اہم ترین خبریںپاکستان

طاہر اشرفی کی وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے تعیناتی کی اصل وجہ سامنے آگئی

حکومت کی جانب سے طاہر اشرفی کوخصوصی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان غلط فہمیوں کے ازالےمیں اپنا کردار اداکریں ۔

شیعیت نیوز: متحدہ علماءکو نسل اور متحدہ علماءبورڈ پنجاب کےمتنازعہ چیئرمین اورکالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے سہولت کارحافظ طاہر محمود اشرفی کی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی تقرری کے بعد اہم خبر سامنے آگئی۔ طاہر اشرفی کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی کشیدگی کم کروانے کا ٹاسک سونپ دیا گیا۔

ذرائع کےمطابق سعودی شاہی حکومت کے سب سےقریبی پاکستانی مذہبی رہنما سمجھنے جانے والے حافظ طاہر محمود اشرفی کی وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی کی حیثیت سے تعیناتی کا اصل مقصد سامنے آگیا ہے، حکومت کی جانب سے طاہر اشرفی کوخصوصی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان غلط فہمیوں کے ازالےمیں اپنا کردار اداکریں ۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام کواصل خطرہ ان سے ہے!!تکفیری وہابی معلم کی مدرسے میں 14سالہ بچے سے زیادتی

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کے کہنے پر پاکستان پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ چین کے ساتھ معاشی ترقی کے منصوبوں خصوصاً سی پیک پر مزید کام کو فوری روک دے اور یو اے ای، بحرین اور دیگر عرب ممالک کی طرح اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کرےکیوں کے پاکستان سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بناہوا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نا کرنے اور سی پیک پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نا کرنے کے واضح اور دوٹوک موقف کے بعد سعودی عرب نے طاہر اشرفی کے ذریعے پاکستان کو پیغام بھیجا تھاکہ اگر پاکستان ان مطالبات کو تسلیم نہیں کرتا تو فرقہ واریت اور بد امنی کیلئے خود کو تیار رکھے ۔

یہ بھی پڑھیں: مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر قائدین اربعین امام حسین ؑپاکستان میں کرینگے

پاکستان میں حالیہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور شیعہ سنی اختلافات میں شدت اسی سازش کی ایک کڑی ہے، پاکستان نے ان حالات کے تناظر میں حافظ طاہر اشرفی کو سعودی عرب کو قائل کرنے اور مسائل کے ٹھوس اور دیر پاحل کیلئے اہم ذمہ داریاں تفویض کی ہیں ۔

واضح ہے کہ حافظ طاہر اشرفی کی بحیثیت وزیر اعظم کے معاون ونمائندہ خصوصی تعیناتی پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا اظہار کیا گیا تھا، مختلف شعبہ ہائے زندگی کے تعلق رکھنے والے افراد خصوصا ماہر دفاعی تجزیہ کار زید حامد نے کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close