کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
اہم ترین خبریںپاکستان

پارلیمنٹ میں قانون بناؤ کہ شام جانا جرم ہے،پھر کشمیر ، یمن، برما اور افغانستان جانا بھی جرم ہوگا،علامہ سید جواد نقوی

اس سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں تشیع سخت امتحان میں گرفتار بھی ہوگا یہ سیاسی کشمکش میں احتجاج بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی حکومت کی تقویت میں بیان دیتےہیں اگر تشیع کے حامی ہیں تو اس ظالم حکومت کی ہمدردی چھوڑدیں ظاہر ہے

شیعت نیوز: سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ ؐاور جامعہ عروۃ الوثقیٰ علامہ سید جواد نقوی نے مسجد بیت العتیق میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہاکہ دوسرا اہم مسئلہ جو اس وقت جاری ہے ملک کے اندر وہ شیعہ جوان جو لاپتہ ہیں اٹھالیے گئے ہیں ان کے رہائی کیلئے کراچی میں احتجاج ہورہاہے اور اس احتجاج کے خلاف حکومتی رد و عمل ۔صدر علوی کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج جاری ہے،بغیر بتائے ہوئے ادارے اٹھاکر لی جاتے ہیں اور اتا پتہ نہیں دیتے ان کے ماں باپ اور لواحقین اس کے خلاف دھرنا دے رہے ہیں۔ابھی جو احتجاج کرنے والے ہیں ان کے مطابق حکومتی بعض افراد آئے ہیں دھرنا ختم کرنے کیلئے انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیاہے کہ یہ نامعلوم ہیں کہ یہ کہاں ہیں اور کیوں اٹھائیں ہیں اس دوران یہ جو متعدد افراد ہیں ان میں سے کچھ تو کئی سالوں سے لاپتہ ہے کوئی دو سال اور کوئی تین سالوں سے اور کچھ کو پکڑتے ہیں اور اٹھاتے ہیں اور کچھ کو لاپتہ کرتے ہیں اور کچھ پر کیس بناتےہیں۔

اس وقت تشیع کے خلاف ایک نئی لہر اٹھی ہےا ور نیا منصوبہ حالت وقوع میں ہے تشیع کے خلاف جس طرح عربی ممالک نے پاکستان کو مالی پیکج دیے ہیں اور قطر نے نئے وعدے دیے ہیں یہ وعدے مفت میں نہیں دیے ہیں،بلکہ پاکستانی حکومت سے اور اداروں سے اور افراد سے انہوں نے اپنے مطلوبہ کام لینے ہیں اس وقت پورے خطے کے اندر اور پوری دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے پاکستان کے اندر یہ اس کا ایک حصہ ہے،پوری دنیا میں تشیع کے خلاف خطر ناک صور ت حالت وقوع میں ہے ۔

یہ منصوبہ یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل اور عرب ممالک یہ تین مثلث پورے عالم اسلام کے خلاف اور بالخصوص تشیع کے خلاف پوری توانائی کے خلاف میدان میں ہیں ایران پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں اور ایران کے ساحل پر جنگی بیڑہ لگادیاہےا ور تمام درآمدات اور برآمدات پر پابندی لگائی ہوئی ہے یہ شدت کے ساتھ کررہے ہیں تاکہ ایران کے خلاف عوام اٹھے اور اسلامی حکومت ختم ہو۔

صیہونی،سعودی اور امریکی یہ تینوں ملکر کررہے ہیں ایران کی میزائل سسٹم کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور تیل سسٹم پر پابندی لگائی ہوئی ہےا ور ایرانی انقلابی فورس کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں اور اس کے مقابلے میں ایرانی قیادت پہلے سے زیادہ پائدار اور قوی قیادت کررہے ہیں ہر محاذ کے ہوشیاری کے ساتھ سنبھالا ہوا ہے۔اسی کا ایک حصہ ،امریکی ایرانی حکومت ولایت کے خلاف اور صیہونی انقلاب اسلامی کےدشمن ہیں اور سعودی عرب خود تشیع کا دشمن ہے چونکہ ان تینوں محاذوں کے ذریعے سے ان تینوں ممالک کو اپنی طرح سے شدید نقصان پہنچائیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ ولایت فقیہ کی حکومت ختم ہو اور جبکہ سعودی عرب یہ چاہتا ہے کہ تشیع کا شجرہ ختم ہوجائے ۔جبکہ شیعہ روز بروز مزید مستحکم اور مضبوط ہورہے ہیں جیسے بحرین کے اندر اہل شیعہ بہت کمزور تھےاور اب روز بروز بیدار ہوتے جارہے ہیں۔

امریکہ ایران کے خلاف اتحاد بنارہا ہےاور ہر ملک کو اکسارہا ہے کہ ایران سے تیل اور بجلی اور گیس ایران سے نہ خریدے جبکہ پاکستان کی سرحد پر گیس پہنچا ہوا ہے لیکن پاکستان اس مغربی لابی کے اندر اتنا پھنس چکا ہے کہ وہ جان بوجھ کر اس معیشیتی بد حالی سے نکال نہیں سکتا۔

امریکہ جہاں ایران کے خلاف محاذ بنا رہاہے تو وہاں چائنہ کےخلاف محاذ بنارہاہے۔پاکستان جو پہلے چائنہ کاحقیقی دوست تھا لیکن مجبوری کےمارے دوست ہے چونکہ چائنہ کا بہت بڑا خرچہ یہاں پر ہوا ہے اور اس کی انویسمنٹ یہاں پر ہےا ور اگر اب یہاں پر دونوں ممالک کے جدا ہواجائیں تو چائنہ کو نقصان ہوگا۔

پاکستانی کی معیشت چونکہ مفلو ہے اور نا اہل اشرافیہ نے اس کو مفلوج کردیا ہے پاکستان گدائی کررہے ہیںا ور عالمی مالیاتی اداروں سے رابطہ کیاہے اور پاکستان کی اس مجبوری سے بڑا فائدہ اٹھارہا ہے۔
پاکستان کی جو پارلیمان ہے اس میں عوامی نمائندے آتےہیں اور حکومتی نمائندے ہوتےہیں جس میں قانون سازی ہوتی ہے اب ان نمائندوں کو مشیروں کی جگہ پر بٹھادیاہے اور یہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کررہےہیں۔

عربی پیسے جو پاکستان کو دے رہا ہے اس کا گہرا تعلق پاکستان کے حالات کے ساتھ ہے اس پیسے سے سعودی عرب اور اس کے اتحادی پاکستان کے تشیع کا خاتمہ چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف سرکوبی کی جائے اور ان کو محو و نابود کیا جائے۔

دوسرا سعودی عرب نے عالمی طور پر عراق ،شام میں داعش کے نام سے لشکر بناکر تشیع کے خاتمے ترکیب سوچی لیکن الٹا ہوا ۔لیکن بہر حال یہ جو ماحول بن رہا ہے کہ عالمی بیڑے ایران کے اطراف میں بھیجے جارہے ہیں یہ سب آپس میں کڑی ہے جس کے واضح اثرات پاکستان پر پڑرہے ہیں۔

توجہ کریں اس بابت کے پاکستانی وزیر اعظم نے جب ایران کا دورہ کیا تو اس سے ایک روز پہلے بیان آیا کہ ایران اور پاکستان میں دہشت گردی ایران آنے والے دہشت گردوں نے کی،گویا یہ خود دلیل ہے کہ کس طرح سے یہ محاذ قائم کیا۔

کراچی کے پولیس افسر نے کہا کہ ہم نے ۲۸دہشت گرد پکڑلیے ہیں اور تازہ گروہ پکڑا ہےا ور یہ پڑوسی ملک یعنی ایران سے آیا تھا اور یہ ان کو مارنا چاہتے تھے،ان کو کیوں اٹھایا چونکہ یہ شام گئے ہیں اور اسرائیل اور داعش کےخلاف لڑاہے اور اس لئے پکڑا ہے اور جب احتجاج شروع ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ پڑوسی ملک سے تربیت لیکر پاکستان آرہے ہیں تاکہ دہشت گردی کریں۔

یہ عربی فضلے کا اثر ہے جنہوں نےپاکستان کو اس مقام تک پہنچایا ہے یہ منافق طبقہ جنہوں نے اظہار کیا کہ ہم شیعہ نہیں ہیں یہ منافق طبقہ ہے ۔

اللہ تعالیٰ نےمنافقین کی پیدائش کا ذکر کیا ہے،جنگ احد میں عبد اللہ ابن ابی اس کے ساتھ چند لوگ تھے جو ان کےساتھ ملے ہوئے تھے اور یہ ظاہراً مسلمان تھےا ور درپردہ کافروں کے ساتھ تھے اور انہوں نے جنگ سےپہلے ناکام کرنے کیلئے رسول خدا پر بہت دباؤ ڈالتےتھے کہ ہماری بات مانیں اور جب جنگ شروع ہوئی تو انہوں نے اس میں شرکت نہیں کی اور دشمنوں کی جاسوسی کرتے رہے ،اور جنگ احد میں مسلمانوں کی فتح شکست میں تبدیل ہوئی اور لنگر خوروں نے اپنی ماموریت چھوڑ دی اور اس میں بہت نقصان ہوا ور اس میں حضر ت ہمزہ ؒ بھی شہید ہوئے ۔اور جب یہ شہداء مدینہ میں لائے گئے تو ان منافقین نےکہا کہ یہ جو شہید ہوئے ہیں یہ بیوقوفی کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں یہ کیوں گئےہیں ہم نے ان کو منع کیاتھا اس طرح کی فضا انہوں نے بنائی اور اللہ نے آیت نازل کی اور مومنین جو رنجیدہ تھے وہاں پر شہداء کی تکریم کی کہ یہ جو راہ خدا میں شہید ہوئے ہیں ان کے بارے میں گمان نہ کریں کہ یہ ابھی جو منافقین طبقہ ہے ان دھرنوں والوں کو پکڑلو انہوں نے کیوں بھیجا اور یہ جو گئے ہیں ان کو بھی پکڑوکہ حسن نصراللہ کے پاس کیوں گئے ہیں یہ بن سلمان کا فضلےکا اثر ہے اور یہ ایم آئی سیکس کا تشیع کا منصوبہ ہے جو یہ کررہےہیں یہ اشتعال انگیزی کرتے ہیں تاکہ دوسرے تشیع کے خلاف کاروائی کریں اور یہ بن سلمان جو کچھ کررہا ہے اس کو اور ماحول فراہم ہو۔

اس سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں تشیع سخت امتحان میں گرفتار بھی ہوگا یہ سیاسی کشمکش میں احتجاج بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی حکومت کی تقویت میں بیان دیتےہیں اگر تشیع کے حامی ہیں تو اس ظالم حکومت کی ہمدردی چھوڑدیں ظاہر ہے مفادات مختلف ہیں اس لئے تتر بتر ہیں اور یہ مشرق وسطیٰ کا ایک حصہ ہے کہ بے جا طور پر ہراساں کیا جارہا ہے اس سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سخت امتحان ہونے والا ہے ۔

اس اسٹیبلیشمنٹ نے بہت بھونڈا طریقہ اپنایا ہوا ہے انہوں نے اگر ان جوانوں نے جرم انجام دیاہے ،تو ان کے خلاف عدالتوں کے ذریعے سے کاروائی کرو اور اگر زیارتوں پر جانا جرم ہے تو پھر آپ پارلیمنٹ میں قانون بناؤ کہ زیارات پر جانا جرم ہے ،یہ ایران میں بھی ہوا ہے اور تاریخ میں بھی ہوا ہے،اگر پاکستان میں یہ جرم ہے تو جرم کا اعلان کرو کہ یہ جرم ہے اور اس پر قانونی کاروائی کرو اور اگر شام میں جانا جرم ہے تو پھر بہت ساری جگہوں پر جانا جرم ہوگا ،کشمیر میں جانااور لونگیا میں جانا اور یمن میں جانا جرم قرار دو اور اگر ان تشیع نے کیا ہے تو ان کوجرم قرار دو اور ان کو عدالتوں میں اور پولیس کے حوالے کرو ،لیکن یہ کیا فضا قائم کی ہوئی ہے کہ لاپتہ کردیتےہیں یہ عذاب اس جوان پر نہیں ہوتا بلکہ یہ عذاب اس کے خاندان اور ماں باپ اور بھائی بہن پر ہوتاہے ۔

یہ وہی جانتا ہے جن پر یہ گذررہی ہے اور گذری ہے۔یہ دن رات اپنے لاپتہ عزیز کیلئے گلتے رہےہیں اور یہ خاندان بیسیوں لواحقین اس میں پس رہے ہیں اگر اس نے غلطی کی ہے تو اس کو عدالتوں میں لاؤ لیکن اس کو قبول نہیں کرتے۔تو پھر کیا ایک پوری ملت کو کیا تاثر دینا چاہتے ہیں تشیع کو کس کام پر اکسارہے ہیں وہی کھل کر بتادو یہ نامعقول اقدام ہے ،اور شیعہ کے علاوہ بھی لاپتہ ہیں لیکن یہ درست نہیں ہےا س سے امن قائم نہیں ہوگا اس سے جذبات جریا دار ہوتے ہیں اس سےتوہین و تحقیر ہوتی ہے ایک قوم کی آپ ذمہ دارانہ طریقے سے کریں ذماہ داران اور پولیس اور جج آپ کے پاس ہیں یہ سب اختیارر کھتے ہوئے چوروں اور ڈاکوؤں کی طرح لاپتہ کرتےہیں اور یہ عمدی کام ہے اور ایم آئی سیکس بھی ان کے ساتھ شامل ہے ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close