پاکستان

حکومتی زیارات پالیسی کو مسترد کرتے ہیں، علامہ سبطین سبزواری

شیعیت نیوز : شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے جامع مسجد الزہراء جامعۃ النجف ڈسکہ میں خطبہ جمعہ کے دوران کہا کہ
حکومت کی جانب سے بنائی گئی زیارات پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کربلا، نجف اشرف اور مشہد مقدس کی زیارت کیلئے سہولیات کا مطالبہ کیا تھانہ کہ پابندیوں کا، اس بیہودہ پالیسی کے حوالے سے جلد لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اور اگر یہ پالیسی واپس نہ لی گئی تو احتجاج بھی کریں گے۔

زیارات پالیسی، مجلس وحدت مسلمین قابل اعتراض نکات کے خلاف میدان میں آگئی

علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ شیعہ علماء کونسل کا مطالبہ تھا کہ زائرین کو ایک ماہ میں صرف دو بار بارڈر کراس کرانے کے بجائے، آنے جانے پر کسی قسم کی پابندی عائد نہ کی جائے اور سکیورٹی فراہم کی جائے، جبکہ پاکستان ہاؤس کے نام پر تفتان بارڈر پر قائم بلڈنگ کو قید خانہ بنانے کی بجائے اسے اچھی رہائش گاہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ زیارت پر ہر قسم کی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ حکومت زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کی پالیسی بنائے، پابندیوں کی زیارات پالیسی قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 6 جولائی تشیع کی فتح و نصرت اور اتحاد امت کی یادگار جدوجہد کا دن ہے، اسے متنازع نہ بنایا جائے۔ 6 جولائی 1980ء کو علامہ مفتی جعفر حسین رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں مسلمانوں پر کسی ایک فقہ کو مسلط کرنے کے بجائے متفقہ اسلامی قوانین کے نفاذ کی جدوجہد کا آغاز ہوا اور تشیع نے مطالبہ تسلیم کروایا کہ زکواۃ کی جبری کٹوتی کو قبول نہیں کریں گے اور آج اس استثنیٰ سے ہر فرقے کا پیروکار زکواۃ کی جبری کٹوتی سے سہولت حاصل کر رہا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close