دنیا

سوڈان, اسرائیل تعلقات کی برقراری ایک نئے موڑ پر

اسرائیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کل رات ایک اسرائیلی طیارے نے سوڈان میں لینڈنگ کی جس سے اسرائیل اور سوڈان کے مابین تعلقات کی برقراری کے لئے ساز باز مذاکرات سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کو تقویت پہنچتی ہے۔

ترک خبر رساں ایجنسی آناتولی کی رپورٹ کے مطابق قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کا ایک طیارے نے جسے صیہونی اعلی حکام استعمال کرتے ہیں، کل سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں لینڈ کیا اور پھر کئی گھنٹوں کے بعد طیارے نے اڑان بھری۔ اس رپورٹ کے مطابق اس طیارے اس وقت خرطوم ایئر پورٹ پر لینڈ کیا کہ جب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپئو سوڈان کے بارے میں ایک پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

اس سے قبل واشنگٹن پوسٹ نے لکھا تھا کہ امریکی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی برقراری کے لئے سوڈان پر سخت دباو ڈال رکھا ہے تاکہ امریکی صدر ٹرمپ اس موضوع کو انتخابات میں اپنی کامیابی کے لئے استعمال کریں۔

سعودی اخبار الشرق نے سوڈان کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ واشنگٹن نے سوڈان کو اسرائیل کے ساتھ روابط کی برقراری کے لئے 24 گھنٹےکا الٹی میٹم دیا تھا۔

سوڈان کے سرکاری ذرائع کے مطابق یہ الٹی میٹم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے قریب ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

سوڈان گزشتہ ایک سال سے اس کوشش میں ہے کہ اس کا نام امریکہ کی بلیک لسٹ سے نکل جائے۔

سوڈان پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی برقراری کے لئے امریکہ کا دباؤ ایسے میں جاری ہے کہ جب سوڈان کے عوام نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی برقراری کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے اور سوڈان کی مجمع فقہ اسلامی نے اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے روابط کی برقراری کو حرام قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ صیہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 13 اگست کو باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کے ایک سمجھوتے پر دستخط کئے جس کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی جا رہی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close