اہم ترین خبریںپاکستان

اب کوئی کسی کو کافرقرارنہیں دےسکتا، شیعہ سنی علماءکے 20نکاتی ضابطہ اخلاق پر دستخط

اجلاس میں شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی اور ضابطہ اخلاق پر دستخط مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری، شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی ، علامہ افتخار حسین نقوی نے کیئے

شیعیت نیوز:ملک واسلام دشمن قوتوں کے عزائم خاک میں مل گئے، اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ کسی فرد کو یہ حق نہیں کہ وہ حکومتی، مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے افراد سمیت کسی بھی فرد کو کافر قرار دے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق کی زیر صدارت علماء و مشائخ کے اجلاس کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل نے پیغام پاکستان کی روشنی میں نیا 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔

جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق کے مطابق ملک میں مسلکی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ شریعت کے نفاذ کے لیے پرامن جدوجہد کریں۔ جاری اعلامیہ کے مطابق اسلام کے نفاذ کے نام پر ریاست کے خلاف مسلح کارروائی، تشدد اور انتشار کی تمام صورتیں بغاوت سمجھی جائیں گی۔ علماء، مشائخ تشدد کو جڑ سے اکھاڑے کے لیے ریاست خاص طور پر مسلح افواج کی بھرپور حمایت کریں۔

یہ بھی پڑھیں: خطرات کا مؤثر جواب دینےکیلئے ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے،آرمی چیف جنرل قمر باجوہ

اجلاس میں شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی اور ضابطہ اخلاق پر دستخط مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری، شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی ، علامہ افتخار حسین نقوی نے کیئےجبکہ دیگر مکاتب فکر سےمفتی تقی عثمانی ، مفتی منیب الرحمٰن ، حنیف جالندھری،چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز، پروفیسر ساجد میر اور دیگر علماء نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت اور ریاستی ادارے بوکھلاہٹ کا شکار،شاہراہوں سے لبیک یاحسین ؑ کے پرچم اترنے شروع کردیئے

ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا ہےکہ ریاست کے خلاف لسانی، علاقائی اور مذہبی تحریکوں کا حصہ بننے سے گریز کریں۔ کوئی شخص فرقہ وارانہ نفرت اور جبراً اپنے نظریات دوسرے پر مسلط نہ کرے، کیونکہ یہ شریعت کی نفی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے اعلامیہ کے مطابق تمام شہریوں کا فرض ہے کہ دستور پاکستان کو تسلیم کریں، شہری ریاست پاکستان کی تکریم اور عزت کو یقینی بنائیں، ریاست سے اپنی وفاداری کے حلف کو نبھائیں، کسی شخص کو حق حاصل نہیں کہ وہ کسی بھی فرد کو کافر قرار دے، ریاست، ریاستی اداروں، سکیورٹی اداروں اور مسلح افواج کی حمایت کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close