اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

پاکستانی مسلمانوں کو لڑوانے کی سعودی سازش حصہ اول

پاکستانی مسلمانوں کو لڑوانے کی سعودی سازش حصہ اول

پاکستانی مسلمانوں کو لڑوانے کی سعودی سازش حصہ اول. پاکستانی مسلمانوں کو لڑوانے کی سعودی سازش کو ناکام بنانا ہر ایک پاکستانی مسلمان کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ سعودی سازش کیا ہے!؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سنی مسلمانوں کی خلافت کے خلاف سازش کرکے زایونسٹ تحریک نے برطانیہ کے ذریعے ناصبی وہابی ابن سعود کو مکہ مدینہ پرقابض کروادیا۔

اس ناجائز قبضے کے لئے سنی شیعہ دونوں مسالک کے مسلمانوں کا قتل عام ابن سعود اور اسکے ناصبی وہا بی لشکر نے کیا۔ سلطنت یا خلافت عثمانیہ کے سقوط سے پہلے ترکی کا سلطان کوسنی خلیفہ مانتے تھے اور وہی خادم حرمین شریفین ہوا کرتا تھا۔

خلافت عثمانیہ . . . سعودی سازش

چونکہ صہیونی تنظیم یعنی زایونسٹ آرگنائزیشن نے برطانیہ اور امریکا کے ساتھ خفیہ معاہدے کررکھے تھے، اسی کے تحت نسل پرست یہودی زایونسٹ تنظیم نے سب سے پہلے مکہ و مدینہ سے انتقام لیا۔ اور یہ انہی کی سازش تھی کہ محمد بن عبدالوہاب کے بزرگان دین کے خلاف باطل نظریات کے پیروکاروں کو ساتھ ملا کر آل سعود بادشاہت کے جد امجد ابن سعود نے مکہ و مدینہ میں ہر مزار کو منہدم کیا اور ہر قبر کی بے حرمتی کی۔

اس دور میں چونکہ کمیونیکیشن ذرایع محدود تھے، اس لئے دنیا کے مختلف علاقوں میں آباد مسلمانوں کو اطلاع دیر سے پہنچتی تھی۔ جونہی غیر منقسم ہندستان، عراق اور دیگر جگہوں پر یہ خبریں پہنچیں وہاں سعودی ناصبی خاندان اور اسکے وہابی ناصبی پیروکاروں کے خلاف احتجاج ہوا۔ یہ سب اقعات اردو زبان میں سنی حنفی مولوی عبدالقیوم نے اپنی کتاب تاریخ نجد و حجاز میں سن 1978ع میں بیان کردیے تھے۔

 مدینہ میں امہات المومنین، صحابہ اور اہل بیت نبوۃ کے مزارات کی بے حرمتی

قصہ مختصر یہ کہ مکہ وہ مدینہ میں امہات المومنین، صحابہ اور اہل بیت نبوۃ کے مزارات کو سعودی ابن سعود کی قیادت میں سعودی ناصبی وہابیوں نے مسمار کیا اور قبروں کی بے حرمتی کی۔ اور مسلمانوں کے شدید احتجاج اور ردعمل سے ڈر کر روضہ رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کومسمار کرنے سے رک گیا۔ البتہ کوشش کی تھی کہ گنبد خضراء کو گرادے مگر اس ناصبی گستاخ وہابی پر عذاب آیا وہ ڈر کر بے ہوش ہوکر گرا۔

سن 1920ع کے عشرے میں رونما ہونے والے سانحات

یہ سن 1920ع کے عشرے میں رونما ہونے والے سانحات تھے۔ تب مسلمانوں سے سعودی بادشاہ نے وعدہ کیا کہ وہ مقامات مقدسہ مکہ و مدینہ کو بین الاقوا می اسلامی ٹرسٹ کے زیر انتظام رکھے گا۔ اور اس نے یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر مسلمان مزارات بنانا چاہیں تو اجازت دے گا۔ لیکن تب سے نہ قبروں کی حالت بہتر کی اور نہ ہی مزارات تعمیر کرنے دیے گئے۔

تب سے سعودی عرب امریکا و برطانیہ کے ساتھ مل کر دنیا میں سامراجی سازشوں میں سہولت کار رہا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت سے لے کرآل سعود کا یہی کردار رہا۔

سنی مسلمانوں کا قتل عام کرنے والوں کے ساتھ سعودی بادشاہت کا اتحاد

دوسری جنگ عظیم کے بعد اور خاص طور پر اسرائیل کے قیام کے بعد پوری دنیا میں سنی مسلمانوں کا قتل عام کرنے والوں کے ساتھ سعودی بادشاہت کا اتحاد ایک کھلی حقیقت ہے۔ البتہ مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کے لئے نمائشی اقدامات بھی سعودی حکومت کا پرانا طریقہ ہے۔ مثال کے طور پر او آئی سی 1969ع میں سعودی عرب کی میزبانی میں قائم ہوئی۔

سعودی عرب کا موقف تھا کہ او آئی سی کامستقل ہیڈ کوارٹر بیت المقدس میں ہوگا۔ تب بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضے کودو سال کچھ مہینے گذرے تھے۔ خیر او آئی سی کا عارضی ہیڈکوارٹر جدہ میں قائم ہوا جو آج تک وہاں ہے۔

 سعودی بادشاہ کے صلیبی زایونسٹ دوست

مسجد اقصیٰ میں آ گ لگانے والوں کے خلاف مسلمانوں کے ردعمل کے طور پریہ تنظیم بنائی گئی تھی۔ اسکا ہدف فلسطین کی آزادی تھا۔ اور آج صورتحال یہ ہے کہ بیت المقدس پر سعودی بادشاہ کے صلیبی دوست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اورولی عہد سعودی سلطنت محمد بن سلمان کے زایونسٹ یہودی جیریڈ کشنر نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا ہے۔ یعنی امریکی حکومت نے اسرائیل کے ناجائز غیر قانونی قبضے کو قبول کرلیا ہے۔

مذکورہ بالا واقعات پاکستانی مسلمانوں سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کو رنجیدہ کرنے کا باعث ہیں۔ لیکن بحیثیت پاکستانی بھی معاملہ گھمبیر ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی

ہوا یہ کہ 3اپریل 2016ع کو بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی کو سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اعلیٰ ترین سعودی قومی شاہ عبدالعزیز اعزاز دے دیا۔ بھارت لائن آف کنٹرول کی اعلانیہ خلاف ورزیاں کرتا رہا۔

اور فروری 2019ع میں اسکی ہمت اتنی بڑھی کہ پاکستان میں دراندازی کی۔ دوسری مرتبہ دراندازی کی توپاکستان نے طیارہ مارگرایا اور ابھی نندن نام کے پائلٹ کوزندہ پکڑلیا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈال کر بھارت کو بچالیا۔ سعودی، اماراتی و امریکی دباؤ پر پاکستان نے ابھی نندن کو وقت سے پہلے آزاد کردیا۔

سعودی و اماراتی و بحرینی شیوخ و شاہ  کی خاص مہمان

ابھی پاکستانی قوم اس معاملے پر سوگوار تھی کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھارتی وزیر خارجہ کو او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مدعو کرلیا۔ پاکستان حکومت کی مخالفتکو جوتے کی نوک پر رکھ کر سعودی و اماراتی و بحرینی شیوخ و شاہ نے سشما سوراج کو او آئی سی کے فورم پر خاص مہمان بناکر خوب آؤ بھگت کی۔

سانحہ پانچ اگست 2019ع

اسکے بعد بھارت نے متنازعہ کشمیر کے علاقے پر قبضے کو نئی قانونی شکل دینے کے لئے سانحہ پانچ اگست 2019ع برپا کردیا۔ ٹھیک 19دن بعد یعنی 24اگست 2019ع کو متحدہ عرب امارات نے بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی کو اعلیٰ ترین قومی اعزاز دے دیا۔ اسکے ایک دن بعد بحرین نے اعلیٰ ترین قومی اعزاز دے دیا۔

سیکولر لابی اور انڈیا

اب آپ پوچھیں گے کہ اس ساری روداد کا تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ پنجاب سے کیا ربط و تعلق بنتا ہے۔ تو بہت واضح تعلق بنتا ہے اوریہ تعلق سنی ایکشن کمیٹی کے حنفی بریلوی مولوی قاری زوار بہادر نے بتایا ہے کہ ملک میں سیکولر لابی اور انڈیا پاکستانی مسلمانوں کی مذہبی وبین المسالک ہم آہنگی کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ لیکن خودقاری زوار بہادر بھی اس سازش میں سہولت کار بن چکے ہیں۔ ہوسکتا ہے نادانستہ طور پر بنے ہوں۔

اسلام صرف پاکستان میں نہیں ہے

بھائی قاری زوار بہادر اسلام صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہے اور کئی ممالک میں حکومتیں بھی مسلمانوں کی ہی ہے۔ مولوی صاحبان نہ تو اسلام آج نازل ہوا ہے اور نہ ہی پاکستان آج بنا ہے۔ پاکستان کا آئین آخری مرتبہ متفقہ طور پر منتخب نمائندگان نے 1973ع میں نافذکیا تھا۔ اس میں ترامیم ہوتیں رہیں۔

قرآن و سنت کی فقہی تشریح کرنے کی آزادی

اسکی اسلامی شق آرٹیکل 227 بھی ہے اور228بھی ہے۔ سارے مسلمان مسالک کے جید اور نمائندہ علمائے کرام اور آئینی و قانونی ماہرین کو معلوم ہے کہ نمبر ایک ان شقوں میں مسلمان مسالک یا فرقوں کو قرآن و سنت کی انکی اپنی فقہی تشریح کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ نمبر دو یہ کہ ان شقوں پر اس طرح ہرگز عمل نہیں کیا جائے گا جس سے مسلمان مسالک کے پیروکاروں اورغیر مسلم پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہوں۔

پاکستانی مسلمانوں کو لڑوانے کی سعودی سازش حصہ اول

جب یہ مسئلہ شروع سے آئین پاکستان نے حل کردیا تھا تو اس شق سے متصادم کوئی قانونی مسودہ کیوں لایا گیا۔ اور اس مسودہ کا کریڈٹ لینے والا معاویہ اعظم ہے جو ایک کالعدم دہشت گرد تکفیری ٹولے کا سرغنہ ہے۔

مزارات میں خود کش حملے بم دھماکے

اوراسی کالعدم دہشت گرد ٹولے اور اس کے ہم مسلک دہشت گردوں نے داتا دربار سے لے کر لعل شہباز قلندر، عبداللہ شاہ غازی، مخدوم شاہ بلاول نورانی سمیت کئی ہستیوں کے مزارات میں بم دھماکے بھی کئے ہیں اور خود کش حملہ آوروں کے ذریعے بھی حملے کئے ہیں۔

ان حملوں کی وجہ سے ان مزارات اور قبروں کی بے حرمتی بھی ہوئی اور انکے چاہنے والے زائرین شہید بھی ہوئے۔ چونکہ سعودی عرب کی ناصبی وہابیت زایونسٹ صلیبی اتحاد کی سہولت کار ہے۔

معاویہ اعظم اور لدھیانوی سعودی ایجنٹ

اور یہ اسکا عقیدہ ہے کہ مزارا ت کو منہدم کردو تو معاویہ اعظم اور مولوی لدھیانوی کی لشکر جھنگوی، انجمن سپاہ صحابہ، تحریک طالبان، داعش، جماعت الاحرار یہ سبھی زایونسٹ صلیبی ناصبی سعودی اتحادی کے آلہ کار ہیں۔

یہ جن بزرگان کے مزارات پر معاویہ اعظم اور لدھیانوی کے ہم فکر ہم مسلک ہم جماعت جاکر پھٹے یہ سارے بزرگان سنی اور شیعہ دونوں ہی ان کو رحمت اللہ علیہ بھی کہتے ہیں اور لکھتے ہیں تو رحمت اللہ علیہ کے مزارات پر خود کش حملہ آور دہشت گردی کرنے اور کروانے والے  کب سے بنیاد اسلام کے محافظ ہوگئے!؟۔ ۔

معاویہ اعظم کے بل کے خلاف سنی علماء بھی میدان میں

اسی لئے معاویہ اعظم کے بل کے خلاف سنی علماء بھی اپنا بھرپور موقف بیان کررہے ہیں۔ ہر شخص زوار بہادر کی طرح منافق نہیں ہوتا۔ بھارتی سازش یا سیکولر لابی کی سازش کو صرف بیان کرنا کافی نہیں بلکہ اسے ناکام بنانے کے لیے اس متنازعہ غیرآئینی بل کی مخالفت کرنا چاہیے تھی جو کہ زوار بہادر بریلوی نے نہیں کی۔

ایم ایس مہدی برائے شیعیت نیوز اسپیشل
پاکستانی مسلمانوں کو لڑوانے کی سعودی سازش حصہ اول
سعودی ولی عہد سلطنت ایم بی ایس کا یار مودی
سعودی ولی عہد سلطنت ایم بی ایس کا یار مودی
نامحرم عورت میلانیہ زوجہ ٹرمپ امریکی صدر سے ہاتھ ملانے والے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز
کہاں ہے خلفائے راشدین کی سیرت؟ پاکستان کے کس مولوی نے اس کی مذمت کی آج تک۔ یہ ہے سعودی عرب کا اسلام جو جنت البقیع کے مزارات کو برداشت نہیں کرتا مگر نامحرم خاتون سے ہاتھ ملانے والے پر حرمین شریفین کے خادم کا مقدس غلاف پہناکر پاکستان کے الباکستانی مولوی کو سمجھ میں آج تک نہیں آرہا۔
پنجاب کاتحفظ بنیاداسلام قانون آئین پاکستان سے متصادم
Who desecrated shrine of Omar Ibn Abdul Aziz?

 

ٹیگز
Back to top button
Close