عراق

سیاسی بحران ختم، عراق کے نامزد وزیراعظم کی مکمل حمایت کا اعلان

شیعت نیوز : عراق کی سیاسی جماعتوں نے موجودہ سیاسی بحران سے نمٹنے میں نامزد وزیراعظم مصطفی الکاظمی کی حمایت کا متفقہ طور پر اعلان کیا ہے۔

عراق میں عدنان الزرفی کے، حکومت بنانے سے منصرف ہونے کے بعد ، صدر برہم صالح نے ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ متفقہ کنڈیڈیٹ مصطفی الکاظمی کو وزیر اعظم نامزد کرنے کے بعد حکومت بنانے کی دعوت دی۔ مصطفی کاظمی نے حکومت بنانے کی ذمہ داری ملنے کے بعد اعلان کیا کہ وہ سبھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشورے کے بعد قومی وفاق کی ایسی کابینہ تشکیل دیں گے جو موجودہ مسائل کے حل کی توانائی رکھنے کے ساتھ ہی عوام کے لئے قابل قبول بھی ہوگی۔ اس سلسلے میں انھوں نے ملک کے سرکردہ سیاستدانوں اور مختلف سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے ۔

اس سلسلے میں نئی مثبت پیشرفت یہ سامنے آئی ہے کہ ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر متفقہ طور پر کابینہ کی تشکیل اور مسائل کے حل میں مصطفی الکاظمی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ عراق کے معروف سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ محمد شیاع السودانی نے اعلان کیا ہے کہ ملک اس وقت مختلف بحرانوں اور مسائل سے دوچارہے جس سے نمٹنے کے لئے مخلص، اور صاف ستھری شہرت رکھنے والے ماہرین کی ٹیم کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس ٹیم کے انتخاب اور موجودہ بحران اور مسائل سے ملک کے نکالنے میں نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور ان کی حمایت ضروری ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : مصطفی الکاظمی عراق کی موجودہ مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں۔ عراقی صدر

انھوں نے کہا کہ نامزد وزیراعظم مصطفی الکاظمی سے پہلے محمد توفیق علاوی اور عدنان الزرفی کو حکومت بنانے کی دعوت دی جاچکی ہے لیکن یہ دونوں ہی حکومت بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ محمد شیاع السودانی نے کہا کہ ان دونوں کی ناکامی کے علل و اسباب موجودہ نامزد وزیراعظم مصطفی الکاظمی کے سامنے موجود ہیں، وہ ان سے فائدہ اٹھائیں گے تاکہ ایک مضبوط اور توانا حکومت بناسکیں۔ عراق کے الفتح پارلیمانی دھڑے کے سربراہ محمد الغبان نے بھی کہا ہے کہ ملک کے سبھی سیاسی گروہوں اور سیاستدانوں کے مشورے سے ایک مضبوط اور توانا کابینہ بننےجارہی ہے۔

انھوں نے کہا کابینہ کے اراکین کے انتخاب کا اختیار مصطفی الکاظمی کے پاس ہے لیکن وہ کوشش کررہے ہیں کہ اتفاق رائے سے کابینہ کے اراکین کا انتخاب کیا جائے تاکہ پارلیمنٹ سے اس کو بغیر کسی رکاوٹ کے اعتماد کا ووٹ مل جائے۔ ا لفتح اتحاد کے سربراہ محمد الغبان نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کے بارے میں کہا کہ مصطفی الکاظمی کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ انتخابات میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ نہ لگے اور اس سے پہلے ایسے حالات فراہم کئے جائیں کہ انتخابات کی شفافیت یقینی ہوجائے۔ انھوں نے کہا کہ نئے نامزد وزیر اعظم کی حمایت پر ملک کی سبھی سیاسی جماعتیں اور اتحاد متفق ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ البتہ ان کی حمایت جاری رہنے کی شرط یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی اور علاقائی روابط میں توازن برقرار رکھیں اور ملکوں سے روابط باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہوں اور کسی کی بھی طاقت کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ عراقی سرزمین سے کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لئے کام لے۔

ادھر عراقی پارلیمنٹ کے سیکورٹی اور دفاعی امور کے کمیشن کے رکن علی الغانمی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ ملک کی سیاسی قوتیں چاہتی ہیں کہ نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی عراق میں امریکی افواج کی موجودگی ختم کرانے کے تعلق سے ٹھوس اقدامات انجام دیں ۔ انھوں نے کہا کہ ملک کا نیا وزیر اعظم عراق سے امریکی افواج کے انخلا کی پارلیمنٹ کی قرار داد پرعمل درآمد کا پابند ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی امریکی افواج عراق سے پوری نہیں باہر نہیں نکلی ہیں اور الکاظمی کو یہ اہم کام بھی انجام دینا ہے۔

قابل ذکر ہےکہ عراق کے نئے نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے وعدہ کیا ہےکہ ، عراقی عوام کے لئے قابل قبول اور مضبوظ کابینہ کی تشکیل کے بعد ملک کے اقتدار اعلی کا استحکام ، بحرانوں اور مسائل کا خاتمہ اور اقتصادی ترقی ان کی ترجیحات میں شامل ہوں گی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close