اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشل

آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی امریکی سازش

تحریر :عین علی / شیعت نیوز اسپیشل

آج کل امریکی حکومت ایران کو ڈرانے دھمکانے اور اس سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے خلیج فارس میں نت نئی سازشوں میں مصروف ہے۔اور یہاں بھی اس کی پوری توجہ خلیج فارس کی تنگ ترین گذرگاہ آبنائے ہرمز جسے تنگنائے ھرمز بھی کہا جاتا ہے، اس پر ہے۔ ٹرمپ حکومت اس گذر گاہ پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔ چونکہ ایران کی جانب سے ایسی کوئی غلطی کی نہیں جارہی کہ جس کو جواز بناکر امریکی سرکار یہاں پر قبضہ جماسکے، اس لئے ٹرمپ انتظامیہ بھی وہی کچھ کررہی ہے جو ماضی میں امریکی ہرکارے کرتے رہے ہیں یعنی فالس فلیگ آپریشن۔ یعنی خود کوئی کارروائی کرنا یا کروانا اور اس کا الزام دوسرے پر ڈال دینا۔ امریکا اور اسرائیل اس کام کے ماہر ہیں۔

آبنائے ہرمز قانونی طور پر ایران کا حصہ ہے، یہاں کی گذرگاہ ایران کی سمندری حدود میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کو انرجی کی بیس فیصد فراہمی جن بحری جہازوں (بحری آئل ٹینکرز) کے ذریعے ممکن بنائی جاتی ہے، وہ اسی آبنائے ہرمز سے گذرتے ہیں۔ چونکہ یہ گذرگاہ ایرانی حدود میں ہے، اس لئے ہر گذرنے والے کو ایران کی اجازت لینا لازمی ہے اور امریکا بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر اسکے بحری بیڑوں یا کشتیوں نے یہاں سے گذرنا ہے تو اسے بھی ایران سے اجازت کی درخواست کرنا لازمی ہے۔ بس یہی ایک وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں ایران کے خلاف امریکی سازشوں میں سرفہرست آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنا ہے۔

یہی سب ہے کہ کم و بیش پینتیس دنوں میں خلیج فارس کے سمندر میں دو مرتبہ تخریب کاری کے واقعات پیش آئے ہیں اور ان میں چھ بحری جہاز یا بحری آئل ٹینکرز نشانہ بنائے گئے اور دونوں مرتبہ امریکا اور سعودی عرب نے بغیر تحقیقات و شواہد کے الزام ایران پر عائد کردیا۔ جیساکہ ماہ مئی 2019ع میں ٹرمپ حکومت نے ایران کے خلاف الزامات اور اقدامات میں تیزی دکھائی تو12 مئی کو آبنائے ہرمز کے باہر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ کے قریب چار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنانے کی خبر سامنے آئی جس میں دو سعودی جہاز بھی تھے جبکہ ایک ناروے اور ایک متحدہ عرب امارات کا بھی تھا۔کیا یہ محض اتفاق تھا کہ امریکی وزیر خارجہ اس تخریب کاری کے بعد یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اور دیگر حکام سے ملاقات کررہے تھے جبکہ یورپی یونین ملاقاتوں کے اگلے دن اچانک روس پہنچ گئے اور وہاں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔

آبنائے ہرمز قانونی طور پر ایران کا حصہ ہے، یہاں کی گذرگاہ ایران کی سمندری حدود میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گذرنے والے کو ایران کی اجازت لینا لازمی ہے

پھر کیا یہ بھی محض اتفاق تھا کہ جاپان کے وزیر اعظم آبے سنز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پیغام لے کر ایران کے دورے پر آئے تواگلے ہی روز خلیج عمان کے قریب جاپانی بحری جہازاور ایک اور مرتبہ یورپی ملک ناروے ہی کے ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔جاپان اور ایران کے مابین اچھے تجارتی تعلقات ہیں جبکہ ناروے سے بھی ایران کے تعلقات خراب نہیں بلکہ امریکی لابی تو ناروے اور عمان کے ذریعے بھی ایران سے بات چیت کے اشارے دے چکے ہیں۔ پھرخلیج عمان میں یہ تخریب کاری اور جاپان و ناروے کے جہازوں کے ساتھ!!!!

جاپان کی جس کمپنی کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا اسکے صدر نے ٹوکیو میں پریس کانفرنس میں امریکا کی فراہم کردہ معلومات کو جھوٹی معلومات قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ انکے بحری جہاز کو نہ تو آبی بم (تارپیڈو) اور نہ ہی سمندری سرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا بلکہ یہ فضاء سے کارروائی ہوئی یعنی اڑتی ہوئی کوئی چیز جو گولیاں بھی ہوسکتی ہیں وہ جہاز سے ٹکرائیں تھیں۔

البتہ دوسری طرف چونکہ امریکی اتحاد ایک طے شدہ گیم پلان کے تحت یہ سب کچھ کررہا ہے تو امریکی حکام نے براہ راست ایران پر الزام لگادیا، اسکے بعد سعودی ولی عہد سلطنت محمد بن سلمان اور برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے بھی امریکا کی ہاں میں ملاتے ہوئے ایران پر الزام لگادیا۔ ایسانہیں ہے کہ دیگر ممالک اس مسئلے پر ایران کا ساتھ دے رہے ہیں یا دیں گے، اس لئے ایران اور اسکے دوست اور اتحادی ممالک کو مل جل کر اس کا سدباب کرنا ہوگا۔

یہ برطانیہ جو آج پھر امریکی الزامات کی تائید کررہا ہے اس نے امریکا کے ساتھ مل کر 1957ع میں بھی شام کی حکومت تبدیل کرنے کی سازش کی تھی جس میں سرحد پر جعلی واقعات کرکے اپنے اتحادی ممالک کے ذریعے شام پر یلغار کرنا تھی۔ عراق پر 2003ع میں جنگ کے وقت بھی یہی کھیل کھیلا گیا تھا۔

17جون بروز پیر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکاء امریکی الزامات پرعدم اعتماد کرتے نظر آئے۔ اقوام متحدہ کے تحت آزاد و غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے جس سے وقتی طور پر برطانیہ اس وقت یورپ میں تنہا ہوچکا ہے۔بظاہر امریکا اپنے اہم ترین اتحادی یورپی یونین کی حمایت سے بھی محروم نظر آرہا ہے لیکن درحقیقت یورپی یونین بھی ایران کی کوئی عملی مدد کرتی دکھائی نہیں دے رہی۔ بلکہ یورپی یونین تو ایران نیوکلیئر ڈیل میں اپنے حصے کی ذمے داری انجام دینے میں بھی عملی طور ناکام نظر آرہی ہے، اس لئے یورپی یونین کے موقف کی حیثیت ایک کاغذی بیان سے زیادہ کی نہیں۔

ایران کے مقابلے پر امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب ہیں جو جھوٹے الزامات لگاکر ملکوں کو تباہ و برباد کرنے کی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔یہ امریکا تھا جس نے نارتھ ووڈز آپریشن ترتیب دیا تھا کہ کیوبا کے خلاف کارروائی کے لئے جو جواز درکار ہے اسے بھی ایجاد کرلیا جائے۔ یہ تحریری ثبوت خود ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایران کے وزیر اعظم مصدق کی حکومت ہٹانے کے لئے امریکا نے ایران میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بم دھماکے کئے اور ان ایجنٹوں نے خود کو کمیونسٹ یعنی امریکا کا دشمن ظاہر کیا تھا۔یہ برطانیہ جو آج پھر امریکی الزامات کی تائید کررہا ہے اس نے امریکا کے ساتھ مل کر 1957ع میں بھی شام کی حکومت تبدیل کرنے کی سازش کی تھی جس میں سرحد پر جعلی واقعات کرکے اپنے اتحادی ممالک کے ذریعے شام پر یلغار کرنا تھی۔ عراق پر 2003ع میں جنگ کے وقت بھی یہی کھیل کھیلا گیا تھا۔

اسرائیل نے مصر میں اپنے دہشت گردی سیل کے ذریعے 1954ع میں کئی اہم عمارتوں میں بم نصب کروائے تھے اور ان میں امریکی تنصیبات بھی شامل تھیں جبکہ انکا منصوبہ یہ تھا کہ دھماکے انکے یہودی مصری ایجنٹ کریں اور الزام اسرائیل کے عرب مخالفین پر لگادیا جائے۔ ہوا یوں کہ ایک بم غلطی سے پہلے ہی پھٹ گیا تو مصر کے حکام کو بم دھماکہ کرنے والے کی اصلیت کا پتہ چل گیا۔

تاریخ کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا کسی طور قبضہ نہیں کرسکتا بلکہ اسے لگ پتہ جائے گا کہ یہ آیت اللہ خامنہ ای کا ایران ہے صدام کا عرق، ملا عمر کا افغانستان اور قذافی کا لبیا نہیں ہے!!!!

یہی نہیں بلکہ 1980ع کے عشرے میں ایران، عراق جنگ کے دوران خلیج فارس میں ٹینکرز کی جنگ بھی لڑی گئی تھی۔ اس میں بھی امریکا نے دنیا کو اور خاص طور امریکی عوام کو گمراہ کیا۔ دوسرے ملکوں کے بحری آئل ٹینکرز پر امریکی جھنڈے لگاکر یہ جھوٹا تاثر دیا گیا گویا امریکی مفادات بھی خطرے میں ہیں،امریکی جھنڈے لگاکر یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ ایران امریکی آئل ٹینکرز پر بھی حملے کررہا ہے۔ آج پھر امریکا نئے طریقوں سے پرانا کھیل کھیل رہا ہے۔

صورتحال ماضی سے مختلف نہیں ہے لیکن یہ خلیج فارس ہے اور یہاں سلامتی کی ذمے داری ایران پر ہے جس کا کہنا ہے کہ اگر اسے آبنائے ہرمز کا راستہ بند کرنا ہوگا تو وہ علی الاعلان یہ کرے گا۔ ایران کا کہنا یہ بھی ہے کہ آبنائے ہرمز سیکیورٹی اس کے ذمے ہے، امریکا یہ علاقہ چھوڑ کر چلاجائے۔ طریقہ کار تو یہی ثابت کرتا ہے کہ آئل ٹینکرز پر یہ حملے یا تخریب کاری امریکا و اسرائیل و سعودیہ کے ہی فالس فلیگ آپریشن ہیں۔

جاپان کے وزیر اعظم کو آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ وہ ٹرمپ کو اس لائق سمجھتے ہی نہیں کہ اس سے پیغامات کا تبادلہ کریں، یعنی امریکی حکومت کی نظر میں انکی دال نہیں گلی تو اگلے روز جاپان ہی کے بحری جہاز کو نشانہ بنا ڈالا۔ انقلاب کے بعد کے ایران کی چالیس سالہ تاریخ کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا کسی طور قبضہ نہیں کرسکتا بلکہ اسے لگ پتہ جائے گا کہ یہ آیت اللہ خامنہ ای کا ایران ہے صدام کا عرق، ملا عمر کا افغانستان اور قذافی کا لبیا نہیں ہے!!!!

ریفرنس :

https://archive.nytimes.com/www.nytimes.com/library/world/mideast/041600iran-cia-index.html

57 Years Ago: U.S. and Britain Approved Use of Islamic Extremists to Topple Syrian Government


https://www.theguardian.com/politics/2003/sep/27/uk.syria1?cat=politics&type=article

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close