اہم ترین خبریںپاکستان

صدر پاکستان عارف علوی سے شیعہ قائدین کی ملاقات، محرم کیلئے 20 نکاتی ایس او پیز پر اتفاق

شیعیت نیوز : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور شیعہ قائدین کے اجلاس میں محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں میں کورونا سے بچائو کے لئے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کیلئے 20 نکاتی ایس او پیز پر اتفاق کیا گیا ہے۔

کورونا وبا کے پیش نظر محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کے دوران معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کی تیاری اور کووڈ۔19 کے تدارک کیلئے رہنما اصولوں پر عملدرآمد میں تعاون کرنے کے لئے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ممتاز شیعہ علماء کی فکری نشست کی ایوان صدر اسلام آباد میں صدارت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ، وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، علامہ عارف واحدی، علامہ راجہ ناصر عبا س جعفری، ڈاکٹر غضنفر مہدی، علامہ قمر حیدر زیدی، راجہ بشارت امامی اور علامہ سجاد حسین نقوی نے شرکت کی۔

یہ خبر بھی پڑھیں بھارت کو بڑا دھچکا، ایران نے چاہ بہار کے بعد گیس فیلڈ منصوبے سے بھی بھارت کو فارغ کردیا

صوبائی گورنرز، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان، پنجاب سے علامہ افضل حسین حیدری اور علامہ حسین اکبر، سندھ سے علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ سیدباقر عباس زیدی، علامہ سیّد علی قرار نقوی اور علامہ فرقان حیدر عابدی، خیبر پختونخوا سے علامہ عابد حسین شاکری اور علامہ ارشاد حسین خلیلی، بلوچستان سے علامہ سید ہاشم موسوی اور علامہ شیخ جمعہ اسدی جبکہ آزاد جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے مفتی کفایت حسین نقوی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ماہ رمضان اور عیدالفطر کے موقع پر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے کورونا وبا کی روک تھام کیلئے مکمل تعاون کیا اور انہیں امید ہے کہ اس بار بھی علمائے کرام مثالی تعاون کا مظاہرہ کریں گے۔ محرم الحرام کے دوران علماء کرام نے متفقہ طور پر عزاداری اور مجالس کیلئے درج ذیل ایس او پیز پر اتفاق کیا۔

1۔ مجالس و عزاداری میں فاصلے کا خیال رکھا جائے گا۔
2۔ امام بارگاہ میں لوگوں کے بیٹھنے کے لیے نشان لگائے جائیں گے۔
3۔ ماسک کے بغیر کسی کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
4۔ امام بارگاہ کی انتظامیہ داخلی راستوں کے باہر ماسک فراہم کرسکتی ہے۔
5۔ قالین کے استعمال سے اجتناب کیا جائے گا، البتہ امام بارگاہ سے باہر جراثیم سے پاک چٹائیاں بچھائی جا سکتی ہیں، اگر قالین ہوں تو روزانہ ان پر کلورین کا اسپرے کیا جائے گا۔
6۔ گھروں میں منعقدہ مجالس میں بھی ایس او پیز کا خیال رکھا جائے گا۔
7۔ کورونا کی وجہ سے طویل مجالس کے انعقاد سے اجتناب کیا جائے گا۔
8۔ مجالس کو مقررہ وقت پر ہی شروع اور ختم کیا جائے گا۔
9۔ عمر رسیدہ افراد کی طرف سے عمومی مجالس میں شرکت سے اجتناب کیا جائیگا اور انہیں صرف گھروں کی مجالس تک محدود رہنے کی گذارش کی جائیگی۔
10۔ مجالس کے شرکاء غیر ضروری اشیاء اپنے ہمراہ نہیں لائیںگے۔
11۔ مصافحہ، معانقہ وغیرہ سے احتراز کیا جائے گا۔
12۔ تبرک اور نیاز کے دستر خوان کی بجائے پارسل کا اہتمام کیا جائے گا۔
13۔ عزادار عَلم، تعزیہ اور شبیہہ کی زیارت کے موقع پر ہجوم سے اجتناب کریں اور دور سے زیارت پر اِکتفا کریں گے۔
14۔ عزاداری کے منتظمین مقامی انتظامیہ سے رابطے میں رہیں گے اور ایکدوسرے سے تعاون کریںگے۔
15۔ محرم الحرام اور عاشورہ کے جلوسوں کے لیے ایس او پیز کے تحت لائسنس یافتہ اور روایتی جلوس کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ اجازت ہوگی۔
16۔ جلوس میں ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال اور ماسک لگانا ضروری ہوگا۔
17۔ جلوس میں افراد کے مابین مناسب فاصلے کو برقرار رکھا جائے گا۔
18۔ پانی پینے اور پلانے کے دوران مشترکہ برتن کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے ڈسپوزل گلاس اور پلیٹس کا استعمال کیا جائے گا۔
19۔ رضاکار اسکاؤٹس کے ذریعے جلوس کے شرکاء سے ہدایات پر عمل درآمد کرایا جائے گا۔
20۔ شرکاء کی تعداد مناسب اور کم ترین وقت میں جلوس کو مکمل کرنے کی کوشش کی جائے، عمر رسیدہ اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد جلوس میں شرکت سے گریز کریں۔
اجلاس کے آخر میں صدر مملکت نے کہا کہ عزاداران ِمظلوم کربلا اور بانیان مجالس و لائسنسداران جلوس علم و ذوالجناح و تعزیہ 20 نکاتی ایس او پیز پر عمل کرکے قومی یکجہتی اور مختلف مکاتب فکر کے مابین ہم آہنگی برقرار رکھنے اور کورونا کے پھیلاؤ کے انسداد میں تعاون کرنے اور عزاداروں کے جان کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close