کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
شیعت نیوز اسپیشل

شیعہ مسنگ پرسنز کے ناکردہ جرائم کی تفصیلات 

تحریر : غلام حسین  شیعت نیوز اسپیشل

اس وقت کراچی میں درجہ حرارت کی شدت ، سخت دھوپ، ناقابل برداشت گرمی جہاں میرے جیسے عام انسانوں کو گھر میں آرام پر مجبور کررہی ہے وہیں پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی کراچی رہائشگاہ کے باہر بوڑھی خواتین اور معصوم بچے کھلی سڑک پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ۔ یہ وہ بدقسمت پاکستانی شہری ہیں کہ جن کے پیارے ، کمائو پوت بڑے، چھوٹے صرف اس جرم میں غائب کردیئے گئے ہیں کہ وہ شیعہ ہیں ۔

 

شیعہ یعنی وہ مسلمان کہ جو توحید ، عدل، نبوت ، امامت قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو قرآن و اہلبیت  سے تمسک پر کوئی سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نہیں ۔ انکا جرم یہ ہے کہ پاکستان کا بانی اور بابائے قوم انکا ہم مسلک اثنا عشری شیعہ مسلمان تھا!

حریت و آزادی کی جدوجہد کی صدیوں پر محیط تاریخ، ظالم کے مقابلے میں قیام اور مظلوم کی نصرت سے کبھی پیچھے نہ ہٹنا ، یہ انکا ناقابل معافی جرم ٹھہرا ۔ اگر انکا یہ جذبہ اور یہ آئیڈیالوجی نہ ہوتی تو آج یہ پاکستان بھی ہندوستان ہی ہوتا اور کوئی بال ٹھاکرے ، کوئی آر ایس ایس، یہاں وہ سب کچھ کررہے ہوتے جو بھارت میں آج بھی ہورہا ہے ۔

بات صرف گم کردہ بے قصور شیعہ جوانوں کی رہائی تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ بات اب آگے تک جائے گی کہ مادر وطن پاکستان کو سعودی بادشاہت کی کالونی بننے نہیں دیا جائے گا!

انکے ’’جرائم ‘‘ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان کا نظریاتی باپ ڈاکٹر محمد اقبال المعروف علامہ اقبال بھی ’’اول مسلم شہہ مرداں علی‘‘ کہہ کر انہی کا ہم فکر رہا ہے ۔ دونوں ہی کا پیر مرشد بلافصل علی مولا ہے اور دونوں ہی کی آنکھوں کو خاک مدینہ و نجف کا سرمہ نورانیت بخشتا آیا ہے ۔ اور جن کا مرشد حیدر کرار ہو ، انکی زبان میثمی نہ ہو ، یہ کیسے ممکن ہے!

یقینا سبھی جاننا چاہتے ہیں کہ شیعہ مسنگ پرسنز کا جرم کیا ہے. کوئی ایک نہیں بلکہ ایک طویل فہرست ہے لیکن یہ فہرست جرائم کی نہیں بلکہ ناکردہ جرائم کی ہے ۔ کالعدم دہشت گروہوں یا تکفیری نظریات کے پیروکار جو آجکل ذرایع ابلاغ میں گھس بیٹھے ہیں ، انکویہ فہرست ضرور پڑھنی چاہئے ۔ پاکستان کے شیعہ جوانوں کا، علمائے کرام ، ذاکرین عظام، شیعہ قائدین و زعماء کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا اور نہ ہی اپنے جوانوں کو کرنے دیا کہ جس سے پاکستان کا تین سو ارب ڈالر کا مالی نقصان اور اکیاسی ہزار شہداء و زخمی پر مشتمل جانی نقصان ہوتا ۔

پاکستان کے غیرت مند بیٹوں کے ساتھ ریاست کا یہ سوتیلا سلوک اپنی جگہ، قید و بند کی صعوبتیں اپنی جگہ ۔ لیکن ان صابرمائوں ، بہنوں ، بیٹیوں ، اور ننھے منے بچوں کا پر امن احتجاج ، دھرنا، مقاومت و استقامت ان سب کو بے نقاب کررہی ہے ۔

پاکستان کو جو یہ نقصانات ہوئے، اس میں شیعوں نے کوئی حصہ نہیں ڈالا ۔ کیا یہ کوئی چھوٹا جرم ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی تکفیری یا لسانی دہشت گرد گروہ بنایا ہی نہیں کہ جو اس نقصان میں کوئی کردار ادا کرپاتا ۔ اور اس جرم کا سبب ایک اور جرم تھا اور وہ بھی ناقابل معافی جرم کہ پاکستان کے شیعہ شہریوں میں کوئی بھی جھنگوی، لدھیا نوی ، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، القاعدہ، طالبان، جماعت الاحرار، جنداللہ جیسے ’’کارہائے نمایاں ‘‘ انجام دینے پر کبھی بھی آمادہ نہیں ہوا ۔

اور جھنگوی، لدھیانوی اور انکے اتحادی ٹولے کے ان’’ کارہائے نمایاں ‘‘ کی چند جھلکیاں کہ پاکستان کی بری فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو راولپنڈی کے اندر گھس کر فوجیوں کو مارا ۔ کافر کافر کے نعرے پر مبنی جھنگوی لدھیانوی آئیڈیالوجی نے پورے پاکستان میں مسلح افواج اور حساس تنصیبات کو اڑایا، اسپیشل سروسز گروپ ، آئی ایس آئی پر خودکش حملے کئے ۔ تکفیری کارہائے نمایاں میں بزرگان دین کے مزارات مقدسہ پر خود کش بمباروں کے حملے بھی شامل ہیں ۔ جھنگوی ، لدھیانوی تکفیری آئیڈیالوجی کے کارہائے نمایاں میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم بچوں اور خواتین اساتذہ کا قتل عام بھی شامل ہے ۔

پاکستان کے شیعہ شہریوں کا ایک اور جرم یہ ہے کہ انہوں نے کبھی بھی پاکستان توڑنے کا یا علیحدگی پسندی کا نعرہ نہیں لگایا اور نہ ہی دوسرے کسی مسلمان کو کافر بنانے کا کارخانہ کھولا!! پاکستان کے شیعہ شہریوں کا ناقابل معافی جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مادر وطن پاکستان کے ریاستی اداروں اور اہلکاروں کے خلاف کبھی ہتھیار نہیں اٹھائے ۔کیا یہ ناکردہ جرائم کم ہیں شیعہ جوانوں کو گم کرنے کے لئے.

جنہوں نے پاکستان کو اسی ہزار شہداء و زخمی دیئے ، تین سو بلین ڈالر کا نقصان دیا ،ہر محب وطن امن پاکستانی خوب جانتا ہے کہ یہ کون ہیں اور کن کے لاڈلے اور اثاثے ہیں ۔ کم بخت شیعوں میں تو کوئی منظور پشتین، بالاچ مری یا براھمداغ بگٹی بھی نہیں ہوتے کہ کسی طرح دل کو قرار آجاتا کہ وردی والے شاید سچ بول رہے ہوں گے!!

پاکستان کے غیرت مند بیٹوں کے ساتھ ریاست کا یہ سوتیلا سلوک اپنی جگہ، قید و بند کی صعوبتیں اپنی جگہ ۔ لیکن ان صابرمائوں ، بہنوں ، بیٹیوں ، اور ننھے منے بچوں کا پر امن احتجاج ، دھرنا، مقاومت و استقامت ان سب کو بے نقاب کررہی ہے ۔ انکی فریاد نے پوری دنیا میں امام زمان عج کے چاہنے والوں کو یکجا کردیا ہے ۔ آج پورا پاکستان سڑکوں پر نکلا ہے ۔ یہ مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس کی اپیل پر لبیک کہنے والوں کے اجتماعات ہیں ۔

ہر لب پر یہی نعرہ ہے کہ قید کے تالے ٹوٹیں گے، قید ی ہمارے چھوٹیں گے ۔ علامہ شہنشاہ نقوی سے لے کر علامہ احمد اقبال رضوی و علامہ حسن ظفر نقوی تک علمائے دین و ذاکرین اہلبیت،نوحہ خوانوں سے لے کر ماتمی انجمنوں اور سنگتوں تک ہر عزادار حسینی اپنی ملت کی مظلومیت پر گریاں ہیں ۔ سبھی دھرنا دینے والے مظلوم خانوادگان کی حمایت میں نکلے ہیں

دوسری طرف نامور دینی اسکالر علامہ طالب جوہری نے متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے بے قصور گم کردہ جوانوں کی غیر اعلانیہ و غیر قانونی قید و بند پر خاموش نہیں رہیں گے ۔ طبعیت ناساز ہونے اور بڑھاپے کے باوجود انکی جواں للکار نے بھی اپنا اثر دکھایا ہے ۔ گم کردہ بے قصور شیعہ جوانوں کی رہائی کے لئے شیعہ مسنگ پرسنز ریلیز کمیٹی کے سید راشد رضوی، حسن رضا سہیل نے متاثرہ خانوادوں کے ہمراہ دھرنے کو چھٹے روز میں کامیابی سے داخل کردیا ہے ۔

ہر لب پر یہی نعرہ ہے کہ قید کے تالے ٹوٹیں گے، قید ی ہمارے چھوٹیں گے ۔ علامہ شہنشاہ نقوی سے لے کر علامہ احمد اقبال رضوی و علامہ حسن ظفر نقوی تک علمائے دین و ذاکرین اہلبیت،نوحہ خوانوں سے لے کر ماتمی انجمنوں اور سنگتوں تک ہر عزادار حسینی اپنی ملت کی مظلومیت پر گریاں ہیں ۔ سبھی دھرنا دینے والے مظلوم خانوادگان کی حمایت میں نکلے ہیں ۔ بات صرف گم کردہ بے قصور شیعہ جوانوں کی رہائی تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ بات اب آگے تک جائے گی کہ مادر وطن پاکستان کو سعودی بادشاہت کی کالونی بننے نہیں دیا جائے گا!

پاکستان میں صرف ایک پراکسی وار ہے اور وہ ہے امریکی اتحاد کی اور اس اتحاد میں سعودی بادشاہت اور امریکا ہی پاکستان کے پچھلے چالیس برسوں کے مالی و جانی نقصانات کے ذمے دار ہیں ۔ بات انکے بارے میں ہونی چاہیے ۔ بات اس جعلی جہاد کے بارے میں ہونی چاہیے جس نے پاکستان میں منشیات اور ہتھیاروں کے اسمگلروں اور کافر کافر کہنے والے مساجد و مدارس کو پاکستان بھر میں پھیلا دیا ۔

جب تک اس غلطی کو غلطی نہیں مانا جائے گا، جب تک اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے اس سلسلے کو نہیں روکا جائے گا، پاکستان کا نقصان ہوتا رہے گا ۔ پاکستانیو! یہ مادر وطن پاکستان ہم سب کا ہے، آدم بو ، آدم بو کرنے والے ان آدم خور تکفیریوں اور انکےآقائوں سے خبردار رہو ۔ مظلومو! متحدہوجائو، دہشت گردی کے شکار پاکستانیو ، اس ظلم کے ماسٹر مائنڈ کو بے نقاب کرو، مذمت کرو، فریاد بلند کرو ۔ آج مادر وطن پاکستان اپنے غیرت مند بیٹوں سے بیداری کا تقاضا کررہا ہے ۔

شیعہ مسنگ پرسنز کےمسئلے پر وزیر اعظم اور صدر براہ راست ذمہ دار ہیں

لاپتہ افراد مسئلہ،علامہ شہنشاہ نقوی نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا

خانوادہ اسیران ملت جعفریہ کے احتجاجی دھرنے کی حمایت میں ایم ڈبلیوایم کے تحت سکردومیں علامتی دھرنا

ٹیگز
Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close