اہم ترین خبریںپاکستان

ملک بھر میں تمام لائسنس یافتہ و روایتی جلوس بھرپور مذہبی عقیدت و احترام سے نکالیں گے، علامہ راجہ ناصر عباس

شیعیت نیوز : سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ وحدت ہاوس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام لائسنس یافتہ و روایتی جلوس حسب سابق بھرپور مذہبی عقیدت و احترام سے نکالے جائیں گے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ کورونا کے باعث حکومت کی جانب سے جاری ایس او پیز پر عمل کیا جائے گا تاہم علاقائی انتظامیہ کوقانون کی عمل داری کے نام پر کسی جلوس کے راہ کی رکاوٹ بننے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔تمام لائسنس یافتہ و روایتی جلوس حسب سابق بھرپور مذہبی عقیدت و احترام سے نکالے جائیں گے۔

انہوںنےمطالبہ کیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران عزاداری کے پروگراموں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے تاکہ شر پسند عناصرکو کسی شرپسندی کا موقع نہ مل سکے۔

یہ خبر بھی پڑھیں مظلوم فلسطینیوں کے خون کا سودا کرنے کی کوشش عرب حکمرانوں کو مہنگی پڑے گی، علامہ راجہ ناصر عباس

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ تمام مرکزی جلوسوں کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹ نصب اور اضافی نفری تعینات کر کے کسی بھی شرپسندی کے خدشے کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ صوبے بھر میں وحدت ا سکاؤٹس کے نوجوان مختلف اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ جلوسوں کی حفاظت کی ذمہ داری سرانجام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جلوسوں کے راستوں کی صفائی،اسٹریٹ لائٹس کی بحالی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔کراچی شہر کی تعمیر نو کے لیے جن بڑی سیاسی جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد کی طرف قدم بڑھایا ہے یہی جماعتیں اس شہر کی تباہی کی ذمہ دار بھی ہیں۔

سربراہ مجلس وحدت مسلمین نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم طویل عرصہ تک صوبہ سندھ کی مقتدر طاقت بنے رہے لیکن انتظامی نا اہلی اور عوامی مسائل سے دانستہ چشم پوشی نے روشنیوں کے اس شہر کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ کراچی شہر کی رونقیں بحال کرنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مختلف مذہبی، سیاسی و سماجی جماعتوں اور سینئر بیورکریٹس کو بھی مشاورتی عمل میں شریک رکھا جانا چاہیے۔کراچی کی ترقی و استحکام کیلئے بھرہور عزم کے ساتھ شفافیت اور نیک نیتی اولین شرط ہے۔

انہوں نے کہا رواداری اور باہمی احترام ہمارے مذہب کا حصہ ہیں۔علما کرام کو چاہیے کہ تمام مسالک کے بنیادی عقائد کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے احتیاط کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھیں تاکہ تمام مسالک کے مابین ایک دوسرے کا احترام قائم رہ سکے۔انہوں نے کہا کہ کچھ اضلاع میں ہمارے متعدد ایسے معتدل علما و ذاکرین کے داخلے پر انتظامیہ نے پابندی عائد کر دی ہے جنہوں نے ہمیشہ وحدت و اخوت پر زور دیا اور انہیں اہل تشیع کی طرح اہل سنت برادران بھی احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ اقدام سراسر تعصب پر مبنی ہے اور تکفیری گروہوں کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہے۔
کانفرنس میں علامہ باقر عباس زیدی، علی حسین نقوی،علامہ علی انور،علامہ صادق جعفری،علامہ مبشر حسن،مولانا بشیر انصاری،میر تقی ظفر،نا صر الحسینی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close