اہم ترین خبریںپاکستان

مفتی منیب کی سرپرستی میں ٹی ایل پی کے دہشتگردوں کی مسجد وامام بارگاہ علی رضاؑ پر فائرنگ،علامہ شہنشاہ نقوی کےخلاف گھٹیا زبان کا استعمال

ملت جعفریہ پاکستان وزیر اعظم پاکستان ، آرمی چیف ، چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وطن عزیز کو سعودی ایماء پر شیعہ جنگ کا اکھاڑا بننے سے روکا جائے

شیعیت نیوز: ناموس رسالت ؐو عظمت صحابہ واہل بیت ؑ کانفرنس میں شامل تحریک لبیک پاکستان کے ناصبی دہشت گردوں کی مفتی منیب الرحمن کی سربراہی میں مسجد و امام بارگاہ علی رضاؑ پر فائرنگ ۔ نسل بنوامیہ فائرنگ کے بعد اپنے اجداد کی طرح فرار ، نامور شیعہ عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی کے خلاف توہین آمیز اور غلیظ زبان کا سر عام میڈیا کے سامنے استعمال ،لیکن ریاستی ادارے سوتےرہے تاکہ ملک میں سعودی خوشنودی کے لیے فرقہ وارانہ آگ لگ جائے۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں سعودی پےرول پر فرقہ وارانہ منافرت کی آگ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے، گزشتہ روز تمام دیوبندی ، تکفیری وہابی جماعتوں نے شیعہ کافر ریلیاں نکالیں اور شاہراہ قائدین پر فرقہ وارانہ جلسہ منعقد کیا اور آج تمام بریلوی ناصبی جماعتوں نے مفتی منیب الرحمٰن کی قیادت میں شہر بھر سے شیعہ کافر ریلیاں نکالیں ہیں اور تبت سینٹر پر شیعہ مخالف اجتماع جاری ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: الباکستانیوں کو کافرکافر شیعہ کافر کے چکرمیں لگا کر پہلے آلِ النہیان اور اب آلِ الخلیفہ آلِ یہود کے بھائی بن گئے

شہر کے مختلف علاقوں سے جمع ہونے والے تحریک لبیک پاکستان کے ناصبی دہشت گردوں نے ریاستی سرپرستی میں ایم اے جناح روڈ پر مسجد وامام بارگاہ علی رضا ؑ پر فائرنگ کی الحمد اللہ کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی بعد ازاں حملہ آور آل بنوامیہ اپنے اجدادکی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ، تبت سینٹر پر تکفیری جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مفتی منیب الرحمٰن کی موجودگی میں شیعہ مکتب فکر کو کھلم کھلا چیلنج کیا اور نامور شیعہ عالم دین اور اتحاد بین المسلمین کے داعی علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کے خلاف انتہائی گھٹیا ،نازیبا، غلیظ اور توہین آمیز زبان استعمال کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سید ناصرحسین شاہ کے خلاف بھی فرقہ وارانہ گفتگو کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: لال مسجد کے برقعہ پوش مفرورمولوی کی یزید لعین کی حمایت کےبعدقائد اعظم کےخلاف بکواس

واضح رہے کہ مفتی منیب الرحمٰن کی زیر قیادت شہر کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر جاری اس نام نہاد ناموس رسالت ؐو عظمت صحابہ واہل بیت ؑ کانفرنس کو ریاست پاکستان کے تمام بڑے سکیورٹی اداروں کا تحفظ حاصل تھا، جہاں پاکستان کے ایک مسلمہ دوسرے سب سے بڑے مکتب فکر یعنیٰ شیعہ کے خلاف سرعام تکفیر کے نعرے لگائے گئے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی اولادوں پر لعنت بھیجی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: صحابہ ؓکو اہل بیتؑ کے مقابلے پرلانے کا مقصد فقط فرقہ واریت کو ہوادیناہے،حافظ ریاض نجفی

ملت جعفریہ پاکستان وزیر اعظم پاکستان ، آرمی چیف ، چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وطن عزیز کو سعودی ایماء پر شیعہ جنگ کا اکھاڑا بننے سے روکا جائے، پاکستان جو کہ بڑی مشکل سے معاشی ترقی کے زینے پر چڑھا ہے اسے واپس نیچے دھکا دینے کی کوشش کو ناکام بنایا جائے ، ملک دشمن قوتیں سی پیک اور نئے ایشیائی بلاک کی تشکیل سے خوفزدہ ہیں جس کا واضح ثبوت ملک عزیز پاکستان میں جاری یہ فرقہ وارانہ منافرت ہے جسے سعودی فنڈنگ حاصل ہے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close