اہم ترین خبریںپاکستان

طوری بنگش قبائل نے پاکستان کے دفاع کیلئے بیش بہا قربانیاں پیش کیں

شیعت نیوز : پاراچنار میں طوری بنگش قبائل کے عمائدین اور علماء کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں جائیداد کے تنازعے کے علاقے کی غیر یقینی صورتحال اور قبائلی عمائدین کے خلاف درج ایف آئی آر ختم کرنے سمیت اہم مسائل پر بات چیت کی گئی۔

پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ میں ہنگامی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے خطیب جامع مسجد پاراچنار علامہ شیخ فدا حسین مظاہری، سیکرٹری انجمن حسینیہ حاجی سردار حسین، قومی مشران و جوانان، مختلف تنظیموں کے نمائندوں اور سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ طوری قبائل محب وطن ہیں اور انہوں نے روز ازل سے ہی پاکستان کے دفاع اور استحکام کیلئے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔ فورسز اور حکومت کا ساتھ دیا ہے، لیکن اس کے باوجود طوری بنگش قبائل کے نہ صرف مسائل حل نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ ان کے لئے نت نئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا کارگل جنگ کے دو عظیم سپوتوں کو خراج عقیدت

رہنماؤں نے گذشتہ دنوں بالش خیل کی شاملاتی اراضی دو قبائل کے مابین جھڑپوں کے بعد قبائلی عمائدین کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے اور ان کی گرفتاری کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا اور مقدمات فوری طور خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا، رہنماؤں نے کہا کہ چھاپے بند کرکے حالات کو کشیدہ ہونے سے بچایا جائے۔

واضح رہے کہ بالش خیل میں دو قبائل کے مابین جھڑپوں کے بعد پاراچنار کی پانچ اہم شخصیات پر پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کاٹی گئی ہے اور گذشتہ روز ان کی گرفتاری کیلئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپے مارے، جس پر عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور اس واقعے کے خلاف سخت ردعمل سامنے آیا۔

عوام کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے یکطرفہ کارروائی کی ہے جو کہ ظلم اور ناانصافی ہے، دوسری جانب مشران کا ایک نمائندہ وفد حکومتی اعلیٰ عہدیداروں سے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے حوالے سے ملاقات کرے گا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close