اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے آئینی حقوق پر حملہ

پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے آئینی حقوق پر حملہ

ٍ پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے آئینی حقوق پر حملہ ہورہا ہے اور تاثر یہ ہے کہ ریاستی سرپرستی میں بعض مولوی حضرات کو حملہ آور بنایا گیا ہے۔ یقینا ایک عام آدمی ایک عام پاکستانی یہ جاننا چاہے گا کہ کونسے آئینی حقوق پر حملہ ہورہا ہے، تو اسکا جواب جاننے کے لیے اس تحریر کا مطالعہ فرمائیے۔

قرارداد مقاصد پر اثناعشری بارہ امامی شیعہ اسلامی علمائے کرام کے دستخط

یوں تو آئین نے متعدد حقوق کی ضمانت دی ہے لیکن ان میں سے محض چند ایک کو بیان کرتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کی تمہید اور ابتدائیہ ہی سے واضح ہے کہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے اور سرکاری مذہب اسلام ہے۔ جو قرارداد مقاصد آئین پاکستان کا حصہ ہے اس قرارداد مقاصد پر اثناعشری بارہ امامی شیعہ اسلامی علمائے کرام کے دستخط ہیں۔

پاکستان کے آئین کی شق 260 کی آخری دو ذیلی شقوں میں واضح ہے کہ پاکستان کے مسلمان شہری کون ہیں اور غیر مسلم شہری کون ہیں۔

آرٹیکل نمبر 20ہر شخص کو اپنے مذہب کی پیروی کا حق

پاکستان کے آئین میں بنیادی حقوق اور حکمت عملی کے اصول کے باب کے تحت (شق 9) جان کی سلامتی اور آزادی کا حق بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔ اسی میں آرٹیکل نمبر 20 کے تحت ہر شخص کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسکی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا۔ اور ہر مذہبی گروہ اور اسکے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، برقرار اور انکے انتظام کرنے کا حق ہوگا۔

آئین پاکستان کی شق 227اور اسکی تشریح

آئین پاکستان کی شق 227اور اسکی تشریح میں واضح لکھا ہے کہ کسی مسلم فرقے کے قانون شخصی پر اس شق کا اطلاق کرتے ہوئے عبارت قرآن وسنت سے مراد مذکورہ فرقے کی کی ہوئی توضیح کے مطابق قرآن و سنت مراد ہوگی۔

یہ محض چند شقیں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کو ان سارے حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔

 

 

 

پاکستان اور خطے کی غیر یقینی صورتحال (دوسری قسط)
پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے آئینی حقوق پر حملہ
تکفیراور شیعہ نسل کشی

پاکستان میں ایسے متعدد جماعتیں یا ٹولے اور مولوی اور انکے حامی موجود ہیں کہ جنہوں نے علی الاعلان شیعہ مسلمانوں کی تکفیر کرکے ان کی جان و مال و عزت اوردینی و مذہبی آزادیوں پر حملے کیے ہیں۔

مثال کے طور پر کالعدم انجمن سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، اہلسنت والجماعت، مولوی لدھیانوی، مولوی اورنگزیب فاروقی اور انکے دہشت گرد گروہ کے سابقین اورموجودہ افراد، تحریک لبیک کے کارکنان اوررہنم اتکفیراور شیعہ نسل کشی میں علی الاعلان ملوث ہیں۔

مفتی منیب اور انکے ہمنوا بدمعاش غنڈے مولوی

انکی دیکھا دیکھی آجکل خاص طور پر رضاخانی مسلک کے مفتی منیب اور انکے ہمنوا چند بدمعاش غنڈے مولوی اور متعدد کارکنان بھی پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں پر حملے کررہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ نفرت انگیز تقاریرکرکے عوام الناس کو گمراہ کن باتوں کے ذریعے شیعہ مسلمان شہریوں کے خلاف حملوں پر اکسارہے ہیں۔

پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے آئینی حقوق پر حملہ

حالیہ  1442ع کے محرم الحرام میں ان کے اعلانیہ تکفیری بیانیے کے بعد صوبہ خیبر پختونخواہ میں اب تک چار شیعہ مسلمان شہید کیے جاچکے ہیں۔ ایک شیعہ مسلمان شہری ضلع منڈی بہاء الدین میں شہید کیا گیا جبکہ ایک اور کو ان دہشت گردوں نے اسلام آباد میں شہید کیا۔

عزاداری سید الشہداء امام حسین ع کے جلوسوں اور مجالس پر حملے

پورے پاکستان میں ان غنڈوں نے عزاداری سید الشہداء امام حسین ع کے جلوسوں اور مجالس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا اور متعدد مقامات پر حملے بھی کیے۔ ضلع خیرپور صوبہ سندھ میں شیعہ مسلمان شہریوں سے زبردستی تبدیلی مسلک کے بیانات دینے پر مجبور کیا اور انکی وڈیوز نشر کیں گئیں۔

مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں دیوبندی مولویوں کے اجتماع سے واپسی پر

کراچی میں صدر پارکنگ پلازہ سے کچھ فاصلے پر سڑک کے دوسری طرف لائنزایریا کی شیعہ مسجد و امام بارگاہ پر فائرنگ اور پتھراؤ کیا، تکفیری نعرے لگائے اور حضرت عباس علمدار کربلا کے علم اور وہاں اللہ، رسول اللہ ﷺ سمیت پنجتن پاک کے مبارک ناموں اور دیگر آئمہ اہل بیت ؑ کے پاک ناموں کو لعنت دی گئی۔

یہ سب کچھ مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں دیوبندی مولویوں کے اجتماع سے واپسی پر 11ستمبر 2020ع کو ہوا۔ اس جلسے میں اورنگزیب فاروقی سمیت دیگر نے نفرت انگیز اشتعال انگیز تقاریر کیں گئیں۔ اور کالعدم تکفیری ناصبی دہشت گروہ انجمن سپاہ صحابہ اہل سنت والجماعت لشکر جھنگوی کے سرغنہ و کارکنان نے شرکت کی۔

مفتی منبیب رضاخانی بریلوی مسلک مولوی کی قیادت میں

بارہ ستمبر 2020ع کو ایم اے جناح روڈ پر مفتی منبیب رضاخانی بریلوی مسلک مولوی کی قیادت میں مولوی مظفر شاہ قادری، مولوی شاہ عبدالحق قادری وغیرہ نے تکفیری و توہین آمیز اشتعال انگیز تقاریر کیں۔

احادیث

خواجہ غریب نواز کے خلاف بھی مولوی مظفرقادری نے بکواس کی

حتی کہ صوفی بزرگ خواجہ غریب نواز کے خلاف بھی مولوی مظفرقادری نے بکواس کی۔۔ اور سنی بزرگ عالم تفتازانی کو مظفر قادری نے تفتازانیہ کہا۔

ملتان میں بھی مفتی منیب اور دیگرا ن نے یہی کچھ کیا۔ ضلع بدین میں بھی شیعہ مسلمانوں کےآئینی حق پر ڈاکہ ڈالا دیا گیا۔ ملک بھر سے یہی اطلاعات موصول ہوئیں۔

پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کی جان و مال و عزت پر حملے

پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کی جان و مال و عزت پر حملے کرکے انہیں قرآن و سنت کی شیعہ اسلامی تشریح کے مطابق زندگی گذارنے سے روکا جارہا ہے۔ اور اس ضمن میں پاکستان کے ریاستی اداروں کے بہت سے حکام نے بھی کالعدم تکفیری ناصبی دہشت گرد ٹولے اور دیگر متعصب منافرت پسند مولویوں کے ایجنڈا پر عمل کیا ہے۔

یزید اور اسکے باپ دادا پر اللہ کی لعنت

یوم عاشورادس محرم کو کراچی میں شیعہ مسلمان نمازیوں نے زیارت عاشورا کی قرات کی۔ اس کے چند عربی جملوں کو بنیاد بناکر شیعوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرکے وہ سب کچھ کیا گیا جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا۔ پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کا یہ بنیادی انسانی، اسلامی دینی و مذہبی، آئینی و قانونی حق ہے کہ وہ زیارت عاشورا پڑھیں۔ اس میں یزید اور اسکے باپ دادا پر اللہ کی لعنت یہ جملے پڑھنے سے کسی بھی شیعہ مسلمان شہری کو روکنا اور دیگر افراد کو اکسانا، یہ سب کچھ پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کے مسلمہ حقوق پر ایک کھلا حملہ ہے۔

درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی کا موقف

مفتی عبدالعلیم قادری، مولوی بندیالوی، مظفر قادری سمیت متعدد افراد نے آل محمد اہل بیت نبوۃ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہوئے یزید ملعون اور اسکے باپ دادا کا دفاع کرکے پاکستان سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت برصغیر کے مشہور و معروف خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی کا موقف ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ سنی اہل سنت اور صوفیائے کرام اہل بیت نبوۃ ﷺ آلؑ محمد ﷺ سے انتہائی محبت اور عقیدت رکھتے ہیں اور یزید اور اسکے باپ دادا پر لعنت بھیجتے ہیں۔

گستاخ ٹولہ اپنی حد میں رہے

مفتی منیب، مولوی جالندھری، مفتی عبدالعلیم اور انکا پورا گستاخ ٹولہ اپنی حد میں رہیں۔ پاکستان کے شیعہ مسلمان شہری قرآن و سنت پر انکی ناصبی تشریح کو مسترد کرکے محمد و آل محمد ﷺ پنجتن پاک اہل بیت نبوۃ آل محمد ﷺسمیت بارہ آئمہ از اہلبیت نبوۃ ﷺ کی تشریح و تفسیر کو ماننے کے پابند ہیں۔ جو مولوی لفظ لعنت کو گالی کہتے ہیں اور جو امام حسین ع کے قاتل یزید اور اسکے باپ دادا کو صحابی کہہ کر بچانے کی کوشش کرتے ہیں، انکو تو سنی بھی سنی ماننے کے لیے تیار نہیں، وہ دوسروں کو کیوں دھوکہ دے رہے ہیں۔

مفتی عبد العلیم قادری

پوری دنیا کے اہل سنت کو پتہ لگ چکا ہے کہ

یہ تو پوری دنیا کے اہل سنت کو پتہ لگ چکا ہے کہ پاکستان میں رضاخانی بریلوی مسلک کے مفتی منیب کا ٹولہ تحریک لبیک کے ساتھ مل کر اسی تکفیری دہشت گردی اور منافرت کے مشن کو لے کر میدان میں نکلا ہے کہ جس دہشتگردانہ مشن کو انجمن سپاہ صحابہ دیوبندی تکفیری کے مولوی محمد احمد لدھیانوی اینڈ کمپنی انجام دیتی آئی ہے۔ یہ ٹولہ کس کو مانتا ہے اور کس کو نہیں مانتا یہ ہمارا مسئلہ نہیں لیکن پاکستان کے شیعہ مسلمان شہری کس کو مانیں گے اور کس کو نہیں، اسکا فیصلہ کرنے کا حق نہ تو مفتی منیب کو ہے، نہ مولوی حنیف جالندھری کو ہے اور نہ ہی حق نوا جھنگوی لعنۃ اللہ علیہ کے جانشینوں کو۔

سارے سرپسند دہشت گردوں کو سخت ترین سزائیں دیں

پاکستان کے صدر، وزیر اعظم، چیف جسٹس، بری فوج کے سربراہ، وزارت داخلہ اور وزرت مذہبی امور پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے مسلمہ بنیادی انسانی حقوق بشمول جان و عزت و ناموس و جائیدادکی حفاظت کا حق، مذہبی آزادی کے ضامن دیگر آئینی حقوق کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے، ان حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ہر ایک کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کرکے انہیں سخت ترین سزاؤں کے ذریعے قانون پسند شہری بنانے کے عمل کو یقینی بنائیں۔

اور خاص طور پر مفتی منیب، مولوی حنیف جالندھری، تحریک لبیک، سپاہ صحابہ سمیت ان سارے سرپسند دہشت گردوں کے خلاف انسداد دہشت گردی اور توہین مذہب کے قانون کے تحت مقدمات درج کرکے انکا فوری ٹرائل کرکے شیعہ مسلمان پاکستانی شہریوں کو انصاف فراہم کرے۔

پاکستان کے شیعہ مسلمانو ں کے مسلمہ آئینی حقوق پر حملے

ملک بھر میں شیعہ مسلمان شہریوں کے خلاف جھوٹے مقدمات کو فوری طور پر منسوخ کردیا جائے کیونکہ یہ مقدمات بذات خود پاکستان کے شیعہ مسلمانو ں کے مسلمہ آئینی حقوق پر حملے کے مترادف ہیں۔ آئندہ کسی بھی عنوان سے شیعہ مسلمانوں کے بنیادی آئینی حقوق کے خلاف کسی اجتماع کی اجازت نہ دی جائے اور اب تک جو مقدس عنوان کے تحت جو اشتعال انگیز اجتماعات ہوئے ہیں ان سب کی الگ الگ ایف آئی آرز درج کرکے عدالتی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے آئینی حقوق پر حملہ

پاکستان کے شیعہ مسلمان شہری یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ریاستی اداروں کے متعدد افسران نے آئین شکن نفرت پسند دہشت گرد متعصب مولویو ں اور انکے کارکنان کے سہولت کار کا کردار اداکیا ہے۔ ان کے خلاف بھی فوری کارروائی کی جائے۔

عمرو بن الحمق پاکستانی
Sunni cleric Pir Syed Mehfooz Mashhadi demands removal of Mufti Muneeb
بنوامیہ کا دفاع کرنے والے جمعراتی شاہ اور مولوی

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close