یمن

شمال مغربی یمن میں سعودی جنگی طیاروں کے حملے

یمن کے مختلف علاقوں میں سعودی عرب کے جارح جنگی طیاروں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس درمیان جارح سعودی اتحاد نے مغربی شہرالحدیدہ میں ایک بار پھر جنگ بندی کی وسیع خلاف ورزی کی ہے۔

المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے شمال مغربی یمن کے صوبہ حجہ کے شہر حرض اور المرزوق پربمباری کی ہے جس میں شہریوں کے گھروں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ درایں اثنا جارح سعودی اتحاد کے فوجیوں نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران صوبہ الحدیدہ میں ایک سو ستر بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔

مغربی یمن کے صوبہ الحدیدہ میں دوہزار اٹھارہ کے اسٹاک ہوم سمجھوتے کی بنیاد پر جنگ بندی نافذ ہے تاہم جارح سعودی اتحاد اس سمجھوتے کی ہمیشہ ہی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے۔

اس بیچ یمن کے قومی مذاکراتی وفد کے سربراہ نے الحدیدہ میں میں جنگ بندی کے لئے سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی پابندی کئے جانے پر تاکید کی ہے۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق یمن کے قومی مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے اسٹاک ہوم سمجھوتے کی پابندی اور اقوام متحدہ کے وفد کے مشترکہ پروگرام میں فعال اور مثبت تعاون پر مبنی مارٹین گریفتھس کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹین گریفتھس نے کہا ہے کہ صوبہ الحدیدہ میں حالیہ فوجی اقدامات میں شدت اور یمنی عام شہریوں کا قتل عام باعث تشویش ہے اور اس طرح کے اقدامات میں شدت الحدیدہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اور یہ اسٹاک ہوم معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ مارٹین گریفتھس نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ یمن میں جنگ کا سلسلہ بند کریں اور اسٹاک ہوم سمجھوتے کے تناظر میں اپنے عہد و پیمان کااحترام کریں۔

یمن امن مذاکرات کا چوتھا دور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی سربراہی اور تمام یمنی فریقوں کی موجودگی میں دسمبر دو ہزار اٹھارہ میں اسٹاک ہوم میں شروع ہوا تھا اور تیرہ دسمبر دوہزار اٹھارہ کو صوبہ الحدیدہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ ماضی میں یمن کی جنگ ختم کرنے کے لئے کچھ اقدامات انجام پائے تھے تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جارحانہ سرشت کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگئے۔

سعودی عرب، امریکہ اور چند عرب ممالک کی حمایت سے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے کے ساتھ ہی اس ملک کا بری بحری اور فضائی محاصرہ کئے ہوئے ہے۔

یمن میں جنگ کی آگ بھڑکانے والوں کو اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ اس تباہ کن جنگ میں اب تک سولہ ہزار سے زیادہ یمنی شہری شہید، دسیوں ہزار زخمی اور لاکھوں بےگھر و دربدر ہوچکے ہیں ۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close