کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشل

ٹرمپ کے دوست بن سلمان کے ”شاندار“ کام

ماریہ کارے فاحشہ کا ناچ گانا مدینۃ الملک عبداللہ الاقتصادیہ میں جمعرات کی مقدس رات کروایا گیا۔ یہ جدید اقتصادی ساحلی شہر صوبہ مکہ میں واقع ہے

تحریر : عین علی / شیعت نیوز اسپیشل جاپان کے شہر اوساکا میں گروپ بیس یا جی ٹوینٹی (G-20) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد سلطنت محمد بن سلمان سے ناشتے پر ملاقات کی۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بن سلمان انکا دوست ہے اور وہ ”شاندار “ کام کررہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی ہے جب بن سلمان کو پوری دنیا میں جمال خاشقچی کے بے رحمانہ قتل کا اصل مجرم سمجھا جارہا ہے اور وہ عالمی سیاسی منظر نامے میں بدترین تنہائی کا شکار ہے۔

ٍ اقوام متحدہ کے خصوصی روداد نویس برائے ماورائے عدالت قتل، ایگنس کلامرڈ نے تحقیقاتی رپورٹ میں بن سلمان اور بعض دیگر سعودی حکام کو شواہد کی بنیاد پر جمال خاشقچی کے قتل کا ذمے دار قرار دیا ہے۔ یعنی ترکی نے جو الزامات لگائے تھے، اقوام متحدہ کی رپورٹ نے گویا اسکی توثیق کردی۔ اوساکا میں ٹرمپ سے جمال خاشقچی قتل میں بن سلمان کے کردار سے متعلق سوال کو صدر ٹرمپ نظر انداز کرتے رہے۔ اسکا کیا مطلب لیا جائے؟ کیا صدر ٹرمپ کی نظر میں جمال خاشقچی کا قتل بھی بن سلمان کے ”شاندار “ کاموں میں سے ایک ہے؟

ماریہ کارے کا ناچ گانا صوبہ مکہ میں ہوا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے بن سلمان کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ”شاندار“ کام کررہا ہے تو ممکن ہے کہ شیطان بزرگ امریکی صدر کی مراد یہی ناچ گانے، نا محرم مرد و خواتین کی مخلوط محفل، بد حجابی بھی وہی ”شاندار“ کام ہوں۔

صدر ٹرمپ نے اب تک قانون ساز ادارے کے کسی بھی فیصلے کو مسترد کرنے کا اختیار یعنی ویٹو پاور محض دو مرتبہ استعمال کیا ہے۔ اور دوسری مرتبہ یہ ویٹو یمن جنگ میں امریکی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ تھا جو امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظور ہوا تھا لیکن صدر ٹرمپ نے اپنے دوست بن سلمان کی شروع کردہ یمن جنگ کے لئے امریکی مدد و معاونت کا سلسلہ ختم کرنے سے صارف انکار کردیا۔ کیا ٹرمپ کی نظر میں سعودی و اماراتی افواج کی جانب سے یمن میں بے گناہ انسانوں کا قتل عام، تباہی و بربادی کرنا بھی انکے دوست بن سلمان کے ”شاندار“ کاموں میں سے ایک ہے؟؟!!

اب 25جون 2019ع کو امریکی سینیٹ میں سعودی عربیہ فالس ایمرجنسیز ایکٹ پیش کردیا گیا ہے جسے ٹرمپ کی اپنی ری پبلکن پارٹی کی بھی حمایت حاصل ہے تو موجودہ اپوزیشن یعنی ڈیموکریٹک پارٹی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ یہ قانونی بل امریکی صدر ٹرمپ کو پابند کرتا ہے کہ وہ امریکی مقننہ کی اجازت کے بغیر ہنگامی اختیارات کے تحت اسلحے کی فروخت نہ کریں۔اس سے قبل 20جون کو امریکی سینیٹ نے بائیس اقدامات کی منظوری دی تھی جس کے تحت وائٹ ہاؤس کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو 8.1بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے سے روکنا ہے۔

امریکی مقننہ کے یہ اقدامات بھی کھوکھلے اور نمائشی ہی ہیں کیونکہ یمن کی جنگ میں امریکی مدد و معاونت کو روکنے میں تو وہ ناکام ہوچکے ہیں البتہ انہوں نے ایک اور فیصلہ یہ سنایا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں کی یمن جنگ میں ری فیولنگ یعنی ایندھن کی فراہمی (جو امریکا کی جانب سے دوران پرواز کی جاتی رہی ہے) اسکے اخراجات کی مد میں تقریباً تیس کروڑ ڈالر میں سے بقایا جات کی ادائیگی کی تفصیلات سے انہیں ہر ماہ آگاہ کیا جائے۔ اس ساری دوڑبھاگ کو ٹرمپ کے اس بیان کے تناظر میں دیکھنے کی ضرور ت ہے کہ سعودی عرب امریکا کی نظر میں دودھ دینے والی گائے ہے!!

کیا ٹرمپ کی نظر میں سعودی و اماراتی افواج کی جانب سے یمن میں بے گناہ انسانوں کا قتل عام، تباہی و بربادی کرنا بھی انکے دوست بن سلمان کے ”شاندار“ کاموں میں سے ایک ہے؟؟!!

ویسے تو فلسطین پر نسل پرستانہ یہودی قبضے کو قانونی حیثیت دلانے والی نام نہاد ”ڈیل آف دی سینچری“ میں سہولت کاری، جعلی ریاست اسرائیل کو خود تسلیم کرنا اور دیگر مسلمان و عرب ممالک پر دباؤ اور لالچ سے تسلیم کروانے کی کوششیں بھی ٹرمپ کے دوست بن سلمان کے ”شاندار“کاموں میں شامل ہیں ہیں لیکن حجاز مقدس میں بے حیائی، عریانیت و فحاشی پھیلاکر زایونسٹ اور صلیبیوں کی آرزوؤں کی تکمیل مذکورہ سارے کاموں کے شاندار ہونے کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

کیا آپ نے امریکی گلوکارہ اور اداکارہ ماریہ کارے کا نام سنا ہے؟ اپنی تسلی کرلیں، تحقیق و تصدیق کرلیں کہ یہ کس کردار کی حامل ہے، اسکا لباس کیسا ہوتا ہے اور یہ کس نوعیت کی شاعری کرتی اور گاتی ہے۔ اس فاحشہ کا مدینۃ الملک عبداللہ الاقتصادیہ میں کنسرٹ کروایا گیا۔ سعودی عرب کا یہ جدید اقتصادی ساحلی شہر صوبہ مکہ میں واقع ہے جبکہ مکہ مکرمہ سے یہ شہر تقریباً سوا گھنٹے جبکہ مدینہ منورہ سے تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ 31جنوری 2019شب جمعہ یعنی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جو اسلام اور مسلمانوں کی نظر میں انتہائی مقدس رات ہوتی ہے، اس مقدس رات میں یہ کنسرٹ کروایا گیا۔

اس سے پہلے دسمبر 2018ع میں فرانسیسی ڈی جے ڈیوڈ گوٹا کا موسیقی کنسرٹ ہوا تھا۔ البتہ وہ ناچ گانا درعیہ میں ہوا تھا جو ریاض کے مضافات میں ہے اور جو بن سلمان کے اجداد کا اپنا مضبوط گڑھ ہے۔اور ماریہ کارے کا ناچ گانا صوبہ مکہ میں ہوا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے بن سلمان کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ”شاندار“ کام کررہا ہے تو ممکن ہے کہ شیطان بزرگ امریکی صدر کی مراد یہی ناچ گانے، نا محرم مرد و خواتین کی مخلوط محفل، بد حجابی بھی وہی ”شاندار“ کام ہوں۔ یہ الگ بات کہ ایک عام مسلمان جو کسی بھی سرزمین پر ایسے کاموں کو ممنوع سمجھتا ہے، وہ مقدس سرزمین میں پر اس حرام کاری کی وجہ سے ایم بی ایس کو بن شیطان کے علاوہ کچھ نہیں کہے گا!!

کیا آپ نے امریکی گلوکارہ اور اداکارہ ماریہ کارے کا نام سنا ہے؟ اپنی تسلی کرلیں، تحقیق و تصدیق کرلیں کہ یہ کس کردار کی حامل ہے، اسکا لباس کیسا ہوتا ہے اور یہ کس نوعیت کی شاعری کرتی اور گاتی ہے۔ اس فاحشہ کا مدینۃ الملک عبداللہ الاقتصادیہ میں کنسرٹ کروایا گیا۔

کہاں ہیں سلفی، وہابی علماء اور انکے پیروکار؟ کہاں ہیں وہ جو سعودی عرب کو اسلام کا ماڈل قرار دیتے ہیں؟! کہاں ہیں خادم حرمین شریفین کے قصیدے پڑھنے والے مولوی؟! کیا ریاست مدینہ ایسی ہوسکتی ہے؟؟ کیا کسی مقدس سرزمین پر ایسی بدکاریاں کروانے والے حکمران خادم حرمین شریفین کہلانے کے لائق ہیں؟! مسئلہ صرف جمال خاشقچی کے قتل کا نہیں، مسئلہ صرف فلسطین کو اسرائیل کے ہاتھوں غلام بنانے تک محدود نہیں، مسئلہ بہت سنگین ہے، حجاز مقدس، عربستان نبوی ﷺ پر آل سعود کا اصلی چہرہ بے نقاب ہورہا ہے، بن شیطان اور اسکے باپ شاہ شیطان کی شیطانیت ہی اس قابض خاندان کا اصل چہرہ ہے۔ اورانکے یہی کرتوت امریکی صدر ٹرمپ کو پسند ہیں!!

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close