیوز: پاکستان میں شیعہ جوانوں کی جبری گمشدگیوں کا نا ختم ہونے والا ظالمانہ سلسلہ تاحال جاری ہے ، بیلنس پالیسی کی بھینٹ چڑھنے والے شیعہ جوانوں میںسے ایک بےگناہ شیعہ جوان کامران حیدر زیدی کو اٹھارہ ماہ کی جبری گمشدگی سے نجات کے آٹھ ماہ بعد دوبارہ لاپتہ کردیا گیا ۔ گھر کے واحد کفیل کی دوبارہ گمشدگی کا ایک ماہ مکمل ہونے پر اہل خانہ،مغوی کی اہلیہ اور معصوم بچے ریاست پاکستان سے انصاف کے منتظر ۔

تفصیلات کے مطابق اٹھارہ ماہ کی جبری طور پر گمشدگی سے نجات پا کر آزاد ہونے والے کراچی کے رہائشی کامران حیدرزیدی کو آٹھ ماہ آزاد فضاء میں سانس لینے کے بعد 16اکتوبر کو دوبارہ چادر اور چار دیواری پامال کرتے ہوئے دوبارہ ان کے گھرسے اغواء کرکے لاپتہ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: داعشی رہنما معاویہ اعظم کا دورہ کراچی، کالعدم سپاہ صحابہ سادہ لوح اہل سنت کو ورغلا کر فرقہ واریت پھیلانے کیلئے سرگرم

ذرائع کے مطابق کامران حیدرزیدی کی دوسری بار جبری گمشدگی کا ایک ماہ مکمل ہونے پر متاثرہ خاندان ،مغوی کی اہلیہ اور معصوم بچوں نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی پاکستانی شہری کواُٹھاکر غائب کردینا یہ کہاں کا قانون و انصاف ہے۔اہل خانہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا کہ اس بابت انکوائری کی جائےکہ ریاستی ادارے کسی ذاتی رنجش کی بناءپر تو شیعہ جوانوں کو بار بار جبری گمشدگی شکارنہیں کررہے ؟

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار، متحدہ عرب امارات کا پاکستانیوں کے خلاف شرمناک اقدامات کا آغاز

انہوں نے مزید کہاکہ سید کامران حیدر زیدی کو پہلے ہی ایک سال تک جبری غائب رکھا اور اب آٹھ ماہ کے بعد دوبارہ ریاستی ادارے گھر سے اُٹھا کر لے گئے،جس کا اب تک کچھ پتہ نہیں کہ کہاں اور کس حال میں ہے، خدارا ان تمام مسنگ پرسن پر رحم کرو،اور ان تمام لوگوں کو ظاہر یا رہا کرو اور اگر کوئی جرم کیا ہے تو عدالت میں پیش کرو۔ جو خدا کی مخلوق پر رحم کرتا ہے تو خدا بھی ضرور اس پررحم کرتاہے۔ آپ کی یہ رحم دلی کسی ایک جان پر نہیں بلکہ ایک جان سے منسلک درجنوں جانوں پرہوگی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close