اہم ترین خبریںپاکستان

ملت تشیع حالیہ اجتماعات سے کئی گناہ بڑا اجتماع کرنے کی صلاحیت رکھتی لیکن ہم ملک کو بحران میں مبتلانہیں کرناچاہتے، علامہ ساجد نقوی

"تمام مسالک کے مقدسات کی توہین حرام ہے"، تاہم تاریخی حقائق کو مناسب اور سلجھے ہوئے انداز میں بیان کرنا یہ ہمارا حق ہے، خلیفہ بلا فصل کہنا یہ ہمارا حق ہے۔

شیعیت نیوز: امام بارگاہ جامع الصادق ؑ جی نائن ٹو اسلام آباد میں عظیم الشان قومی علماءو ذاکرین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں استادالعلماء مفسر قرآن علامہ شیخ محسن نجفی، سربراہ شیعہ علماءکونسل پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی، سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، جامع المنتظر کے سربراہ علامہ حافظ ریاض نجفی، علامہ شیخ حسن جعفری، امت واحدہ کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی، مخزن العلوم جعفریہ ملتان کے سربراہ علامہ سید تقی شاہ سمیت شیعہ تنظیموں آئی ایس او، جے ایس او، اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان، اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، آئی او کے مرکزی رہنماؤں، بزرگ علماکرام و ذاکرین اور ملت تشیع کے اکابرین نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کی تمام مقتدر شیعہ شخصیات کا اپنے بنیادی عقائد پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان

کانفرنس سے خطاب میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ آج کے مشاورتی اجلاس میں جو طے ہوا ہے اس پر پورے ملک میں عمل درآمد کرایا جائے، ہم بانی اتحاد امت ہیں، ایم ایم اے اور ملی یکجہتی کونسل کے بانی ہم ہیں، حکومت کو نوٹ کرانا چاہتے ہیں کہ جو کچھ اب ہو رہا ہے یہ ماضی میں ایسا نہیں ہوا، ہم شہری حقوق پر آنچ نہیں آنے دیں گے، مسلم و غیرمسلم سب کو ان کے حقوق ملنے چاہیئں، احتجاج سب کا حق ہے، مگر تشدد اور تکفیر کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، ملت تشیع حالیہ ہونے والے اجتماعات سے کئی گناہ بڑا اجتماع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر ہم ملک کو کسی نئے بحران سے دوچار نہیں کرنا چاہتے، ہم بانی پاکستان ہیں، تشیع ایک ضابطہ کا نام ہے، ایک تہذیب کا نام ہے، حکمت، تدبر اور دانائی کیساتھ آگے بڑھیں، جو اصحاب کی بات کر رہے ہیں پہلے وہ توہین رسالت اور توہین اہل بیت کی بات کریں، باقی باتیں بعد میں آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: الباکستانیوں کو کافرکافر شیعہ کافر کے چکرمیں لگا کر پہلے آلِ النہیان اور اب آلِ الخلیفہ آلِ یہود کے بھائی بن گئے

علامہ ساجد نقوی نے واضح کیا کہ ہم تکفیری نہیں ہیں،ہم کسی کو کافر بھی نہیں قرار دیتے ،کافر قرار دینا تشیع کے ہاں درست نہیں ہے،ہم گالم گلوچ والے بھی نہیں ہیں، ہم توہین کرنے والے بھی نہیں ہیں، ہمارے مراجع کا واضح موقف ہے کہ "تمام مسالک کے مقدسات کی توہین حرام ہے”، تاہم تاریخی حقائق کو مناسب اور سلجھے ہوئے انداز میں بیان کرنا یہ ہمارا حق ہے، خلیفہ بلا فصل کہنا یہ ہمارا حق ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close