اہم ترین خبریںپاکستان

معاویہ اعظم پرویز الہی گٹھ جوڑ، وطن عزیز کو مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش

پنجاب اسمبلی میں یہ بل پیش کرنے والے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرامین سے بھی تصادم رکھتے ہیں جس کے مطابق وطن عزیز پاکستان میں تمام مسالک و مذاہب کو ان کی مذہبی رسومات ادا کرنی کی آزادی ہے۔

شیعیت نیوز : سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ ،بدنام زمانہ داعشی دہشت گرد معاویہ اعظم اور ق لیگ کےرکن اسمبلی حافظ عماریاسر کی ملی بھگت سے فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی ’’تحفظ بنیاد اسلام بل‘‘ منطور کرلیا گیا جو وطن عزیز میں فرقہ واریت پھیلانےکا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق ضیاء آمریت کی پیداوار ق لیگ کےسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ اوربدنام زمانہ داعشی دہشت گرد معاویہ اعظم سمیت ق لیگ کےرکن اسمبلی حافظ عماریاسر کی ملی بھگت سے فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی ’’بنیاد اسلام بل‘‘ منظور کرلیا گیا۔

اس بل کی مختلف شقوں کے ساتھ یہ شق بھی موجود ہے کہ لفظ علیہ السلام صرف انبیاء اور ختمی مرتبت حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مختص ہے جبکہ ازواج رسول امہات المومنین اور اہل بیت رسول کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام کی جگہ رضی اللہ عنہ لکھنا لازمی قرار دیاگیا ہےجبکہ شیعہ مسلک میں ازواج پیغمبر امہات المومنین ،اہل بیت اور ائمہ کو علیہ السلام مانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کاتحفظ بنیاداسلام قانون آئین پاکستان سے متصادم

بل میں لکھا گیا ہے کہ ا ن شقوں کی پابندی نہ کرنے پرکسی بھی قسم کا مواد چاہے وہ کتابی صورت میں ہو، پمفلٹ ہو یا کسی اور صورت میں اس کو پرنٹ نہیں کیا جاسکتا نہ اس کو سوشل میڈیا سمیت کسی بھی میڈیا پر چلایا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے آئین کی شق 227 قرآن وسنت سے متعلق ہر مسلک کی اپنی مسلکی تشریح کو قبول کرتی ہے۔ جب قرآن و سنت کی تشریح پر یہ واضح آئینی حق موجود ہے تو پنجاب اسمبلی سمیت کسی کو بھی اس سے متصادم قانون سازی کرنے کا حق نہیں۔ شیعہ مسلمان توحید، عدل، نبوت، امامت و قیامت پر ایمان و اعتقاد کامل رکھتے ہیں۔ سنی عقیدہ امامت کو مانتے ہی نہیں تو وہ اپنی تشریح شیعہ مسلمانوں پر کیوں مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ شیعہ اہل بیت نبوۃ کے لئے علیہ السلام کے قائل ہیں یعنی ان پر سلامتی ہو۔

پنجاب اسمبلی میں یہ بل پیش کرنے والے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرامین سے بھی تصادم رکھتے ہیں جس کے مطابق وطن عزیز پاکستان میں تمام مسالک و مذاہب کو ان کی مذہبی رسومات ادا کرنی کی آزادی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کاتحفظ بنیاداسلام قانون آئین پاکستان سے متصادم

پنجاب کا تحفظ بنیاد اسلام قانون براہ راست پاکستان کے شہریوں کو مسلکی بنیادوں پر ایک دوسرے سے متنفر کرنے کی ایک سازش ہے۔ عدالت عالیہ لاہور اور ملک کی عدالت عظمیٰ کو اس کا از خود نوٹس لینا چاہیے۔ پاکستان کے شیعہ مسلمان شہری بعد از ختم نبوت مولا امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام تا بہ امام مہدی عج بارہ معصوم اماموں کو امت کا پیشوا، رہنما، ہادی مانتے ہیں۔ اور پنجاب کا یہ نیا قانون شیعوں کو انکے اس حق سے محروم کرنے پر مبنی ہے۔ اس لئے آئین کی شق 227 سے بھی متصادم ہے اور شیعہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق، شہری آزادی اور مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔

پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والا یہ بلاس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ضیاء آمریت کی پیداوار ق لیگ اور کالعدم سپاہ صحابہ کے سرپرست بدنام زمانہ دہشتگرد اعظم طارق ملعون کے بیٹے معاویہ اعظم ( جو نام بدل کرراہ حق پارٹی کی سیٹ سے پنجاب اسمبلی کا ممبر ہے) نے ملک میں فرقہ واریت کا بیج بونے کی کوشش کی ہے ۔ اس بل کو پیش کرنے اور منظور کروانے کے پس پردہ حقائق کو تلاش کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close