دنیا

ترکی اور یورپ کے تعلقات نہایت پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ فرانسیسی رکن پارلیمنٹ

شیعت نیوز : فرانس کی ایک خاتون رکن پارلیمنٹ نادیا ایسیان کا کہنا ہے کہ لیبیا کی صورت حال خطر ناک ہے اور یہ تمام فریقوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔

پیرس میں موجود ایسیان نےنیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یورپ کے ترکی کے ساتھ تعلقات نہایت پیچیدہ مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے باور کرایا کہ خارجہ پالیسی کے معاملات میں یورپ کا اتفاق رائے مفقود ہے۔

فرانسیسی رکن پارلیمنٹ کے مطابق ترکی کے تصرفات اشتعال انگیز ہیں اور یہ یورپ کی پالیسی کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔

ادھر قبرص میں مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ ترکی کے ایک بحری جہاز نے قبرص کے ساحلوں کے جنوب مغرب میں قدرتی گیس کی تلاش کے لیے کھدائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یمن میں اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی مہمات مسترد

اگرچہ بین الاقوامی سطح پر ان علاقوں میں کھدائی کا کام روک دینے کے مطالبات سامنے آ چکے ہیں تاہم اس کے باوجود ترکی کی جانب سے یہ کارروائی جاری ہے۔ علاوہ ازیں یورپی یونین بھی ایک سے زیادہ بار کھدائی کے عمل کی مذمت کر چکی ہے بلکہ یہ دھمکی بھی دے چکی ہے کہ اگر ان سرگرمیوں کو توسیع دینے کا سلسلہ جاری رہا تو انقرہ حکومت کو سزا دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ یورپی یونین میں خارجہ تعلقات کے مندوب جوزف بورل نے پیر کے روز کہا تھا کہ لیبیا کی صورت حال خراب ہے اور ہتھیاروں پر عائد پابندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ترکی ، لیبیا کے حوالے سے برلن کانفرنس کے وعدوں کا احترام کرے۔

بورل کے مطابق بحیرہ روم میں ترکی کی جانب سے یک طرفہ اقدامات کئی ممالک کی خود مختاری سے متصادم ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ ترکی پر لازم ہے کہ وہ لیبیا پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کا احترام کرے۔

بورل نے واضح کیا کہ یورپی یونین بحیرہ روم میں ترکی کے تصرفات کو روکنے کے واسطے اقدامات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس حوالے سے کئی آپشن ہیں جن میں ترکی پر پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close