مقبوضہ فلسطین

"ٹرمپ کی گائیں” کے ہاتھوں میں فلسطین کی قسمت ؟!

مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، بحرین اور امارات کے برعکس، اپنے تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر نہیں کر رہا ہے ، اور نارمل طور پر سعودی عرب اندرونی اختلافات کی وجہ سے سب سے آخری ملک ہو گا جو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا اعلان کرے گا۔

وہ ثبوت، جو سینئر اسرائیلی عہدیداروں کے بیانات میں دہرائے گئے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بحرین جلد ہی اسرائیل کے ساتھ باضابطہ طور پر تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کرے گا۔ صہیونی عہدیداروں کے مطابق ، بحرین واشنگٹن میں "اسرائیل-متحدہ عرب امارات” امن معاہدے پر دستخط کے فورا بعد ہی اسرائیل سے اپنے تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کرے گا ، اس معاہدے پر 23 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں دستخط کئے جانے کی توقع ہے۔

ان تبدیلیوں کے بیچ، عبرانی زبان کے ٹائمز آف اسرائیل اخبار نے خفیہ اطلاعات کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ دیگر خلیجی عرب ریاستوں خصوصا عمان ، بحرین اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے کی راہ ہموار کرے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، بحرین اور امارات کے برعکس، اپنے تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر نہیں کر رہا ہے ، اور نارمل طور پر سعودی عرب اندرونی اختلافات کی وجہ سے سب سے آخری ملک ہو گا جو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا اعلان کرے گا۔

لندن کالج میں مشرق وسطی کے ایک محقق ، آندریاس گریک کا کہنا ہے کہ ، "بحرین سعودی-اسرائیلی رابطوں کا مرکز بن جائے گا۔”

بدقسمتی کی بات ہے کہ عربوں نے بھی مسئلہ فلسطین اور حتی کہ فلسطینیوں کی تقدیر کو "تیل والے شیخون” پر چھوڑ دیا ہے اور وہ خود "معاشی بحران” اور "ٹرمپ کے انتقام کا خوف” سمیت جھوٹے بہانے اور دعوؤں کو لے کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے ہیں۔

جب کہ وہ بخوبی واقف ہیں کہ "تیل والے شیخ” نہ صرف صہیونی ریاست کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوئے ہیں ، بلکہ اس شیطانی حکومت کی بقا کے اہم عوامل کا حصہ ہیں۔ یہ تیل والے شیخ ہمیشہ امریکی اور صہیونی مفادات کی خدمت میں ہیں، اور آج وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کی خاطر اپنے آقاؤں یعنی ٹرمپ اور نیتن یاہو کو بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جو سیاسی شکست اور مالی فساد میں گرفتار ہیں اپنے آقاووں کو بچانے کے لیے اگر چہ انہیں فلسطین کو داؤ پر ہی کیوں نہ لگانا پڑے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیل والے شیخ یہ بھول گئے ہیں کہ اسرائیل نے اب تک ان کے حق میں ایک گولی بھی نہیں چلائی ہے اور اسے خود زندہ رہنے کے لئے کسی حامی کی ضرورت ہے۔ چونکہ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے شہروں کو شیشے کے شہر بنا لیا ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ ہیں اور شکاری کے لیے ان کو شکار کرنا بہت آسان ہو چکا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close