پاکستان

جامعہ کراچی ، شیعہ طلبہ پربم دھماکے میں ملوث جمعیت کے دو کارکناں کو 14 سال قید کی سزا

شیعت نیوز:  جامعہ کراچی میں دوران نماز ظہرین ہونے والے بم دھماکے میں ملوث اسلامی جمعیت طلبہ کے دو کارکنا ں عمیر اور حفیظ اللہ کو انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 14 سال قید کی سزا سنادی ہے، اطلاعات کے مطابق اسلامی جمعت طلبہ سے تعلق رکھنے والے ان دونوں مجرموں کا جامعہ کراچی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائز یش کے طلبہ پر دوران نماز ظہریں بم سے حملہ کرنے کی پلانگ کرنے کے الزام میں 14 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

واضع رہے کہ سن 28 دسمبر 2010 کے روز دوران نماز ظہرین شیعہ طلبہ کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 5 طلبہ شیدید زخمی ہوئے تھے، تاہم کوئی جانی نقصان نہ ہوا کیونکہ نماز اس دوران شروع نہیں ہوئی تھی، بعد از رینجرز انٹیلی جنس نے ٹیلی فون کا ل ریکارڈ کے ذریعے اسلامی جمعیت طلبہ کے کئی کارکناں گرفتا ر کیے جس میں سے ان دو نے اپنا جرم قبول کیا، تفصیلات کے مطابق بم دھماکے کا مواد اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ کراچی کی ایک لڑکی اپنے بیگ میں چھاکر لائی اس نے مواد حفیظ اللہ کو دیا جو غالباً کمپوٹر سائنس یا پیٹرولیم کا طالب علم تھا ،حفیظ اللہ اور عمیر نے دھماکہ خیر مواد امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیش کے اسٹال پر نصب کیا جہاں شیعہ طلبہ نماز باجماعت ادا کرتے تھے ،مواد ایک درخت کی آڑ میں چھپایا گیا تھا، لیکن چند وجوہات کی بنا پر نماز باجماعت تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ سے ٹائمنگ آؤٹ ہوئی اور دھماکہ ہوگیا ، اس موقع پر چند شیعہ طلبہ جو نماز ادا کررہے تھے وہ شدید زخمی ہوئے۔

دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا ،ذرائع نے بتایا کیا دھماکہ موبائل فون کے ذریعے کیا گیا تھا ،موبائل کی یہ کال جامعہ کراچی میں موجود صوفی ہوٹل سے بیٹھ کر کی گئی تھی،یہ وہی صوفی ہوٹل ہے جہاں پر اسلامی جمعیت طلبہ اجتماعی کھانا کھاتی ہے ،جبکہ یہاں پر کئی دکانوں میں جمعیت نے اسلحہ بھی چھایا ہوا ہے۔

گرفتار ملزماں نے تفتش کے دوران یہ بھی بتایا کہ وہ وانا میں ٹریننگ حاصل کرچکے ہیں اور وہاں ہمیں اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی اجتماع میں شرکت کرنےکے بعد بھیجا گیا تھا،انہوں نے بتایا کہ وانا میں انہوں مسلح ٹریننگ حاصل بھی کی ہے، جبکہ انکا ایک ساتھی ثناء اللہ جو جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کا سرگرم کارکن تھا امریکی ڈورن حملے میں ہلاک ہوچکا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close