اہم ترین خبریںپاکستان

متنازعہ شخصیت طاہر اشرفی وزیراعظم پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مقرر، شیعہ سنی علماءوعوام کا اظہار برہمی

واضح رہے کہ مولاناطاہر اشرفی بیرون ممالک کے خفیہ اداروں سے کروڑوں ڈالرز کی وصولی ، بیرون ممالک عیاشی ، پاکستان میں کھلے عام شراب نوشی اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے متعدد کیسز میں تحقیقات کا سامنا کرچکے ہیں ۔

شیعیت نیوز: پاکستان میں کالعدم تکفیری دہشت گردجماعت سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے سب سے بڑے سہولیت کار، وطن عزیز میں بھارتی ، سعودی اور امریکی ایماء پر حالیہ دنوں شیعہ سنی منافرت کو ہوا دینے والے پاکستان علماء کونسل کے سربراہ مولانا طاہر اشرفی کو وزیراعظم عمران خان کا نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مقرر کردیا گیا۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مولانا طاہر اشرفی کو اپنا نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مقرر کیا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گایا ہے کہ ان کی تقرری کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور وہ اعزازی طور پر اس عہدے پر کام کریں گے۔

یاد رہے کہ مولانا طاہر اشرفی پاکستان علماء کونسل اور متحدہ علماء بورڈ کے سربراہ ہیں۔خیال رہے وزیر اعظم کا نمائدہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی ماضی میں کالعدم تنظیموں سے روابط اور اپنے بعض حالیہ غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے متنازعہ شخصیت سمجھے جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ میں شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کالعدم سپاہ صحابہ کی گہناؤنی سازش ناکام

واضح رہے کہ مولاناطاہر اشرفی بیرون ممالک کے خفیہ اداروں سے کروڑوں ڈالرز کی وصولی ، بیرون ممالک عیاشی ، پاکستان میں کھلے عام شراب نوشی اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے متعدد کیسز میں تحقیقات کا سامنا کرچکے ہیں ۔

چند ماہ قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی محاذ پر گرما گرمی کے ایام میں سعودی حکومت نے خصوصی طیارہ بھیج کر طاہر اشرفی اور ان کے دونوں صاحب زاداوں کو ریاض طلب کیا تھا اور ذرائع کے مطابق وہاں سے 50ملین سعودی ریال پاکستان لاکر شدت پسند اور سعودی نواز تنظیموں اور شخصیات میں تقسیم کیئے جس کے نتیجے میں پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کو ہوا دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: محمد ؐوآل محمدؑ کی سیرت عملی کا بہترین نمونہ، جیکب آباد کے شیعہ بزرگان نے مکتب تشیع کی توہین کرنے والے کو معاف کردیا

شیعہ سنی معتدل مذہبی قیادت بارہا وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے مطالبہ کرچکی ہے کہ وہ اس متعصب اور متنازعہ شخص کو چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے عہدے سے برطرف کرکے کسی متعدل عالم دین کو متعین کریں اس کے برعکس مذہبی ہم آہنگی کے نمائندہ کے طور پراس متنازعہ شخص کی تقرری سے ہم آہنگی کے لیے وزیراعظم کی سنجیدگی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی مولانا طاہر اشرفی کی بحیثیت وزیراعظم عمران خان کا نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی تقرری پر تمام مکاتب فکر کے صارفین شدید تنقید کا اظہار کررہے ہیں اور اس اقدام کو مولانا کی چاپلوسی ، چمچہ گیری اور سعودی غلامی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔،

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close