اہم ترین خبریںمقالہ جات

ٹریٹ سیداں مری،کالعدم سپاہ صحابہ کے امام بارگاہ پر حملے کےحقائق|| گل زہرا رضوی

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ٹولے کے پاس اسلحہ کیوں تھا اور اسلحے کیساتھ یہ اسلام آباد میں کیونکر گھوم رہے تھے ؟

شیعیت نیوز: کل 17 ستمبر کو کالعدم سپہ یزید نے ڈی چوک پر تحفظ صحابہ کے عنوان سے جلسہ کیا ، جس پر عام شہریوں کے شدید تحفظات تھے اور ٹویٹر پر کئی گھنٹے اسلام آباد انڈر اٹیک کا ٹرینڈ چلتا رہا ۔ اس سے پہلے ذمہ دار شہریوں نے اسلام آباد انتظامیہ کو باور کروایا کہ یہ شر پسند ٹولہ اس جلسے میں شیعہ کافر کے نعرے لگائے گا اور فساد پھیلائے گا ۔ انتظامیہ ، جلسہ تو نہ روک سکی البتہ شہریوں کو یقین دہانی کروائی کہ مذہبی منافرت پر مبنی کوئی کام نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ انتظامیہ بہت حد تک اس وعدے پر عمل پیرا رہی ۔

لیکن جلسہ کروانے والوں کا مقصد شر پھیلانا تھا ۔ انہوں نے جلسے کے اختتام پر واپسی پر مری روڈ پر اپنی ہی گاڑی کے شیشے توڑے اور اس شیشے ٹوٹنے کا الزام شیعوں پر لگا دیا ۔ بالکل ویسے ہی جیسے راجا بازار مدرسہ تعلیم القرآن میں انہوں نے خود سیاہ کپڑے پہن کر اپنے ہی مدرسے پر حملہ کیا اور الزام شیعوں پر لگایا تاکہ فرقہ واریت کی فضا بنے ۔ اپنی ہی گاڑی کے شیشے توڑ کر اسے بنیاد بنا کر اس شر پسند ٹولے نے تریٹ سیداں امام بارگاہ کے پاس سے گزرتے ہوئے علم کی جانب فائرنگ کی ، شیعہ کافر کی نعرہ بازی کی ۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں جاری مذہبی منافرت اور کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کی سرکاری وریاستی سرپرستی کا پردہ فاش ہوگیا

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ٹولے کے پاس اسلحہ کیوں تھا اور اسلحے کیساتھ یہ اسلام آباد میں کیونکر گھوم رہے تھے ؟ شروع دن سے انکا ارادہ مذہبی منافرت پھیلانا تھا ، اور یہ دہشتگرد اسلحہ اپنے ساتھ لیکر آئے تھے ۔ پولیس موقعے پر پہنچی اور اس نے بجائے گرفتاریوں کے محض اس ٹولے کو منتشر کرنے پر اکتفا کیا۔ مری امامبارگاہ میں مومنین نے بصیرت سے کام لیا اور جوابی رد عمل دینے کے بجائے سڑک پر احتجاج شروع کیا جو دھرنے میں بدل گیا۔

اسوقت صورتحال یہ ہے کہ مقامی مومنین کے مطابق ایس ایس پی علی اکبر شاہ نے کل فائرنگ کرنے والے دہشتگردوں پر ایف آئی آر درج کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔پاکستان اس وقت دھیمی آنچ پر سلگ رہا ہے اور یہ آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں کالعدم جماعتوں کا احتجاج اور شیعہ کافر کےنعرے ناجائز و غیر قانونی ہیں، سینیٹر رحمٰن ملک

آئے روز کالعدم گروہ جلسے کر کے ملکی آبادی کے بیس فیصد حصے کو کھلے عام کافر کہہ رہے ہیں ، امامبارگاہوں پر پتھرائو کر رہے ہیں ، شیعوں کو شہید کر رہے ہیں ، اور ریاست خاموش تماشائی بنی دیکھ رہی ہے ۔ پھر کیوں نہ عام پاکستانی یہ سمجھنے سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ ریاست کا مفاد ہی اس خاموشی میں ہے ۔ کیوں نہ عام پاکستانی سوچے کہ دوسرے معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ آگ بھڑکائی جا رہی ہے ؟

تحریر: گل زہرا رضوی

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close