اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

پاکستان کے قیام و استحکام میں شیعہ مسلمانوں کا کردار

پاکستان کے قیام و استحکام میں شیعہ مسلمانوں کا کردار

پاکستان کے قیام و استحکام میں شیعہ مسلمانوں کا کردارمورخین و محقین سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شیعہ مسلمانوں کے اس تعمیری کردار، قربانیوں اور خدمات سے متعلق حقائق ایک عام پاکستانی بھی جان لے۔ تقسیم ہند سے قبل برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کی جدوجہد میں شیعہ مسلمان بزرگان کا قائدانہ کلیدی کردار تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔

اس عنوان کے تحت یہ پہلی تحریر14اگست 2020ع کے پرمسرت موقع پر پیش خدمت ہے۔ حسن اتفاق کہ یہ تاریخی جشن آزادی عید مباہلہ کے دن آیا ہے۔ یقینا اس تحریر میں پاکستان کے قیام و استحکام میں شیعہ مسلمانوں کے کردار پرچیدہ چیدہ نکات مکمل نہیں ہوسکتے، اس لیے اس تحریر کو ابتدائیہ سمجھا جائے۔ اسی عنوان پر آئندہ بھی لکھا جائے گا۔

علامہ سید محمد باقر دہلوی

جب برصغیر کے مسلمان اور دیگر اقوام انگریز سامراج کے ظلم وستم کا شکار تھے۔ اس مشکل ترین دور میں ظالم و جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہہ کر جہاد اکبر کرنے والے شیعہ مومن مسلمان علامہ سید محمد باقر دہلوی ہی تھے۔

پاکستان کے قیام و استحکام میں شیعہ مسلمانوں کا کردار

پاکستان میں ادب کے شعبے سے وابستہ اور نثری ادب سے شغف رکھنے والے ۱ردو کے عالمی شہرت یافتہ ادیب محمد حسین آزادکے نام سے اچھی طرح مانوس ہیں، علامہ سید محمد باقر دہلوی انکے والد تھے۔ وہ سال 1780ع میں پیدا ہوئے اور عرف عام میں انہیں بعد ازاں مولوی محمد باقر کہا جانے لگا۔

صحافتی محاذ کے قائد

سال 1836ع میں جب حکومت نے پریس ایکٹ میں ترمیم کے بعد اخبارات کی اشاعت کی اجازت دی تو جنوری 1837ع میں مولوی محمد باقر نے ہفت روزہ دہلی اخبار شروع کیا۔ وہ اس اخبار کے مدیر اعلیٰ بھی تھے تو تبصرہ نگار بھی۔ شاید پبلشر انکے والد محمد اکبر ہوا کرتے تھے۔ لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انگریز سامراج کے مقابلے میں برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق اور آزادی کی تحریک میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے صحافتی محاذ کے قائد علامہ سید محمد باقر دہلوی تھے۔ اور اردو صحافت کے بانی بھی وہی تھے۔

سید امیر علی (رضوی)

اسی طرح قانون اور تعلیم کے شعبے میں سید امیر علی (رضوی) ایک معروف شیعہ مسلمان تھے۔ بنگال میں جس مسلمان نے سب سے پہلے ماسٹرز (ایم اے) اور بار ایٹ لاء تک کامیاب تعلیم حاصل کی وہ سید امیر علی تھے۔ کلکتہ کی عدلیہ کے پہلے مسلمان جج تھے۔ بنگال کی مقننہ کے پہلے مسلمان رکن بھی وہی تھے۔ وہاں وہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کیا کرتے تھے۔

سینٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن

یہ ضرور تھا کہ انکا مائنڈ سیٹ یہ تھا کہ جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید تعلیمی ادارے بنیں۔ شروع میں برصغیر کے بعض بزرگان کا نظریہ یہ بھی رہا تھا کہ ہندو بالادستی کے مقابلے میں آزادی حاصل کرنے تک انگریز بالادستی انکی نظر میں قابل برداشت تھی۔ لیکن سید امیر علی اور سر سید احمد خان کے نظریات میں بنیادی فرق یہ تھا کہ سید امیر علی مسلمانان ہند کے سیاسی حقوق کے لیے محض انگریزی تعلیم کو کافی نہیں سمجھتے تھے بلکہ مسلمانوں کی سیاسی تربیت پر تاکید کیا کرتے تھے۔

حسن علی آفندی

یادرہے کہ سید امیرعلی نے 1877ع میں سینٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن قائم کی تھی۔ اور اسی پلیٹ فارم سے مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کیا کرتے تھے۔

سید امیر علی ایک مقدمہ کے سلسلے میں 1884ع میں کلکتہ سے سندھ تشریف لائے تو انکی ملاقات حسن علی آفندی سے بھی ہوئی۔ اس ملاقات میں حسن علی آفندی نے سندھ کے مسلمانوں کی حالت زار کی طرف متوجہ کیا۔ سید امیر علی نے انہیں یہاں بھی نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کی شاخ کھولنے کا مشور ہ دیا۔ حسن علی آفندی نے اس پر عمل کیا اور وہی اسکے (سندھ میں) پہلے صدر بنے۔

سندھ مدرسۃ الاسلامسے قیام پاکستان کی قرارداد تک

یہ قیام پاکستان سے پہلے کی تین اہم شخصیات اور انکے کردار سے متعلق تاریخی حقائق ہیں جو انتہائی اختصار کے ساتھ بیان کی گئی۔ یقینا مطالعہ پاکستان کے عنوان سے نصاب میں جو کتاب پڑھائی جاتی ہے، اسے مطالعہ ہندوستان کا نام دیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ کیونکہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان کے لیے جس مقننہ نے سب سے پہلے باقاعدہ قرارداد منظور کی وہ سندھ اسمبلی تھی۔ اور اس سندھ اسمبلی کے اراکین نے مادر علمی سندھ مدرسۃ الاسلام سے تعلیم حاصل کی تھی۔

پاکستان کے قیام و استحکام میں شیعہ مسلمانوں کا کردار

حتیٰ کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی یہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس سندھ مدرسۃ الاسلام کے موسس (بانی) حسن علی آفندی تھے۔ اور جس وقت سندھ مدرسۃ الاسلام قائم کیا گیا، اس وقت صوبہ سندھ میں فقط تین مسلمان میٹرک کی سطح تک تعلیم یافتہ تھے۔

سانحہ جامع مسجد حیدری سندھ مدرسۃ الاسلام

پاکستان کے قیام کے لئے شیعہ بزرگان کے اس کردار کو چھپانے والے اور شیعہ مسلمانوں کو کافر اور رافضی کہنے والی دیوبندی ناصبی تکفیری دہشت گرد انجمن سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے پیروکار دہشت گردوں نے اسی سندھ مدرسۃ الاسلام کے احاطے میں شیعہ جامع مسجد حیدری میں 7مئی 2004ع عین نماز جمعہ کے دوران خودکش بمبار کے ذریعے دھماکہ کیا۔ اس سانحہ جامع مسجد حیدری سندھ مدرسۃ الاسلام میں 45 شیعہ مومن نمازی نماز جمعہ پڑھتے ہوئے شہید ہوئے۔

آج جب پاکستانی قوم 14اگست 2020ع کو مادروطن پاکستان کی آزادی کی 73ویں سالگرہ منارہی ہے تو اس پرمسرت موقع پر قوم اپنے ان محسنوں کو ہرگز فراموش نہ کرے جن کا تذکرہ اس تحریر میں کیا گیا۔

پاکستان کے قیام و استحکام میں شیعہ مسلمانوں کا کردار

تکفیری اور ناصبی دہشت گردی اور رفض و کفر کے کفریہ فسادی فتووں کے باوجود پاکستان کے شیعہ مسلمان شہری آج بھی مادروطن پاکستان میں نمایاں تعمیری کردار ادا کررہے ہیں۔ آج بھی پاکستان کے شیعہ مسلمان شہریوں کا یہی ایک احسان سب پر بھاری ہے کہ وہ مادروطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ہراول دستے کی قیادت کررہے ہیں۔

عین علی برائے شیعیت نیوز اسپیشل

(اس موضوع پر مزید تحریریں بھی وقتاً فوقتاً پیش کی جاتیں رہیں گی)۔

بانی پاکستان ، بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح خود ایک شیعہ مسلمان ہی تھے۔ سعودی، اماراتی و بحرینی شیوخ و شاہ کے غلام حکمران اور زرخرید فسادی تکفیری ناصبی ملا آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خوداحتسابی کریں اورتوبہ کرکے حق کو قبول کرلیں۔ پاکستان زندہ باد۔ میں پاکستان ہوں ، میں زندہ باد ہوں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close