اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریں

سخت قوانین ،وزیراعظم عمران خان کے نام سوشل میڈیا تنظیم کا خط،خدمات جاری رکھنا مشکل

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر ان قواعد کو ختم نہ کیا گیا تو پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی مفلوج ہو کر رہ جائے گی

شیعت نیوز: پاکستان میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے سخت قوانین ،وزیراعظم کے نام سوشل میڈیا تنظیم کا خط،خدمات جاری رکھنا مشکل ،جیف پین نے لکھا ہے کہ دنیا کے کسی اور ملک نے اس طرح کے وسیع البنیاد قواعد نہیں بنائےفیس بک، ٹوئٹر اور گوگل سمیت سوشل میڈیا انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ’ایشیا انٹرنیٹ کوالیشن‘ نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط میں نئے سوشل میڈیا قواعد اور سخت قوانین پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان قواعد کی روشنی میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے مشکل ہو گا کہ وہ اپنی خدمات پاکستانی صارفین اور کاروبار کو مہیا کر سکیں۔

اے آئی سی کی ویب سایٹ پر موجود وزیراعظم عمران خان کے نام خط میں تنظیم کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے لکھا ہے کہ دنیا کے کسی اور ملک نے اس طرح کے وسیع البنیاد قواعد نہیں بنائے اس لیے خدشہ ہے کہ ان سے پاکستان دنیا بھر میں تنہا نہ ہو جائے اور پاکستانی صارفین اور کاروبار خوامخواہ انٹرنیٹ کی معیشت کے فوائد سے محروم نہ رہ جائیں۔’دراصل جس طرح کے سخت قوانین بنائے گئے ہیں اس سے اے آئی سی کی ممبر کمپنیوں کے لیے انتہائی مشکل ہو جائے گا کہ وہ اپنی خدمات پاکستانی صارفین یا کاروباروں اداروں کو فراہم کر سکیں۔‘

یہ بھی پڑھیں:سرزمین مقدس حجاز میں اسلامی اقتدار کی پامالی کا سلسلہ جاری،خواتین اورمردوں کے تاش کے مقابلے

اے آئی سی ایک صنعتی تنظیم ہے جو فیس بک، ٹوئٹر، گوگل، ایمازون، یاہو اور دیگر انٹرنیٹ کمپنیوں کی  نمائندگی کرتی ہے اور ایشیا بھر میں حکومتوں کے ساتھ ان کمپنیوں کے معاملات پر بات چیت کرتی ہے۔پاکستانی کی طرف سے گذشتہ ماہ منظور کیے گئے سوشل میڈیا قواعد پر اپنی تفصیلی رائے میں اے آئی سی نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کے مواقع موجود ہیں مگر اس طرح کے قواعد کے بغیر مشاورت اچانک آنے سے حکومت کے ان دعوں کی نفی ہوئی ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے دستیاب ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر ان قواعد کو ختم نہ کیا گیا تو پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔اے آئی سی کا کہنا ہے کہ ان قواعد کو بناتے وقت حکومت سے باہر کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔ ’جس طریقے سے یہ قواعد بنائے گئے ہیں اس سے بین الاقوامی کمپنیاں اس امر پر مجبور ہو گئی ہیں کہ وہ پاکستان کے ریگولیٹری ماحول اور اس ماحول میں کام کرنے کے بارے میں دوبارہ سوچیں۔‘خط میں کہا گیا ہے کہ نئے قواعد پاکستان کے اپنے قوانین پیکا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی و اسرائیلی ڈیل آف سینچری پاکستانی سینیٹ نے مسترد کردی

خط میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ قواعد سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صارفین کی پرائیویسی اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے مروجہ انسانی حقوق کی روایات سے روگردانی کریں اس لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت مناسب مشاورت کا آغاز کرے تاکہ وسیع البنیاد شرکت سے نئے قواعد بنائے جا سکیں۔اے آئی سی کے مطابق اسے احساس ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں غیرقانونی اور مسائل پر مبنی آن لائن مواد پر قابو پانے کے حوالے سے حکمت عملی بنا رہی ہیں تاہم اس سلسلے میں زیادہ تر مقامات پر طویل اور ثبوتوں پر مبنی تحقیق اور مشاورت کے ساتھ کسی حل کی طرف جایا جا رہا ہے نہ کہ بیک جنبش قلم یک طرفہ قواعد کا راستہ اپنایا جائے۔

برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے  اے آئی سی کے خط میں کہا گیا ہے کہ وہاں آن لائن نقصان کا وائیٹ پیپر سال پہلے جاری ہوا پھر حکومت نے بارہ فروری کو اپنا جواب جاری کیا جس میں کافی وضاحت کے ساتھ حکومت نے اعادہ کیا کہ وہ انسانی حقوق خاص طور پر اظہار رائے کا احترام کرتی ہے اور شفافیت اور کاروبار یقینی بنانے کے عزم کو دہرایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے غیور عوام امریکی سازشوں کو کبھی کامیاب نھیں ہونے دیں گے، ثروت اعجاز قادری

اے آئی سی کا کہنا ہے کہ ان قواعد کو بناتے وقت حکومت سے باہر کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔برطانیہ نے جلد بازی میں قانون سازی کے بجائے ابھی بھی مزید مشاورت اور سٹیڈیز جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے اور ویسے بھی آن لائن محاذ پر برطانوی کوششیں زیادہ تر بچوں کے ساتھ زیادتی اور نفرت پر مبنی مواد کی روک تھام تک محدود ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ نئے قواعد پاکستان کے اپنے قوانین پیکا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے کیونکہ ان دونوں قوانین میں اس طرح کے اختیارات نہیں دیے گئے بلکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو تحفظ دیا گیا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close