مقالہ جات

ترکوں کا کردوں کیخلاف آپریشن یا شمالی شام کی تشکیل ۔۔۔۔۔۔۔؟

واضح رہے کہ شام کے لئے اس وقت اہم ترین مسئلہ دہشتگردوں کیخلاف جاری آپریشن ہے کہ جس پر اس کا تمام تر فوکس دیکھائی دیتا ہے ۔

شیعت نیوز: ترکی جانب سے شام کے کرد نشین سرحدی علاقوں پر آپریشن کی ٹائمنگ انتہائی زبردست ہے ،اس نے خطے کی موجودہ صورتحال کا پورا پورا فائدہ اٹھانے کا سوچا ہے ۔کُرد فورس کے سب سے بڑے حامی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کی بس دیر تھی کہ ترک فورسز نے صلح کاچشمہ نامی آپریشن لانچ کردیا ۔ترکی کے لئے شام کے کردنشین ان علاقوں میں فورسز بھیجنا کچھ زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہونا چاہیے کہ جو علاقہ کئی سالوں سے امریکی حمایت یافتہ کُرد فورس کے کنٹرول میں چلا آرہا ہے ۔

لیکن یہاں سوچنے کی اور سبق حاصل کرنے کی بات یہ ہے کہ کُرد ایک بار پھر اپنے ہی حامی اور اتحادی کی جانب سے پشت پر خنجر گھونپتے دیکھ رہے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ غدار کے ساتھ کوئی بھی غداری کرلیتا ہے اس وقت کردوں کی صورتحال ایسی ہے انہوں نے کردستان کے خیال میں اپنے ملک سے غداری کی اور آج نتیجہ یہ ہے کہ جن پر وہ تکیہ کررہے تھے وہی پتے ہوادینے لگے ہیں ۔

ترکی نے شام کے جس شمالی حصے کو نشانہ بنایا ہے وہ حصہ کُردجنگجووں کے قبضے میں تھا جنہوں نے داعش کیخلاف جاری جنگ کے بہانے امریکی فورسز کو گھس آنے کا گرونڈ فراہم کیا تھا ۔
چھ اکتوبر کو ٹرمپ نے ایک ایسی ٹیویٹ کی جو ترکی کے لئے گرین سگنل ثابت ہوئی ٹرمپ نے لکھا کہ ’’ترک اس پر بھروسہ کرسکتے ہیں‘‘اور 8اکتوبر کو رقہ کے علاقے میں موجود سیرین ڈیموکرٹیک فورسز پر دہشتگردوں کی جانب سے حملوں کا آغاز ہوا ۔

واضح رہے کہ سیرین ڈیموکرٹیک فورسز وہ گروہ ہے جو خود کو سیکولر فورس کہتا ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ کردجنگجووں سے تشکیل پایا ہے ۔

ترک صدر نے اس کاروائی کے وقت یہ بھی کہا کہ اس شام کے صدر بشار الاسد کے مخالف مسلح گروہوں کی مدد بھی حاصل ہے ،اسی دوران ایک کُرد مسلح گروہ کی جانب سے اس بات کا عندیہ بھی دیا گیا کہ وہ ترک جار ح افواج کیخلاف شام کی حکومت کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنانے کے بارے میں غورخوض کررہے ہیں ۔

لیکن دوسری جانب شام اور اس کے اہم اتحادی ایران اور روس اس ساری صورتحال میں کُردوں کی غیر مستقل پالیسی اور بدلتی وفاداریوں کے سبب محتاط دیکھائی دیتے ہیں ۔
شام کے شمالی حصے میں موجود Rojava News Centerکے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ شام کی سرکاری افواج منبج اور دیرالزور میں موجود ہیں کہ جن کے بارے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کا اگلا قدم کیا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کا اپنے اتحادی ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ شام کے لئے اس وقت اہم ترین مسئلہ دہشتگردوں کیخلاف جاری آپریشن ہے کہ جس پر اس کا تمام تر فوکس دیکھائی دیتا ہے ۔

شام یہ بھی جانتا ہے کہ ڈیموکریٹک فورسز شام جہاں شام کی حکومت کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھاچکے ہیں وہیں پر وہ اس کی حمایت میں بھی کوئی قدم نہیں اٹھاچکے ہیں جبکہ اس بات کا پورا امکان ہے کہ وہ مستقبل میں شام کی حکومت کی مخالفت پر اتر آئیں ۔

دو اہم نکتے
الف:ترکی اچھی طرح سمجھتا ہے کہ شام کے اہم اتحادی اس وقت ایسی صورتحال سے دوچار ہیں کہ وہ بہت زیادہ ردعمل نہیں دیکھاینگے ۔
ایران شدید محاصرے کے سبب کبھی بھی اپنے اہم ہمسائیہ اور اقتصادی شراکت دار ترکی کے ساتھ کردوں کے سبب تعلقات خراب کرنے سے گریز کرے گا ۔
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی جانب سے بھی جو بیان سامنے آیا ہے وہ اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے روحانی کا کہنا تھا کہ ’’ترکی جو کچھ کررہا ہے وہ اس حق رکھتا ہے لیکن اسے صحیح راہ کا انتخاب کرنا چاہئے ، ہمیں یقین نہیں ہے کہ منتخب کردہ راستے سے خطے ، شام اور ترکی کو فائدہ ہوسکتا ہے اس وقت بنیادی مسئلہ شمالی شام کا نہیں بلکہ مشرقی فرات کاہے۔ ہماری بنیادی تشویش ادلب کا آپریشن ہے،یہ وہ جگہ ہے جہاں تمام دہشت گرد جمع ہیں‘‘
اسی دوران ایران کے کرد شہروں سے خبریں آرہی ہیں کہ وہاں موجود کردوں نے ترکی کیخلاف احتجاج کیا ہے جبکہ ایرانی اسپیکر نے اپنے دورہ ترکی کو کینسل کردیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں ترکی کے فوجی اقدامات پر عرب لیگ اور عالمی سطح پر مذمت
دوسری جانب روس کا رویہ بھی کچھ اس سے ملتا جلتا دیکھائی دیتا ہے ،روس کبھی نہیں چاہے گا کہ حال ہی میں ترکی کے ساتھ بڑھنے والے تعلقات میں دراڑیں پیدا ہوں ۔
ترکی کا نیٹو ممالک اور امریکی مخالفت کے باوجود روس کے ساتھ ایس 400سودا روس کی ایک بڑی فتح شمار ہوتی ہے اور روس سمجھتا ہے کہ ترکی روس کے حق میں نیٹو ممالک کے اتحاد میں دراڑ پیدا کرسکتا ہے ۔

ب:کردوں کی کوئی کل سیدھی نہیں رہی ہے ،وہ مسلسل ایک کردستان کا خواب دیکھتے آئے ہیں جو عراق شام ترکی اور ایران میں موجود کردوں کے ساتھ مل کر تشکیل پاتا ہے ۔یقینا یہ ایجنڈا چاروں ممالک کی سالمیت اور خودمختاری کیخلاف ہے ۔

یہاں ہم مزید دو ممالک کے بارے میں بھی چند جملے کہنا ضروری سمجھے گے جو سعودی عرب اور اسرائیل ہیں جو شام ،کردوں اور ترک کو لے اپنی اپنی مخصوص پالیسی رکھتے ہیں ۔
اسرائیل اس وقت اندرونی سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے جو ایک حدسے زیادہ اس میں کود نہیں سکے گا گرچہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت اس مسئلے کے بارے میں فعال ہوچکے ہیں ۔

دوسری جانب سعودی عرب مصر میں سیسی کی ہمراہی کے باوجود کسی قسم کا کوئی عمل قدم اٹھانے کے قابل نہیں کیونکہ یمن کی جنگ کے دلدل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے اور اس کی چھیڑی ہوئی جنگ اب اس کے اپنے دروازوں پر دستک دینے لگی ہے۔

کہا جارہا ہے کہ ترکی شام کے اس کرد نشین علاقے کے بارے میں وہی پالیسی رکھتا ہے جو اس نے قبرص Northern Cyprus کے ساتھ رکھا تھا ،یعنی ایک ایسے آزاد علاقے کی تشکیل جو خودمختار اور ترکی پر انحصار کرے یوں شمالی قبرض کی طرح ایک شمالی شام وجود میں آئے ۔

ترکی اگر سمجھتا ہے کہ وہ شمالی شام سے کردوں کو بھگاکر وہاں ان شامی مہاجرین کو آباد کرکےجو اس کے ہاں پناہ گذین ہیں شمالی قبرص کی طرح شمالی شام بناسکتا ہے تو یہ اس قدر آسان نہیں ہوگا ۔

واضح رہے کہ ترکی گذشتہ کئی سالوں سے مسلسل ایک آزادعلاقے کی تشکیل ،نوفلائی زون ایریا جیسے مطالبات کرتا آیا ہے ۔
لیکن اکثر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ترک خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن اسے عمل شکل دینا کوئی آسان کام نہیں ہوگا ،ایسی کوئی بھی کوشش ترکی کو ایک طویل دلدل میں پھنسا سکتی ہے کہ جس سے نکلنا اس کے لئے انتہائی مشکل ہوگا یہاں تک کہ اگر شام میں موجود دہشتگردی کیخلاف جنگ مکمل طور پر ختم بھی ہوجائے لیکن یہ بحران ختم نہیں ہوگا ۔

اسی دوران یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ روس کردوں اور شام کی حکومت کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں ہے اور اس کی کوشش ہے کہ کرد اپنے وطن کی جانب واپسی کی راہ لیں عراقی کرد رہنما فاوری حریری کے حوالے سے یہ خبر نشر ہوئی کہ روسی وزیر خارجہ کے ساتھ اس کی ملاقات میں یہ بات طے پائی ہے کہ روس کردوں اور شام کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے ۔

ادھر ایران کی بھی کوشش رہی ہے کہ کرداپنے وطن کی جانب واپسی کی راہ لیں تاکہ کسی بھی ملک کو ان کیخلاف کاروائی کرنے کا موقع نہ ملے ۔
تو کیا کرد امریکہ اسرائیل ،سعودی عرب ۔۔۔اور کردستان کے خواب کے لئے مدد فراہم کرنے والے ممالک کو چھوڑ کراپنی سرزمین کی جانب لوٹ آینگے ؟۔۔۔تجزیہ کاروں کے مطابق کردوں کی کوشش ہوگی کہاس جنگ کو ترکی کے اندر لے کر جائیں ۔۔۔تو کیا ترکی کے کرد بھی اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں ۔۔۔؟
جاری ہے

بشکریہ : www.facebook.com/FocusonWestandSouthAsiaURDU

ٹیگز

متعلقہ مضامین

یہ بھی ملاحظہ کریں

Close
Back to top button
Close